کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس چیز کا بیان کہ بچہ اس کا ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوا، نیز بچے کو اس کے والد سے ملانے اور نسب کا دعوی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7212
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اولاد اسی شخص سے منسوب ہوگی، جس کے بستر پر پیدا ہوئی ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7212
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 173 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 173»
حدیث نمبر: 7213
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوَلَدُ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا: بچہ بستر والے کا ہو گا، جبکہ زانی کے لئے پتھر ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … شادہ شدہ عورت سے جو بچہ پیدا ہو، وہ خاوند ہی سے متصور ہو گا، اسی طرح لونڈی سے جو بچہ پیدا ہو، وہ اس کے مالک ہی کا متصور ہو گا، جب تک خاوند یا مالک کسی دلیل کی بنا پر نفی نہ کرے، کیونکہ بچے کے جائز یا ناجائز ہونے کا مسئلہ مخفی ہوتا ہے اور اس کی تہہ تک پہنچنا مشکل امر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7213
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6750، 6818، ومسلم: 1458 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9291»
حدیث نمبر: 7214
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح بیان فرماتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7214
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
حدیث نمبر: 7215
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اخْتَصَمَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ قَالَ عَبْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخِي ابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ وَقَالَ سَعْدٌ أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتَ مَكَّةَ فَانْظُرْ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ فَاقْبِضْهُ فَإِنَّهُ ابْنِي فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ قَالَ هُوَ لَكَ (وَفِي لَفْظٍ هُوَ أَخُوكَ) يَا عَبْدُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس عبد بن زمعہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جھگڑا کیا، عبد بن زمعہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا بھائی ہے، کیونکہ یہ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھائی نے جب میں مکہ میں آیا تھا تو کہا تھا کہ جب تو مکہ میں آئے تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو دیکھنا وہ میرا بیٹا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچے کی مشابہت تو عتبہ کے ساتھ دیکھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبد! یہ تیرا بھائی ہے، بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہو۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سودہ! اس سے پردہ کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … جس بچے کے بارے میں جھگڑا تھا، وہ زمعہ کی لونڈی سے پیدا ہوا تھا، حقیقتاً وہ عتبہ کے ناجائز نطفے سے تھا، جاہلیت میں لونڈیوں سے زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کو دعوی کرنے والے زانی کی طرف منسوب کر دیا جاتا تھا، سعد رضی اللہ عنہ کا دعوی اسی جاہلی رواج کی بنا پر تھا، لیکن اسلام نے اس قبیح رسم کو ختم کیا کہ اب زانی کی طرف بچہ منسوب نہیں ہو گا، عورت کا خاوند یا مالک انکار نہ کرے تو اسی کا بیٹا ہو گا، اگر وہ انکار کر دے تو جننے والی ماں کی طرف منسوب ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7215
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2421، ومسلم: 1457 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24086 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24587»
حدیث نمبر: 7216
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ قَالَ إِنَّ بِنْتَ زَمْعَةَ قَالَتْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ أَبِي زَمْعَةَ مَاتَ وَتَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ وَإِنَّا كُنَّا نَظُنُّهَا بِرَجُلٍ أَنَّهَا وَلَدَتْ فَخَرَجَ وَلَدُهَا بِشِبْهِ الرَّجُلِ الَّذِي طَنَنَّاهَا بِهِ قَالَتْ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهَا أَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ فَلَيْسَ بِأَخِيكِ وَلَهُ الْمِيرَاثُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ آل زبیر کے مولی مجاہد بیان کرتے ہیں، زمعہ کی بیٹی یعنی ام المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے کہا: میرے باپ زمعہ فوت ہو چکے اور ایک لونڈی ام ولد جس سے بچہ پیداہوا ہے، چھوڑ گئے ہیں، ہم اسے ایک آدمی (عتبہ بن ابی وقاص) کے ساتھ تہمت لگاتے تھے کہ اس نے اس سے زنا کیا ہے، اتفاق ایسا ہے کہ جو بچہ اس نے جنم دیا ہے، وہ اسی عتبہ کے مشابہ ہے، جس کے ساتھ ہم نے تہمت لگائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا: تم اس سے پردہ کیا کرو، وہ تیرا بھائی نہیں ہے، البتہ اسے وراثت ملے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7216
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ھذا اسناد ضعيف، مولي آل الزبير وھو يوسف بن الزبير مجھول الحال، لكن قوله: احتجبي منه صحيح من حديث عائشة كما تقدم في الحديث السابق ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27964»
حدیث نمبر: 7217
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَبَاحٍ قَالَ زَوَّجَنِي أَهْلِي أَمَةً لَهُمْ رُومِيَّةً فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي فَسَمَّيْتُهُ عَبْدَ اللَّهِ ثُمَّ وَقَعْتُ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي فَسَمَّيْتُهُ عُبَيْدَ اللَّهِ ثُمَّ طَبِنَ لَهَا غُلَامٌ لِأَهْلِي رُومِيٌّ يُقَالُ لَهُ يُوحَنَّسُ فَرَاطَنَهَا بِلِسَانِهِ قَالَ فَوَلَدَتْ غُلَامًا كَأَنَّهُ وَزَغَةٌ مِنَ الْوَزَغَاتِ فَقُلْتُ لَهَا مَا هَذَا قَالَتْ هُوَ لِيُوحَنَّسَ قَالَ فَرُفِعْنَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَهْدِيٌّ أَحْسَبُهُ قَالَ سَأَلَهُمَا فَاعْتَرَفَا فَقَالَ أَتَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ قَالَ مَهْدِيٌّ وَأَحْسَبُهُ قَالَ جَلَدَهَا وَجَلَدَهُ وَكَانَا مَمْلُوكَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ رباح کہتے ہیں: میرے گھر والوں نے ایک رومی لونڈی کے ساتھ میری شادی کر دی، اس سے ایک سیاہ رنگ کا لڑکا پیدا ہوا جو میری ہی مانند تھا، میں نے اس کا نام عبد اللہ رکھا۔ میں پھر اس سے ملا، اس نے میری مانند ہی ایک اور سیاہ فام لڑکا جنم دیا اس کا نام میں نے عبید اللہ رکھا، ہمارے گھروالوں کا ایک رومی غلام تھا، اس نے اسے ورغلایا، اس کا نام یوحنس تھا، اس غلام نے اس لونڈی سے منہ کالا کیا، اس لونڈی نے بچہ جنم دیا جس طرح کہ چھپکلی ہوتی ہے، یعنی سرخ سفید رنگ کاتھا، میں نے اس لونڈی سے کہا: یہ کیا ہے؟ اس نے صاف بتا دیا کہ یہ یوحنس کا ہے، معاملہ ہم نے امیر المومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب اٹھایا، مہدی بن میمون کہتے ہیں: ان دونوں نے اعتراف گناہ کیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہارے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا فیصلہ کروں؟ تو تم پسند کروں، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ہے کہ بچہ بستر والے کے لیے ہے اور زانی کو پتھر ملے گا۔ مہدی کہتے ہیں: یہ دونوں چونکہ غلام تھے ،اس لیے ان دونوں کو کوڑے لگائے گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7217
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة رباح، أخرجه ابوداود: 2275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 416»
حدیث نمبر: 7218
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ يُحَدِّثُ عَنْ رِبَاحٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ فَأَلْحَقَهُ بِي قَالَ فَجَلَدَهُمَا فَوَلَدَتْ لِي بَعْدُ غُلَامًا أَسْوَدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)رباح سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: انھوں نے وہ لڑکا میرے نسب کے ساتھ ملا دیا تھا اور ان دونوں کوکوڑے لگائے اور رباح کہتے ہیں: اس کے بعد اس لونڈی نے بچہ جنم دیا تھا، وہ بھی سیاہ رنگ کا تھا (جیسا کہ میرا رنگ تھا۔)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7218
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 467»
حدیث نمبر: 7219
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ كُلَّ مُسْتَلْحَقٍ يُسْتَلْحَقُ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ مِنْ بَعْدِهِ فَقَضَى إِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنِ اسْتَلْحَقَهُ وَلَيْسَ لَهُ فِيمَا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ وَلَا يُلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَا يَمْلِكُهَا أَوْ مِنْ حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا فَإِنَّهُ لَا يُلْحَقُ وَلَا يَرِثُ وَإِنْ كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ الَّذِي ادَّعَاهُ وَهُوَ وَلَدُ زِنًا لِأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا حُرَّةً أَوْ أَمَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ جاری فرمایا ہے کہ ایک لڑکا یا لڑکی جس کے نسب کو اس کے باپ کے ساتھ ملایا گیا ہو، جس کے نام پر اسے پکارا جاتا ہے اور ملایا گیا ہو، اس کے باپ کے مرنے کے بعد اور پھر اس مرنے والے باپ کے اس کے بعد اس لڑکے یا لڑکی کے دعویدار بھی ہوں کہ یہ اس کا ہے اور اس لونڈی کے بارے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فیصلہ کیا گیا کہ جس کا وہ اس دن مالک بنا ہو جس دن اس سے جماع کیا تھا اس اولاد کے نسب کو اس کے ساتھ ہی ملایا جائے گا، جس نے اس کے نسب ملانے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن اس کے نسب کے ملانے سے پہلے جو اس کے باپ کی وراثت تقسیم ہو چکی ہو، اس میں سے اس ملائے گئے کو کچھ حصہ نہ ملے گا اور جو وارثت ابھی تقسیم نہیں ہوئی اس کو اگر پا لے تو اس میں سے اس ملائے گئے کوحصہ ملے گا اور اس لڑکے یا لڑکی کے ملانے کا اگر وہ شخص جس کے لیے پکارا جاتا ہے انکار کر دے اور اگر وہ اس کی اس لونڈی سے ہو جس کا وہ مالک نہ تھا یا آزاد عورت سے ہو جس سے اس نے زنا کیا تھا تو اس صورت میں اسے نہ تو اس کے نسب سے ملایا جائے گا اور نہ ہی لڑکا یا لڑکی اس کا وارث ہو گا۔ اور اگر اس لڑکی یا لڑکے کا وہ باپ جس کے لیے اسے پکارا جاتا ہے اس کا دعویٰ کرے تو وہ لونڈی سے ہو یا آزاد سے ہو تو وہ ولد الزنا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس سے ثابت ہواکہ ایک آدمی کی بیوی ہے جس سے اس نے نکاح کیا ہے یا لونڈی ہے اس سے جماع کیا ہے اس سے اگر بچی یا بچہ پیدا ہوتا ہے اور اتنی مدت میں ہوتا ہے جس میں بچہ پیدا ہونے کا امکان ہے جو کہ چھ ماہ کی مدت ہے وہ عورت اس خاوند کے بستر پر بچی یا بچہ کوجنم دیتی ہے اب اگرچہ وہ اس آدمی کا ہم شکل ہو یا وہ بچی یا بچہ اس کا ہم شکل نہ ہو اسے اس آدمی کے نسب کے ساتھ ہی ملایا جائے گا اور یہ بچی یا بچہ اس کا وارث بھی ہو گا یہ تو اس آدمی کی زندگی میں ہو گا اگر وہ آدمی فوت ہو جائے اور اس کے ورثا اگر اس بچی یا بچے کا نسب اس کی وفات کے بعد بھی ملائیں تو نسب ا سے ملایا جائے گا لیکن اگر وہ آدمی جس کی طرف اس بچی یا بچے کی نسبت کی جا رہی ہے وہ اس بچی یا بچے کی نسبت سے انکار کرے تو پھر یہ اس آدمی کا نہ تو نسب شمار ہو گا اور نہ ہی یہ بچی یا بچہ اس کا وارث ہو گا یہی صورت تب بھی ہو گی جب ایسی لونڈی سے بچہ ہو جو اس آدمی کی ملکیت نہیں اور آزاد عورت سے ہو مگر اس سے زنا کیا ہو اس کا نہ تو نسب ثابت ہو گا نہ ہی یہ بچہ اس آدمی کا وارث ہو گا اگر یہ آدمی اس بچے کا دعویٰ بھی کرے گا تو یہ زانی ہو گا اور بچہ ولد زنا شمار ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7219
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2265، وابن ماجه: 2746 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7042»
حدیث نمبر: 7220
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ مَنْ سَاعَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَدْ أَلْحَقْتُهُ بِعَصَبَتِهِ وَمَنِ ادَّعَى وَلَدَهُ مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ فَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں اجرت پر زنا کاری کا کوئی وجود نہیں،جس نے جاہلیت میں ایسا کیا ہے تو میں اس کا نسب اس کے باپ کے رشتہ داروں سے جوڑتا ہوں اور جو کوئی بغیر نکاح کے کسی کا باپ ہونے کا دعوی کرے تو نہ بچہ اس کا وارث ہوگا اور نہ ہی وہ اس بچے کا وارث ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … ثات ہوا کہ زنا سے نسب و وارثت ثابت نہیں ہوتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7220
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 2264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3416»
حدیث نمبر: 7221
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْيَمَنِ فَأُتِيَ بِامْرَأَةٍ وَطِئَهَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ فَلَمْ يُقِرَّا ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ فَلَمْ يُقِرَّا ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ حَتَّى فَرَغَ يَسْأَلُ اثْنَيْنِ اثْنَيْنِ عَنْ وَاحِدٍ فَلَمْ يُقِرُّوا ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَلْزَمَ الْوَلَدَ الَّذِي خَرَجَتْ عَلَيْهِ الْقُرْعَةُ وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ فَرُفِعَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے، آپ کے پاس ایک عورت لائی گئی، جس کے ساتھ ایک طہر میں تین افراد نے جماع کیا تھا، آپ نے ان میں سے دو افراد سے کہا: کیا تم دونوں اس بچے کا تیسرے کے حق میں اقرار کرتے ہو؟ انہوں نے اقرار نہیں کیا، پھر دو سے سوال کیا کہ کیا تم تیسرے کے لیے اس بچے کا اقرارکرتے ہو، انہوں نے بھی یہ اقرار نہ کیا، پھردو سے پوچھا،لیکن انھوں نے بھی اقرار نہ کیا، پھر انھوں نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا اور بچہ اس کے لیے لازم قرار دے دیا، جس کے نام قرعہ نکلا تھا اور اس کے ذمہ دیت کے تین حصوں میں سے دو حصے ادا کرنا لازم کر دیے، یہ معاملہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا مسکرائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھیں نمایاں ہو نے لگیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7221
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 2269، 2270، والنسائي: 6/ 182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19544»
حدیث نمبر: 7222
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَهُمْ بَعْدَ إِنْكَارِهِمْ إِنَّكُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ وَقَالَ إِنِّي مُقْرِعٌ بَيْنَكُمْ فَأَيُّكُمْ قُرِعَ أَغْرَمْتُهُ ثُلُثَيِ الدِّيَّةِ وَأَلْزَمْتُهُ الْوَلَدَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا أَعْلَمُ إِلَّا مَا قَالَ عَلِيٌّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے انکار کے بعد ان سے کہا: تم ایسے شریک ہو، جو آپس میں جھگڑنے والے ہو، اب میں تمہارے درمیان قرعہ ڈالوں گا، تم میں سے جس کے نام بھی قرعہ نکلے گا، اسے دیت کے تین میں سے دو حصے ادا کرنے کی چٹی ڈالوں گا اور بچہ بھی لازمی اسے ہی لینا پڑے گا، جب اس فیصلہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو فیصلہ علی نے کیا ہے، وہی سمجھ آتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ واقعہ دورِ جاہلیت کا تھا، کیونکہ اسلام میں تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ تین آدمی ایک طہر میں ایک عورت سے جماع کریں، چونکہ جاہلیت کے کاموں پر سزا نہیں دی جا سکتی تھی، بلکہ اس دور کے تصرفات کو قانونی طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا کہ جو ہوا سو ہوا، آئندہ کے لیے منع ہے، اس لیے اس واقعہ کا حل بھی ضروری تھی، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی خداداد ذہانت سے تجویز فرمایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7222
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19557»