کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: حرام دوا سے علاج کروانے کے متعلق نہی کا بیان
حدیث نمبر: 7629
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ يَعْنِي السُّمَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبیث دواکے ساتھ علاج کرنے سے منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد زہر تھی۔
وضاحت:
فوائد: … اگر زہر کو مار کر اس کے اثر کو مفید ثابت کر لیا جائے تو یہ اور بات ہو گی، جیسے سانپ کے ڈسنے کا تریاق زہر سے تیار کیا جاتاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7629
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 3459 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10197»
حدیث نمبر: 7630
عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْتَصِرُهَا فَنَشْرَبُ مِنْهَا قَالَ لَا فَعَاوَدْتُهُ فَقَالَ لَا فَقُلْتُ إِنَّا نَسْتَشْفِي بِهَا لِلْمَرِيضِ فَقَالَ إِنَّ ذَاكَ لَيْسَ شِفَاءً وَلَكِنَّهُ دَاءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری سر زمین میں انگور ہیں، ہم ان کو نچوڑ کر (شراب بناتے ہیں) اور پھر پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے پھر اپنی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ہم اس کے ذریعہ بیمار کے لیے شفا طلب کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ شفا نہیں ہے، بلکہ یہ تو خود بیماری ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس سے ثابت ہواکہ شراب سے علاج حرام ہے، اسے پینا بھی حرام ہے اور ہر نجس اور حرام چیز کا یہی حکم ہے۔دیکھیں حدیث نمبر (۷۵۷۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7630
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1984، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18994»
حدیث نمبر: 7631
عَنْ عَقْلَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ يُقَالُ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ عَنِ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ فَقَالَ إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ نَصْنَعُهُ دَوَاءً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هِيَ دَاءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حاضر تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خثعم قبیلہ کے ایک آدمی نے، جس کا نام سوید بن طارق تھا، شراب کے متعلق دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس سے منع فرمایا، اس نے کہا: کیا اس کو بطور دوا استعمال کر لیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو خود بیماری ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7631
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27780»
حدیث نمبر: 7632
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ ذَكَرَ طَبِيبٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَوَاءً وَذَكَرَ الضِّفْدَعَ يُجْعَلُ فِيهِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الضِّفْدَعِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ الرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک حکیم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دوا کا ذکر کیا اور کہا کہ اس میں مینڈک بھی ڈالا جاتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرما دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس سے ثابت ہوا کہ مینڈک کو مارنا منع ہے، سو اسے دوا میں استعمال کرنا اور کھانا بھی منع ہے۔ اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ حرام اور نجس چیز میں شفا نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7632
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3871، 5269، والنسائي: 7/ 210 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15849»