کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: متوفّٰی عنہا زوجہا عورت کہاں عدت گزارے گی، آیا ایسی عورت کو نان و نفقہ دیا جائے گا
حدیث نمبر: 7242
عَنْ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجَ زَوْجِي فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَهُ فَأَدْرَكَهُمْ بِطَرَفِ الْقَدُومِ فَقَتَلُوهُ فَأَتَانِي نَعْيُهُ وَأَنَا فِي دَارٍ شَاسِعَةٍ مِنْ دُورِ أَهْلِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقُلْتُ إِنَّ نَعْيَ زَوْجِي أَتَانِي فِي دَارٍ شَاسِعَةٍ مِنْ دُورِ أَهْلِي وَلَمْ يَدَعْ لِي نَفَقَةً وَلَا مَالًا لِوَرَثَتِهِ وَلَيْسَ الْمَسْكَنُ لَهُ فَلَوْ تَحَوَّلْتُ إِلَى أَهْلِي وَأَخْوَالِي لَكَانَ أَرْفَقَ بِي فِي بَعْضِ شَأْنِي قَالَ تَحَوَّلِي فَلَمَّا خَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ إِلَى الْحُجْرَةِ دَعَانِي أَوْ أَمَرَ بِي فَدُعِيتُ فَقَالَ امْكُثِي فِي بَيْتِكِ الَّذِي أَتَاكِ فِيهِ نَعْيُ زَوْجِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ قَالَتْ فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا قَالَتْ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَخَذَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں: میرا خاوند اپنے مضبوط جسم والے غلاموں کی تلاش میں نکلا، جوبھاگ گئے تھے، اس نے ان غلاموں کو قدوم مقام پر پا تو لیا، لیکن ہوا یوں کہ انہوں نے مل کر میرے خاوند کو قتل کر دیا، میرے خاندان والوں کے اس گھر میں مجھے میرے خاوند کی موت کی اطلاع ملی جو آباد ی سے دور تھا اور نہ ہی میرے خاوند نے میرے لئے کوئی خرچہ چھوڑا تھا، نہ ہی ورثاء کے لیے کوئی مال چھوڑا اور نہ ہی ان کا اپنا گھر ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ ساری باتیں بیان کیں اور میں نے اجازت طلب کی کہ میں اپنے ماموؤں کے گھر میں اگر منتقل ہو جاؤں تو میرے لیے زیادہ بہتر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، منتقل ہو جاؤ۔ جب میں آپ کے پاس سے نکل کر مسجد یا حجرہ تک ہی پہنچی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: اپنے اسی گھر میں عدت پوری ہونے تک ٹھہری رہو، جس میں تمہارے خاوند کی وفات کی اطلاع آئی تھی۔ پس میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت گزاری۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں میری طرف پیغام بھیجا، میں نے انہیں اس مسئلہ کی خبر دی تو پھر انہوں نے اسی کے مطابق عمل کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ عدت وفات میں عورت کے لیے خاوند کے گھر ٹھہرنا ضروری ہے، جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے، شدید ضرورت کے تحت گھر سے نکل سکتی ہے، لیکن کام سے فارغ ہو کر فوراً گھر لوٹے، رات باہر مت گزارے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العدد / حدیث: 7242
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2300، والترمذي: 1204، والنسائي: 6/199، وابن ماجه: 2031، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27627»
حدیث نمبر: 7243
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا قَالَ فَكُنْتُ أَرَاهُ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ عَلَيْهَا قَالَ وَقَضَى فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ قَضِيَّاتٍ إِنَّ مَوَالِيَهَا اشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ (وَقَالَ هَمَّامٌ مَرَّةً عِدَّةَ الْحُرَّةِ) قَالَ وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ فَأَهْدَتْ مِنْهَا إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر ایک سیاہ رنگ کا غلام تھا،اس کو مغیث کہا جاتا تھا، میں نے اسے دیکھا کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں بریرہ کے پیچھے پیچھے روتا تھا اور آنسو بہاتا تھا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں چار فیصلے نافذ کیے: اس کے آقاؤں نے شرط لگائی تھی کہ ولاء ان ہی کے لیے ہو گی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ ولاء کی نسبت اس کے لیے ہے، جس نے آزاد کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بریرہ کو مغیث کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیا تھا اور انھوں نے اپنے نفس کو اختیار کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آزاد خاتون کی عدت گزارنے کا حکم دیا، اور سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا، پس اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی اس سے دیا، جب سیدہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بریرہ کے لیے صدقہ ہے، ہمارے لیے ہدیہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر میاں بیوی دونوں غلامی میں ہوں تو بیوی کو آزاد کر دیا جائے تو اسے اپنے غلام خاوند کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار مل جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العدد / حدیث: 7243
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه مختصرا بنحوه البخاري: 5280 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3405 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3405»