حدیث نمبر: 7223
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ مُجَزِّزٌ الْمُدْلِجِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ وَقَدْ غَطَّيَا رُؤُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ وَقَالَتْ مَرَّةً دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَسْرُورًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ قبیلہ مدلج کا ایک قیافہ شناس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جب اس نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے باپ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں لیٹے ہوئے دیکھا کہ ان دونوں نے ایک چادر اوڑ ھ کر اپنے سر ڈھانپ رکھے تھے، جبکہ ان دونوں کے پا ؤں چادر سے باہر تھے۔ اس نے دیکھتے ہی کہا: یقینا یہ پاؤں ایک دوسرے (باپ بیٹے) ہی کے معلوم ہوتے ہیں۔سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس واقعہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے حد خوش تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اصل واقعہ یوں ہے کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے بیٹے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ تھے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ سفید اور چمکدار رنگت والے تھے اورسیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ گہرے سیاہ رنگ کے تھے، اس رنگت کی وجہ سے قریشی لوگ اوردیگر جہالت والے ان کے نسب میں طعنہ زنی کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت تکلیف ہوتی تھی اور جب کھوجی اورقیافہ شناس نے کہا کہ یہ قدم بتاتے ہیں کہ یہ باپ بیٹا ہیں اور لوگ کھوجی کی بات پر بہت زیادہ اعتماد کیا کرتے تھے، پس قیافہ شناس نے جب انہیں باپ بیٹا قرار دیا تو اس پر آپ کے چہرہ پر انوار کی ہر لکیر سے مسرت و شادمانی کی لہر اٹھنے لگی۔