کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: گر نے والے، بدک جانے والے اور ماں کے پیٹ میں موجود بچے کا بیان
حدیث نمبر: 7615
عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا فِي الْحَلْقِ أَوِ اللَّبَّةِ قَالَ لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عشراء کے باپ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا جانور کو صرف گرد ن کے گڑھے میں ذبح کیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس کی ران میں بھی نیزہ مارے گا تو کفایت کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، لیکن یہ فقہی مسئلہ ضرور ہے کہ ہر ممکنہ حد تک جانور کو گردن میں ہی ذبح کیا جائے گا، ہاں اگر ایسا کرنا نا ممکن ہو جائے، جیسے جانور بدک جائے،یا وہ واضح طور پر مرنے کے اسباب کے قریب ہو جائے، لیکن اس کی گردن تک نہ پہنچا جا سکتا ہو تو پھر کوئی اور ممکنہ طریقہ استعمال کیا جائے گا، مثلا تیر چلانا، فائر کرنا، تلوار چلانا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيد و الذبائح / حدیث: 7615
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابي العشراء أخرجه الترمذي: 1481، وابن ماجه: 3184، والنسائي: 7/ 228 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18947 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19155»
حدیث نمبر: 7616
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهْبًا فَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْهَا فَسَعَوْا فَلَمْ يَسْتَطِيعُوهُ فَرَمَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوِ النَّعَمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَإِذَا غَلَبَكُمْ شَيْءٌ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ مال غنیمت ملا، اس میں سے ایک اونٹ بدک گیا، لوگو ں نے بہت روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ روکنے کی طاقت نہ رکھ سکے، ایک آدمی نے اس پر تیر پھینکا، تو وہ رک گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بعض اونٹ وحشیوں کی طرح بدک جاتے ہیں، اگر کوئی ایسا جانور تم پر غالب آ جائے تو اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … جس جانور کو پکڑ کر ذبح کیا جا سکے، اس کے ذبح کے قوانین مقرر ہیں، لیکن اگر کوئی ایسا جانور بدک جائے اور اس کو قابو میں لانے کی کوئی صورت نہ ہو تو بسم اللہ پڑھ کر اس پر تیر یا گولی وغیرہ چلا دی جائے، اگر اس کا خون بہہ گیا اور وہ ذبح کرنے سے پہلے مر گیا تو وہ حلال ہو گا، جیسے شکار حلال ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيد و الذبائح / حدیث: 7616
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5503، ومسلم: 1968، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15899»
حدیث نمبر: 7617
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَنِينِ يَكُونُ فِي بَطْنِ النَّاقَةِ أَوِ الْبَقَرَةِ أَوِ الشَّاةِ فَقَالَ كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ جو اونٹنی گائے یا بکری کے پیٹ میں بچہ ہے، جوذبح کرنے کے بعد پیٹ سے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ماں کو ذبح کر نا ہی اس کو ذبح کرنا ہے، اگر مرضی ہو تو کھا لو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيد و الذبائح / حدیث: 7617
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه ابوداود: 2827، والترمذي: 1476، وابن ماجه: 3199 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11280»
حدیث نمبر: 7618
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیٹ کے بچے کے لیے اس کی ماں کا ذبح کرنا ہی کافی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر حاملہ جانور کو ذبح کیا جائے اور اس کے پیٹ سے بچہ نکل آئے، جو مرا ہوا ہو، تو وہ حلال ہی ہو گا، اگر وہ زندہ ہو تو اس کو الگ سے ذبح کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيد و الذبائح / حدیث: 7618
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11363»