کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: حمل کی وجہ سے لعان کرنے کا مسئلہ اور اس شخص کا بیان¤جو مرد کا نام لے کر اپنی بیوی پر تہمت لگاتا ہے
حدیث نمبر: 7202
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بِالْحَمْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمل مشکوک ہونے کے باعث لعان کروایا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ ہلال بن امیہ کے واقعہ کی جانب اشارہ ہے، جب ان کی بیوی نے لعان کیا وہ حاملہ تھیں تو حمل کے ذریعہ لعان کا مطلب ہے کہ اگر خاوند کو بیوی کے پیٹ میں موجود حمل مشکوک نظر آئے تو بھی لعان ہو سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7202
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 157 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3339 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3339»
حدیث نمبر: 7203
عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ قَالَ وَكَانَتْ حُبْلَى فَقَالَ وَاللَّهِ مَا قَرَبْتُهَا مُنْذُ عَفَرْنَا وَالْعَفْرُ أَنْ يُسْقَى النَّخْلُ بَعْدَ أَنْ يُتْرَكَ مِنَ السَّقْيِ بَعْدَ الْإِبَارِ بِشَهْرَيْنِ قَالَ وَكَانَ زَوْجُهَا حَمْشَ السَّاقَيْنِ وَالذِّرَاعَيْنِ أَصْهَبَ الشَّعَرَةِ وَكَانَ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ ابْنَ السَّحْمَاءِ قَالَ فَوَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ أَجْلَى جَعْدًا عَبْلَ الذِّرَاعَيْنِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَهِيَ الْمَرْأَةُ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا قَالَ لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ قَدْ أَعْلَنَتْ فِي الْإِسْلَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عجلان قبیلہ کے عویمر اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کروایا، اس کی بیوی حاملہ تھی، عویمر نے کہا: اللہ کی قسم! جب سے میں نے پہلی بار کھجوروں کو سیراب کیا تھا، اس وقت سے لے کر اب تک اس کے قریب نہیں گیا (تو پھر یہ حاملہ کیسے ہو گئی) اور میں نے کھجوروں کو پیوندکاری کے دو ماہ بعد پانی پلایا ہے۔ یہ عویمر جو اس عورت کا خاوند تھا باریک پنڈلیوں اورباریک بازؤں والا تھا، اس کے بالوں میں سرخی پن نمایاں تھا اور اس عورت کو جس آدمی کے ساتھ تہمت لگائی گئی وہ شریک بن سحماء تھا، اس عورت نے سیاہ رنگت والا، گھنگھریالے بالوں والا، موٹے بازؤں والا، اور مضبوط پنڈلیوں والا بچہ جنم دیا۔ ابن شداد بن ہا دنے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے کہا: کیا یہ وہی عورت تھی، جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر میں نے کسی کو بغیر گواہوں کے رجم کرنا ہوتا تو میں اس عورت کورجم کرتا۔ ؟ انہوں نے کہا: نہیں، یہ وہ نہیں تھی، یہ کوئی اور عورت تھی،یہ اسلام میں ہونے کے باوجود بے حیائی کا اظہار کرتی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7203
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا ومختصرا وبنحوه البخاري: 5310، 5316، 6855، 6856، 7238، ومسلم: 1497 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3106»
حدیث نمبر: 7204
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اقْبِضْهَا إِلَيْكَ حَتَّى تَلِدَ عِنْدَكَ فَإِنْ تَلِدْهُ أَحْمَرَ فَهُوَ لِأَبِيهِ الَّذِي انْتَفَى مِنْهُ لِعُوَيْمِرٍ وَإِنْ وَلَدَتْهُ قَطَطَ الشَّعْرِ أَسْوَدَ اللِّسَانِ فَهُوَ لِابْنِ السَّحْمَاءِ قَالَ عَاصِمٌ فَلَمَّا وَقَعَ أَخَذْتُهُ إِلَيَّ فَإِذَا رَأْسُهُ مِثْلُ فَرْوَةِ الْحَمَلِ الصَّغِيرِ ثُمَّ أَخَذْتُ قَالَ يَعْقُوبُ بِفُقْمَيْهِ فَإِذَا هُوَ أُحَيْمِرٌ مِثْلُ النَّبْقَةِ وَاسْتَقْبَلَنِي لِسَانُهُ أَسْوَدُ مِثْلُ التَّمْرَةِ قَالَ فَقُلْتُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاصم بن عدی سے فرمایا: اس عورت کو بچہ جننے تک اپنے قبضہ میں رکھو، اگر اس نے گھنگھریالے بالوں والا، سیاہ زبان والا بچہ جنم دیا تو یہ ابن سحماء کا ہے۔ جب بچے نے جنم لیا تو عاصم کہتے ہیں کہ میں نے اسے پکڑا تو اس کے سر کے بال بکری کے چھوٹے بچے کی مانند گھنے تھے، پھر میں نے اس کے جبڑے کو پکڑا تو وہ بیر کی مانند سرخ تھا اور اس کی زبان سامنے سے میں نے دیکھی تو کھجور کی مانند سیاہ تھی، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس سے اس پر استدلال درست ہے کہ وضع حمل سے پہلے بھی لعان جائز ہے جبکہ خاوند اس پیٹ کے بچے کی نفی کر دے ضروری نہیں کہ لعان بچہ جنم لے تو بعد میں ہی ہو سکتا ہے پہلے نہیں ہو سکتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللعان / حدیث: 7204
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن،أخرجه بنحوه ابوداود: 2246 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22837 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23225»