کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: کتے پر بسم اللہ پڑھ کرچھوڑنے کا مسئلہ
حدیث نمبر: 7583
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا أَهْلُ صَيْدٍ فَقَالَ إِذَا رَمَى أَحَدُكُمْ بِسَهْمِهِ فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى فَإِنْ قَتَلَ فَلْيَأْكُلْ وَإِنْ وَقَعَ فِي مَاءٍ فَوَجَدَهُ مَيْتًا فَلَا يَأْكُلْهُ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الْمَاءَ قَتَلَهُ فَإِنْ وَجَدَ سَهْمَهُ فِي صَيْدٍ بَعْدَ يَوْمٍ أَوْ اثْنَيْنِ وَلَمْ يَجِدْ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَ سَهْمِهِ فَإِنْ شَاءَ فَلْيَأْكُلْهُ قَالَ وَإِذَا أَرْسَلَ عَلَيْهِ كَلْبَهُ فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ أَدْرَكَهُ قَدْ قَتَلَهُ فَلْيَأْكُلْ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا يَأْكُلْ فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ وَلَمْ يُمْسِكْ عَلَيْهِ وَإِنْ أَرْسَلَ كَلْبَهُ فَخَالَطَ كِلَابًا لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَلَا يَأْكُلْ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم شکاری لوگ ہیں، اس بارے میں آپ ہمیں ہدایات دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شکار پر اپنا تیر پھینکے تو وہ بسم اللہ پڑھ لے، اگر وہ تیر شکار کو مار بھی دے، پھر بھی کھا لو، لیکن اگر وہ شکار زخمی ہو کر پانی میں گر جائے اور وہیں مر جائے تو پھر نہیں کھانا، کیونکہ ہو سکتا ہے وہ پانی میں ڈوب کر مرا ہو، اور اگرشکار میں تیر لگا ہو اور وہ ایک دو دن بعد میں ملا ہو اور اس میں سوائے تمہارے تیر کے کسی اور کے تیر کا نشان نہ ہو تو اگر مرضی ہوتو کھا سکتے ہو اور جب شکار پر کتا چھوڑا ہو تو چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھ لو، اگر وہ شکار اس حالت میں مر بھی گیا ہو تو اس کو کھا لو اور اگر کتا شکار میں سے کچھ کھا لے، تو پھر نہ کھانا، کیونکہ یہ کتے نے اپنے لیے روکا ہے، شکاری کے لیے نہیں روکا، اگر کتا شکار کے لیے چھوڑا ہے اور اس کے ساتھ دوسرے کتے بھی مل جل گئے ہوں، جن کو چھوڑتے وقت بسم اللہ نہ پڑھی گئی ہو تو پھر اس کو نہیں کھانا، کیونکہ معلوم نہیں کہ ان میں سے کس نے شکار ماراہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيد و الذبائح / حدیث: 7583
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 5475، 5484، ومسلم: 1929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19607»
حدیث نمبر: 7584
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ قَالَ وَكِيعٌ قَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ فَقَالَ وَمَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْهُ فَإِنَّ أَخْذَهُ ذَكَاتُهُ وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبًا آخَرَ فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ جو شکار تیر کے درمیانی موٹے حصے کے لگنے سے مرے گا، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو دھار کی جانب سے تیر شکار کو لگے وہ کھا لو اور جو اس موٹے حصے کی جانب سے لگے، وہ لاٹھی سے مارے ہوئے جانور کی مانند ہے، اسے کھانا جائز نہیں۔ میں نے کتے کے شکار کے متعلق سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام ذکر کیا ہو، اگر وہ کتا شکار روکتا ہے تو کھا لو، لیکن اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا پاتے ہو اور یہ خدشہ ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اُس کتے نے مارا ہو تو پھر شکار نہ کھاؤ، کیونکہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے، دوسرے کتے پر تو نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيد و الذبائح / حدیث: 7584
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18434»
حدیث نمبر: 7585
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَقْرِي الضَّيْفَ وَيَفْعَلُ كَذَا قَالَ إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ شَيْئًا فَأَدْرَكَهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْمِي الصَّيْدَ وَلَا أَجِدُ مَا أُذَكِّيهِ بِهِ إِلَّا الْمَرْوَةَ وَالْعَصَا قَالَ أَمِرَّ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ ثُمَّ اذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قُلْتُ طَعَامٌ مَا أَدَعُهُ إِلَّا تَحَرُّجًا قَالَ مَا ضَارَعْتَ فِيهِ نَصْرَانِيَّةً فَلَا تَدَعْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے باپ حاتم طائی صلہ رحمی کرتے تھے اور کوئی نیک کام کرتے تھے؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے والد نے جس کام کا ارادہ کیا تھا، اس نے اس کو پا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد شہرت اور نمود و نمائش تھی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تیر پھینکتا ہوں اب شکار ذبح کرنے کے لیے میرے پاس صرف پتھر یا لاٹھی ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بسم اللہ پڑھو اور شکار سے خون جاری کردو (یعنی خون جاری کر دینے والا کوئی آلہ استعمال کر لو)۔ میں نے کہا: بعض کھانے ایسے ہوتے ہیں کہ میں ان کو صرف گناہ میں واقع ہونے کے خوف سے چھوڑ دیتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کھانے کو چھوڑنے میں عیسائیت سے مشابہت پیدا ہوتی ہو وہ کھانا نہ چھوڑنا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ شکاری جانور چھوڑتے وقت یا تیر چلاتے اور گولی فائر کرتے وقت بسم اللہ پڑھنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيد و الذبائح / حدیث: 7585
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قصة مضارعة النصرانية، فان ھذه القصة ضعيفة لجھالة مري بن قطري، أخرجه ابن ماجه: 3177 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18250، 18262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18439»