کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اعزہ و اقارب پر خرچ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے کس کو مقدم کیا جائے¤اور لونڈی اور غلام پر خرچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7268
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ قَالَ أُمَّكَ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمَّكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمَّكَ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أَبَاكَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے حسن سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ ٓپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کے ساتھ اور پھر جو جتنا زیادہ قریبی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … شریعت میں ماں اور باپ دونوں کا مقام مسلم ہے، ماں کے حق کو مقدم کرنے کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ باپ کے حق کا لحاظ نہ رکھا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النفقات / حدیث: 7268
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 5139، والترمذي: 1897 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20281»
حدیث نمبر: 7269
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ يَقُولُ يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ الَّذِينَ أَصَابُوا فُلَانًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنو یربوع کے ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیچ میں فرمایا: دینے والا ہاتھ بلند ہے، اپنی ماں سے نیکی کرو اور اپنے باپ سے اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے، پھر جو جتنا زیادہ قریب ہو۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ثعلبہ بن یربوع ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی جان دوسرے کے گناہ کے عوض نہیں پکڑی جائے گی (یعنی ہر کوئی اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہو گا)۔
وضاحت:
فوائد: … اوپر والے ہاتھ سے مراد خرچ کرنے والا ہاتھ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النفقات / حدیث: 7269
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرج القسم الاول منه النسائي: 8/ 54 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23202 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23589»
حدیث نمبر: 7270
وَعَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہلے مذکور روایت جیسی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النفقات / حدیث: 7270
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 725 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7105»
حدیث نمبر: 7271
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ دوسرے قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النفقات / حدیث: 7271
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 3661، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17319»
حدیث نمبر: 7272
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ قَالَ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ أَبُوكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سے سب سے زیادہ میری اچھی ہم نشینی کا کون مستحق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: پھرکون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ہے۔ اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تمہارا باپ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النفقات / حدیث: 7272
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5971، ومسلم: 2548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9070»
حدیث نمبر: 7273
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ دِينَارٍ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ وَدِينَارٌ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ مِنْ قِبَلِهِ بِرًّا بِالْعِيَالِ قَالَ وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالِهِ صِغَارًا يُعَفِّهِمُ اللَّهُ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل وہ دینار ہے، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے آدمی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے جانور پر خرچ کرتا ہے۔ ابوقلابہ نے اپنی طرف سے وضاحت کرتے ہوئے کہا: جیسے وہ عیال کے ساتھ نیکی کرتے ہوئے خرچ کرتا ہے اور ابو قلابہ نے ہی کہا: اس آدمی سے بڑھ کر کون بڑے اجر والا ہو سکتا ہے، جو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان بچوں کو اس کے ذریعے سوال کرنے سے بچاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النفقات / حدیث: 7273
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 994 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22820»
حدیث نمبر: 7274
وَعَنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ ثُمَّ عَلَى نَفْسِهِ ثُمَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ فَيَبْدَأُ بِالْعِيَالِ وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَلَمْ يَرْفَعْهُ دِينَارًا نَفَقَةَ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل وہ دینار ہے، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، پھر وہ جو اپنے آپ پر خرچ کرے اور پھر وہ جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرے اور پھر وہ جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: اہل و عیال سے ابتدا کرے، سلیمان بن حرب کہتے ہیں: اسے ابوقلابہ نے ان الفاظ کو مرفوعاً بیان نہیں کیا: افضل وہ دینار ہےاورفضیلت والا بھی کہ جسے آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی سواری پر خرچ کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النفقات / حدیث: 7274
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22739»
حدیث نمبر: 7275
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ إِنْ تُعْطِ الْفَضْلَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ وَإِنْ تُمْسِكْهُ فَهُوَ شَرٌّ لَكَ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَلَا يَلُومُ اللَّهُ عَلَى الْكَفَافِ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے آدم کے بیٹے! اگر تو ضرورت سے زائد بچا ہوا مال اللہ کی راہ میں دے دے گا تو یہ تیرے لیے بہتر ہو گا اور اگر تو اسے روک لے گا تو یہ تیرے لیے برا ہو گا اور خرچ کرنے میں ابتدا اس سے کر جس کی تو کفالت کا ذمہ دار ہے اوراگر تیرے پاس پہلے ہی پورا پورا ہے، تو تجھے اللہ تعالیٰ خرچ نہ کرنے پر ملامت نہیں کریں گے اور اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث میں صدقہ و خیرات کی تلقین بھی کی گئی ہے اور قرابتداروں کی ترتیب بھی بیان کر دی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النفقات / حدیث: 7275
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط : 61 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8728»