کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: علاج کرنے پر آمادہ کرنے اور اس چیز کا بیان کہ ہر بیماری کی دوا ہے
حدیث نمبر: 7621
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَيْثُ خَلَقَ الدَّاءَ خَلَقَ الدَّوَاءَ فَتَدَاوَوْا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے جہاں بیماری پیدا کی ہے، وہاں اس کا علاج بھی پیدا کیا ہے، پس علاج کیا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7621
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 1، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12596 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12624»
حدیث نمبر: 7622
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ فَإِذَا أَصَابَتْ دَوَاءٌ الدَّاءَ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ تَعَالَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر بیماری کا علاج ہے، جب دواء بیماری کے مطابق ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریض صحت مند ہو جا تا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7622
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2204، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14597 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14651»
حدیث نمبر: 7623
عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَتَدَاوَى قَالَ تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ اسامہ بن شریک اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سے سب سے زیادہ بہتر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو سب سے زیادہ بہتر اخلاق والا ہو۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم علاج معالجہ کروا سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالکل علاج کرواؤ، اللہ تعالیٰ نے جو بیماری نازل کی ہے، اس کی دوا بھی پیدا کی ہے اور شفاء بھی پیدا کی ہے، اسے جان لیا جس نے جان لیا اور اس سے بے خبر رہا ہے، جو بے خبر رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7623
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3855، وابن ماجه: 3436، والترمذي: 2038 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18456 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18647»
حدیث نمبر: 7624
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمُ الطَّيْرُ قَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقَعَدْتُ قَالَ فَجَاءَ الْأَعْرَابُ فَسَأَلُوهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَتَدَاوَى قَالَ نَعَمْ تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ الْهَرَمِ وَفِي رِوَايَةٍ إِلَّا الْمَوْتَ وَالْهَرَمَ قَالَ وَكَانَ أُسَامَةُ حِينَ كَبِرَ يَقُولُ هَلْ تَرَوْنَ لِي مِنْ دَوَاءٍ الْآنَ قَالَ وَسَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ هَلْ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا وَكَذَا قَالَ عِبَادَ اللَّهِ وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ إِلَّا امْرَأً اقْتَضَى امْرَأً مُسْلِمًا ظُلْمًا فَذَلِكَ حَرَجٌ وَهُلْكٌ قَالُوا مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خُلُقٌ حَسَنٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) شعبہ، زیاد بن علاقہ سے اور وہ سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ کے صحابۂ کرام بھی موجود تھے، وہ ایسے باادب بیٹھے تھے جیسے کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کہا اور وہاں بیٹھ گیا، ایک دیہاتی آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم علاج کروا سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! علاج کرواؤ یا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ نے جو بیماری بھی پیدا کی ہے، اس کا علاج بھی پیدا کیا ہے، صرف بڑھاپے کا (اور ایک روایت کے مطابق موت کا بھی) کوئی علاج نہیں۔ جب سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بوڑھے ہو گئے تو وہ کہتے تھے: کیا اب تم میرا علاج کر سکتے ہو۔اس کے علاوہ دیہاتیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ فلاںفلاں چیز میں کوئی حرج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ نے دین میں حرج رکھی ہی نہیں، مگر اس معاملہ میں حرج ہے جو مسلمان ظلم کرتا ہے، یہ حرج ہے، یہ ہلاکت ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سب سے بہتر کیا چیز ہے، جو لوگوں کو عطا کی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھے اخلاق۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7624
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18645»
حدیث نمبر: 7625
عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بِهِ جَرْحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ادْعُوا لَهُ طَبِيبَ بَنِي فُلَانٍ قَالَ فَدَعَوْهُ فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَيُغْنِي الدَّوَاءُ شَيْئًا فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَهَلْ أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ دَاءٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا جَعَلَ لَهُ شِفَاءً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی سے سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے ایک آدمی کی عیادت کی، جسے زخم لگا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو فلاں کا حکیم بلا کر لاؤ۔ لوگوں نے اس کو بلایا اور وہ آ گیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اے اللہ کے رسول! کیا دوا کام آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! زمین میں جو بیماری بھی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی شفاء بھی پیدا کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7625
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 1، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23156 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23543»
حدیث نمبر: 7626
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَإِذَا هُوَ يَكْوِي غُلَامًا قَالَ قُلْتُ تَكْوِيهِ قَالَ نَعَمْ هُوَ دَوَاءُ الْعَرَبِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا وَقَدْ أَنْزَلَ مَعَهُ دَوَاءً جَهِلَهُ مِنْكُمْ مَنْ جَهِلَهُ وَعَلِمَهُ مِنْكُمْ مَنْ عَلِمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عطاء بن سائب بیان کرتے ہیں کہ میں عبد الرحمن کے پاس آیا، وہ ایک غلام کو داغ لگا رہے تھے، میں نے کہا: تم اسے داغتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہاں یہ عرب والوں کا طریقۂ علاج ہے، سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو بیماری بھی پیدا کی ہے، اس کے ساتھ اس کی دواء بھی نازل کی ہے، تم میں سے جو آدمی اس سے نادان رہا ہے، وہ نادان رہا ہے اور جس نے اسے جان لیا ہے، سو اس نے جان لیا۔
وضاحت:
فوائد: … جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت و دانائی کے تقاضے کے مطابق مختلف قسم کی بیماریاں نازل کی ہیں، وہاں اپنے بندوں پر احسان کرتے ہوئے ان کے علاج کے اسباب بھی پیدا فرمائے ہیں۔ عصرِ حاضر میں مختلف بیماریوں کے مختلف قسم کے علاج کی تحقیقات سامنے آ رہی ہیں، جو سکون دہ بھی ہیں اور شافی بھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7626
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الحميدي: 90، والبيھقي: 9/ 343، وابن حبان: 6062، وابويعلي: 5183 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4267»
حدیث نمبر: 7627
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَانَ الْكَيِّ التَّكْمِيدُ وَمَكَانَ الْعِلَاقِ السَّعُوطُ وَمَكَانَ النَّفْخِ اللَّدُودُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: داغنے کے بجائے کپڑے سے سینکنا بہتر ہے، گلے میں انگلی مارکر دوائی لگانے کی بجائے ناک میں قطرہ ڈالنا بہتر طریقہ علاج ہے اور اب گلے میں پھونکیں مارنے کی بہ نسبت منہ کی ایک جانب سے دوائی ڈالنا بہتر طریقہ علاج ہے۔
وضاحت:
فوائد: … کپڑنے سے سینکنے سے مراد یہ ہے کہ کپڑے کو گرم کر کے زخم پر رکھا جائے اور یہ عمل بار بار دوہرایا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7627
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابراهيم بن يزيد النخعي لم يسمع من عائشة، ومغيرة الضبي روايته عن ابراهيم ضعيفة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25885»
حدیث نمبر: 7628
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ ابْنَ أَبِي خِزَامَةَ أَحَدَ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ سَعْدِ بْنِ هُذَيْمٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ دَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَرُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَتُقًى نَتَّقِيهَا هَلْ تَرُدُّ ذَلِكَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو خذامہ، جو بنو حارث بن سعد بن مریم میں سے ہیں، بیان کرتے ہیں: اے اللہ کے رسول! آپ بتائیں کہ ایک دوا کے ذریعہ ہم علاج کرواتے ہیں اور دم کے ذریعے دم کرواتے ہیں اوربچاؤ کے ذریعہ سے ہم بچاؤ اختیار کرتے ہیں (یعنی احتیاط کر لیتے ہیں )کیا یہ امور اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو ردّ کر دیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کاحصہ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … کسی بیماری کا علاج کرنے یا کروانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالی کی تقدیر کا مقابلہ کیا جا رہا ہے، بیماری اللہ تعالی کی آزمائش ہے، ہمیشہ اس سے عافیت کا سوال کرنا چاہیے، اور اگر آدمی اس میں مبتلا ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کا علاج کرے، ممکن ہے کہ شفا ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ شفا نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7628
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، أخرجه الترمذي: 2148، وابن ماجه: 3437، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15553»