حدیث نمبر: 7276
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً وَزَعَمَ أَبُوهُ أَنَّهُ يَنْزِعُهُ مِنِّي قَالَ أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اورکہا: اے اللہ کے رسول! میرا یہ بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کی حفاظت گاہ رہا ہے اور میری گود نے اسے سمیٹ رکھا تھا اور میرا سینہ اسے سیراب کرتا رہا ہے، اب اس کے باپ کا خیال ہے کہ وہ اسے مجھ سے چھین نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک تو آگے نکاح نہیں کرتی تو ہی اس کی زیادہ حق دار ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب تک ماں آگے شادی نہیں کر لیتی، وہی بچے کی زیادہ مستحق ہو گی۔