کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اگر خاوند کے لیے نان و نفقہ مشکل ہو تو بیوی جدائی کا مطالبہ کر سکتی ہے
حدیث نمبر: 7267
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ مِنْهَا عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ فَقِيلَ مَنْ أَعُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ امْرَأَتُكَ مِمَّنْ تَعُولُ تَقُولُ أَطْعِمْنِي وَإِلَّا فَارِقْنِي وَفِي لَفْظٍ أَوْ طَلِّقْنِي وَجَارِيَتُكَ تَقُولُ أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي وَوَلَدُكَ يَقُولُ إِلَى مَنْ تَتْرُكْنِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے، کہ خرچ کرنے کے بعد پھر بھی مالداری رہے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اس سے شروع کرو جس کی تم کفالت کے ذمہ دار ہو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس کی کفالت کا ذمہ دار ہوں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری بیوی اس میں شامل ہے، وہ کہتی ہے: مجھے کھلاؤ، وگرنہ مجھے طلاق دے دو، تمہاری لونڈی ان میں شامل ہے، وہ کہتی ہے: مجھے کھلاؤ اور کام مہیا کرو، اور تمہاری اولاد بھی اس میں شامل ہے، جو کہتی ہے: مجھے کس کے حوالے کرو گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النفقات / حدیث: 7267
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «القسم الاول منه صحيح، وأما القسم الثاني منه وھو قوله: امرأتك فالصحيح انه موقوف علي ابي ھريرة، أخرجه النسائي في الكبري : 9211، والدارقطني: 3/ 295، والبيھقي: 7/ 470، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10830»