کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: لعان کرنے والے میاں بیوی ہمیشہ کے لیے جداہو جاتے ہیں اور مہر عورت کو دیا جائے گا
حدیث نمبر: 7209
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي قَالَ لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی سے فرمایا: تمہارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، تم میں سے ایک تو جھوٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاوند سے فرمایا: تیرا اب اس عورت پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ادا کئے ہوئے حق مہر کاکیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس عورت کے مقابلے میں سچا ہے تو یہ حق مہر اس کے عوض ہو جائے گا جو تو نے اس کی شرمگاہ کو حلال سمجھے رکھا، اور اگر تم نے جھوٹا الزام لگایا ہے تو پھر تو وہ تجھ سے بہت دور ہے۔
وضاحت:
فوائد: لعان، طلاق نہیں ہے، بلکہ ایسا فسخ نکاح ہے کہ اس کے بعد میاں بیوی کے لیے رجوع کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الْمُتَلَاعِنَانِ إِذَا تَفَرَّقاً لَایَجْتَمِعَانِ أَبَداً۔)) … جب لعان کرنے والے (میاں بیوی) جدا ہو جائیں، تو کبھی (نکاح میں) جمع نہیں ہو سکتے۔ یہ حدیث عبد اللہ بن عمر، سہل بن سعد، عبداللہ بن مسعود اور علی بن ابو طالب سے مروی ہے۔ (دیکھیں: بیہقی:۷/۴۰۹، ابوداود: ۱/۳۵۱ـ ۳۵۲، عبدالرزاق:۷/ ۱۱۲/ ۱۲۴۳۴، ۱۲۴۳۶، معجم کبیر طبرانی:۹/۳۹۰/۹۶۶۱، صحیحہ: ۲۴۶۵)