کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جو قصداً اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے اور جو شخص اپنی ہی اولاد سے انکار کرے اس کی سزا کا بیان
حدیث نمبر: 7224
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا رَجُلٍ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ وَالِدِهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ الَّذِينَ أَعْتَقُوهُ فَإِنَّ عَلَيْهِ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی اولاد ہونے کا دعوی کیا، یا آزاد شدہ غلام نے اپنے ان آقاؤں کے علاوہ، جنہوں نے اس کو آزاد کیا تھا، کسی اور کو اپنا آقا قرار دیا تو اس پر قیامت تک اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تما م لوگوں کی لعنت ہو گی،ایسے شخص کی نفلی اور فرضی عبادت قبول نہیں ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7224
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 2609 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2921»
حدیث نمبر: 7225
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْرَى الْفِرَى مَنِ ادَّعَى غَيْرَ أَبِيهِ وَأَفْرَى الْفِرَى مَنْ أَرَى عَيْنَيْهِ فِي النَّوْمِ مَا لَمْ تَرَيَا وَمَنْ غَيَّرَ تَخُومَ الْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا جھوٹ اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کرنا ہے، اسی طرح یہ بھی بہت بڑا جھوٹ ہے کہ انسان ایساخواب بیان کرے، جو اس نے دیکھا ہی نہیں اور جو زمین کی علامات کو تبدیل کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7225
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5998 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5998»
حدیث نمبر: 7226
عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَبَا بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسَوَّرَ حِصْنَ الطَّائِفِ فِي نَاسٍ فَجَاءَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ مَنِ ادَّعَى إِلَى أَبٍ غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عثمان سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں سب سے پہلا تیر پھینکا تھا اور سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ ، جنہوں نے کچھ لوگوں سمیت طائف کا قلعہ پھلانگا تھا، ان دو صحابہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کی، اس پر جنت حرام ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7226
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4326، 4327، ومسلم: 63، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1497»
حدیث نمبر: 7227
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ لَمَّا ادَّعَى زِيَادٌ لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقُلْتُ مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ إِنِّي سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعَتْ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ وَأَنَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ) وَأَنَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَى قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عثمان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب زیاد نے دعویٰ کیاتومیں سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ملا میں نے کہا: تم نے یہ کیا کیا ہے؟ اس کے جواب میں سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے خود اپنے کانوں سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے غیر باپ کی طرف باپ ہونے کی نسبت کی اور جانتے ہوئے ایسا کیا ،تو اس پر جنت حرام ہو گی۔ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، ایک روایت میں ہے: میرے کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یاد کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7227
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6766، 6767، ومسلم: 63 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1454»
حدیث نمبر: 7228
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُفْرٌ تَبَرُّؤٌ مِنْ نَسَبٍ وَإِنْ دَقَّ أَوِ ادِّعَاءٌ إِلَى نَسَبٍ لَا يُعْرَفُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نسب اگرچہ معمولی ہو، مگر اس سے بیزاری کا اظہار کرنا یا کسی غیر معروف نسب کی طرف اپنی نسبت کرناکفر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7228
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابن ماجه: 2744 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7019»
حدیث نمبر: 7229
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا كَفَرَ وَمَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّا وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَمَنْ دَعَا رَجُلًا بِالْكُفْرِ أَوْ قَالَ عَدُوَّ اللَّهِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ إِلَّا حَارَ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا: جس شخص نے جان بوجھ کر اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کی، اس کے لئے سوائے کفر کے کچھ اور نہیں، جس نے کسی ایسی چیز کا دعوی کیا، جو درحقیقت اس کی ہے ہی نہیں، تو وہ ہم میں سے نہیں اور اس شخص کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے اور جس شخص نے کسی کو کافر یا اللہ کا دشمن کہا، جبکہ وہ ایسا نہ ہو تو کہنے والا خود اپنی بات کا مصداق ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7229
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه تامّا ومقطعا البخاري: 3508، 6045، ومسلم: 61، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21465 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21797»
حدیث نمبر: 7230
عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنِ انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ كُفَّارٍ يُرِيدُ بِهِمْ عِزًّا وَكَرَمًا فَهُوَ عَاشِرُهُمْ فِي النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے عزت وشرف کے حصول کی خاطر اپنے نو کافر آباؤاجداد کی طرف اپنی نسبت کی تو جہنم میں ان کے ساتھ دسواں وہ خود ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7230
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، أخرجه ابويعلي: 1439، والطبراني في الاوسط : 446 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17212 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17344»
حدیث نمبر: 7231
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((مَنِ انْتَفٰی مِنْ وَلَدِہٖ لِیَفْضَحَہُ فِی الدُّنْیَا فَضَحَ اللّٰہ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رُؤُوسِ الْاَشْہَادِ، وَقِصَاصٌ بِقِصَاصٍ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنی اولادکو دنیا میں رسوا کرنے کے لئے اس کا انکار کر دیا، قیامت والے دن اللہ اس کو سرِعام رسوا کرے گااور قیامت والے دن ادلے کا بدلہ ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … تمام روایات اپنے مفہوم میں واضح ہیں، اگر مسلمان کے نسب کو کم تر سمجھا جاتا ہو، تو اس کو چاہیے کہ وہ اس پر راضی ہو کر صبر کرے اور اگر وہ اعلی نسب ہو تو وہ اس پر فخر اور ناز نہ کرے، کسی کی عزت یا بے عزت کی خاطر نہ نسبت بدلنا چاہیے اور نہ کسی کے نسب کا انکار کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7231
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير : 13478، والبيھقي: 8/ 332 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4795 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4795»