حدیث نمبر: 7211
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتَهُ وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَكَأَنَّهُ يُعَرِّضُ أَنْ يَنْتَفِيَ مِنْهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَكَ إِبِلٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ مَا أَلْوَانُهَا قَالَ حُمْرٌ قَالَ فِيهَا ذَوْدٌ أَوْرَقُ قَالَ نَعَمْ فِيهَا ذَوْدٌ أَوْرَقُ قَالَ وَمِمَّا ذَاكَ قَالَ لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا لَعَلَّهُ يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو فزارہ کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اورکہا: اے اللہ کے نبی ! میری بیوی نے سیاہ رنگ کا بچہ جنم دیا ہے، (چونکہ وہ خود سفید رنگت کا تھا) اس لیے وہ دراصل بچے کی نفی کا اشارہ دے رہا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تونے اونٹ رکھے ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے رنگ کیسے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس میں خاکستری رنگ کا اونٹ ہے؟ اس نے کہا: جی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہاں سے آگیا؟ اس نے کہا: شاید اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو شاید اس کو بھی رگ نے ہی کھینچ لیا ہو۔ آپ نے اسے بچے کی نفی کی اجازت نہ دی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ پیدا ہونے والے بچے کی رنگت اور شکل و صورت کی بنا پر اس کی ماں پر تہمت نہیںلگائی جا سکتی، بلکہ ایسا بچہ جس کے گھر پیدا ہو گا، اسی کا سمجھا جائے گا، ایسی صورت میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہو گی۔