کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: کمان سے شکار کرنے کا اور غائب ہو جانے والے یا پانی میں گر جانے والے شکار کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 7586
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہماما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری کمان جس چیز کو شکار کر لے، تو اس کو کھا لے۔
حدیث نمبر: 7587
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَغَابَ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَأَدْرَكْتَهُ فَكُلْ مَا لَمْ يُنْتِنْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم تیر شکار پر پھینکتے ہو اور وہ تین دن تک تم سے غائب ہو جاتا ہے اور پھر اسے پا لیتے ہو تو اس کو کھایا جاسکتا ہے، بشرطیکہ وہ بدبودار نہ ہوا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … یہ ظن غالب ہونا چاہیے کہ یہ وہی جانور ہے، جس پر اِس شکاری نے تیر چلایا تھا اور اسی تیر کی وجہ سے یہ مرا ہے۔
حدیث نمبر: 7588
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ فَيَرْمِي أَحَدُنَا الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنْهُ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ فَيَجِدُهُ وَفِيهِ سَهْمُهُ قَالَ إِذَا وَجَدْتَ سَهْمَكَ وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَهُ وَعَلِمْتَ أَنَّ سَهْمَكَ قَتَلَهُ فَكُلْهُ وَبِلَفْظٍ آخَرَ فَإِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ سَبُعٌ فَكُلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہماری سر زمین شکارکے لیے بہت موزوں ہے، ہم میں سے اگر کوئی شکارکو تیر مارتا ہے اوروہ شکار ایک یا د ودن غائب رہتاہے اور پھر وہ پایا جاتا ہے اور اس میں وہی تیر موجود ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس میں اپنا تیر پاتے ہو اور اس میں کسی اور تیرکے اثرات نہ ہوں اور تم جانتے ہو کہ اسے تمہارے تیر نے ہی مارا ہے تو تم اسے کھا لو۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس میں اپنا تیر لگا ہوا دیکھتے ہیں اور اس سے کسی درندے نے نہ کھایا ہو تو پھر تم وہ شکار کھا سکتے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اگر درندے کے کھانے کے اثرات موجود ہوں تو یہ شبہ پیدا ہو جائے گا کہ ممکن ہے کہ یہ جانور درندے کے کھانے کی وجہ سے مرا ہو۔
حدیث نمبر: 7589
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وَقَعَتْ رَمْيَتُكَ فِي الْمَاءِ فَغَرَقَ فَلَا تَأْكُلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شکار پر تم نے تیر چلایا ہو، لیکن (تیر لگنے کے بعد) وہ پانی میں گر کر مر گیا ہو تو اس کو نہیں کھانا۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ ایسا جانور پانی میں ڈوب جانے کی وجہ سے مرا ہو، اس لیے اس کو حرام سمجھا جائے گا۔