کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: یہ اس بات کا بیان ہے کہ شوہر لعان والی عورت کے اخراجات کا ذمہ دار نہیںاور اس عورت پر تہمت بھی نہیں لگائی جائے گی، اگرچہ اس کی اولاد کو باپ کی نسبت سے نہیں پکارا جائے گا۔
حدیث نمبر: 7206
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ أَنْ لَا يُدْعَى لِأَبٍ وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا فَإِنَّهُ يُجْلَدُ الْحَدَّ وَقَضَى أَنْ لَا قُوتَ لَهَا وَلَا سُكْنَى مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان والی عورت کے بیٹے کے بارے میں فیصلہ سنایا تھا کہ اس کو اس کے باپ کی نسبت سے نہ پکارا جائے، نیز جو شخص بھی اس خاتون یا اس کی اولاد پر الزام تراشی کرے اس پر تہمت کی حد قائم کی جائے، علاوہ ازیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم بھی دیا کہ اس عورت کے شوہر کے ذمہ نہ تواس کا نان ونفقہ ہے اور نہ ہی رہائش کا بندوبست، کیونکہ ان کے مابین علیحدگی کی وجہ طلاق یا شوہر کی وفات نہیں ہے، بلکہ کچھ اور ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن مسئلہ ایسے ہی ہے کہ لعان کے بعد خاوند اس بیوی کے نان نفقہ کا ذمہ دار نہیں ہو گا۔
حدیث نمبر: 7207
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا فَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اس کی اولاد سے اپنی نسبت کا بھی انکار کردیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مابین علیحدگی کروا دی اور بچے کی نسبت خاتون کے ساتھ کردی۔
وضاحت:
فوائد: … لعان کے بعد پیدا ہونے والا بچہ صرف ماں کی طرف منسوب ہو گا۔
حدیث نمبر: 7208
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ إِنَّهُ يَرِثُ مِيرَاثَ أُمِّهِ وَتَرِثُهُ وَمَنْ قَفَاهَا بِهِ جُلِدَ ثَمَانِينَ وَمَنْ دَعَاهُ وَلَدَ زِنًا جُلِدَ ثَمَانِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کی اولاد کے بارے میں فیصلہ دیا کہ ایسی اولاد اپنی ماں کی وارث بنے گی اور ماں اولاد کی وارث ہوگی۔ جو شخص لعان کے بعد عورت اور اس کی اولاد پر تہمت لگائے گا اسے اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں بھی جو مسئلے بیان کیے گئے ہیں، وہ دوسری روایات کی بنا پر صحیح ہیں۔