کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رجعی طلاق والی اور قطعی طلاق والی حاملہ کے خرچہ کا بیان
حدیث نمبر: 7253
عَنْ عَامِرٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَحَدَّثَتْنِي أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ لِي أَخُوهُ اخْرُجِي مِنَ الدَّارِ فَقُلْتُ إِنَّ لِي نَفَقَةً وَسُكْنَى حَتَّى يَحِلَّ الْأَجَلُ قَالَ لَا قَالَتْ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ فُلَانًا طَلَّقَنِي وَإِنَّ أَخَاهُ أَخْرَجَنِي وَمَنَعَنِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا لَكَ وَلِابْنَةِ آلِ قَيْسٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَخِي طَلَّقَهَا ثَلَاثًا جَمِيعًا قَالَتْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْظُرِي أَيْ بِنْتَ آلِ قَيْسٍ إِنَّمَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى لِلْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا مَا كَانَتْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ فَلَا نَفَقَةَ وَلَا سُكْنَى اخْرُجِي فَانْزِلِي عَلَى فُلَانَةَ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ يُتَحَدَّثُ إِلَيْهَا انْزِلِي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ أَعْمَى لَا يَرَاكِ ثُمَّ قَالَ لَا تَنْكِحِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُنْكِحُكِ قَالَتْ فَخَطَبَنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْتَأْمِرُهُ فَقَالَ أَلَا تَنْكِحِينَ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَنْكِحْنِي مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَتْ فَأَنْكَحَنِي مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا هَذَا تَقَدَّمَ فِي الْبَابِ السَّابِقِ فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْذَنْ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ بِالنَّفَقَةِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ حَامِلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عامر شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں مدینہ منورہ میں آیا اورسیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے میرے خاوند نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں طلاق دے دی، میرے شوہر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فوجی دستے میں بھیج دیا، بعد میں میرے شوہر کے بھائی نے کہا: تو اب ہمارے گھر سے چلی جا۔ میں نے کہا: نہیں، عدت ختم ہونے تک تمہارے ذمہ میرے لیے خرچہ اور رہائش ہے۔ اس نے کہا: نہیں، ہمارے ذمہ اب کچھ نہیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور میں نے اپنے شوہر کا نام لے کر کہا کہ اس نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اس کے بھائی نے مجھے باہر نکال دیا ہے اور نان و نفقہ اور رہائش سے روک دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ یہ بنت آل قیس یعنی فاطمہ کو کیوں نہیں رہنے دیتے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بھائی نے اسے پوری تین طلاقیں دے دی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے بنت آل قیس! اب دیکھ لو، خرچہ اور رہائش اس شوہر کے ذمہ اس عورت کے لیے ہے، جس کے لیے اسے رجوع کا حق ہو اورجب عورت پر اسے رجوع کا حق نہ ہو گا، تو پھر اس شوہر پر اس عورت کے لیے نہ تو خرچہ ہے اور نہ ہی رہائش ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ اب تم اس گھر سے نکل جاؤ اور فلاں عورت یعنی ام شریک کے گھر منتقل ہو جاؤ۔ لیکن پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے پاس لوگ بیٹھتے اورباتیں کرتے ہیں، لہٰذا تم ابن ام مکتوم کے گھرمنتقل ہو جاؤ،وہ نابینا آدمی ہے، تمہیں دیکھ نہ سکے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نکاح نہ کرنا، میں خود تمہارا رفیق سفر منتخب کروں گا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: مجھے قریش کے ایک آدمی نے منگنی کا پیغام بھیجا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس کے بارے میں مشورہ کے لیے حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس سے نکاح کیوں نہیں کر لیتی، جو مجھے اس قریش سے بھی زیادہ پیارا ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ جس سے محبت رکھتے ہیں، میرا اسی سے نکاح کر دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نکاح سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کر دیا۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے اسامہ سے نکاح کیا تو اس میں اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بہت زیادہ بھلائیاں پیدا کر دیں۔عبید اللہ بن عبد اللہ والی حدیث میں پہلے بیان ہو چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے لیے خرچہ کی اجازت نہ دی تھی فرمایا تھا کہ اگر حاملہ ہوتی توپھر اس کے لیے خرچہ تھا۔
وضاحت:
فوائد: … طلاق بائنہ والی عورت کے نان و نفقہ اور رہائش کا ذمہ دار خاوند نہیں ہے، الا یہ کہ اگر وہ حاملہ ہو تو خاوند کو اس کے نان و نفقہ اور رہائش کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، اللہ تعالی کے درج ذیل فرمان کا بھی یہی تقاضا ہے:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العدد / حدیث: 7253
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه دون قوله: انظري يا بنت آل قيس، انما النفقة والسكني للمرأة علي زوجھا ما كانت عليھا رجعة۔ ففيه وقفة، أخرجه مسلم: 14880 دون ھذه الزيادة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27100 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27640»