حدیث نمبر: 7172
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُخْتَلِعَاتُ وَالْمُنْتَزِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خلع لینے والی اور خاوند سے علیحدگی کا مطالبہ کرنے والی عورتیں منافق ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … منافق سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بظاہر خاوند کا مطیع ثابت کرتی ہے، لیکن اندرونِ خانہ نافرمان ہے، لہٰذا وہ منافق ہے۔
حدیث نمبر: 7173
عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ حَبِيبَةُ ابْنَةُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْأَنْصَارِيِّ فَكَرِهَتْهُ وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَرَاهُ فَلَوْلَا مَخَافَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَبَزَقْتُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتُرَدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ الَّتِي أَصْدَقَكِ قَالَتْ نَعَمْ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا قَالَ فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ خُلْعٍ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا ، سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ خوش شکل نہ تھے، اس لیے سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میرے سامنے اللہ تعالیٰ کا ڈر آڑے نہ آتا ہو تو میں ثابت کودیکھ کر اس کے چہرے پر تھوک دوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حبیبہ! کیا تو وہ باغ، جو ثابت نے حق مہر کے طور پر دیا تھا، وہ اسے واپس کر دو گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے ہاں پیغام بھیجا، وہ آئے، سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ان کو وہ باغ لوٹا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے درمیان جدائی کروا دی، یہ اسلام میں سب سے پہلا پیش آنے والا خلع تھا۔
حدیث نمبر: 7174
عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ إِنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عَلَى بَابِهِ بِالْغَلَسِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَكِ قَالَتْ لَا أَنَا وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ لِزَوْجِهَا فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتٌ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ قَالَتْ حَبِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتٍ خُذْ مِنْهَا فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر کے لیے باہر تشریف لائے تو حبیبہ کو اپنے دروازے پر پایا، جبکہ ابھی تک اندھیرا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: جی میں حبیبہ بنت سہل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے، خیر تو ہے؟ انھوں نے کہا:میں اور میرا خاوند ثابت، بس اب اکٹھے نہیں رہ سکتے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ثابت کو بلایا، وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ حبیبہ بنت سہل ہے، اس نے مجھے اپنی دلی کیفیت بتائی ہے، یہ تمہارے پاس نہیں رہنا چاہتی۔ اتنے میں سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ثابت نے جو کچھ مجھے دیا ہے، وہ میرے پاس موجود ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ اپنا مال لے لو۔ پس انھوں نے اس سے مال لے لیا اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی گئیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ باکردار اور بااخلاق تھے حتیٰ کہ ان کی بیوی نے اس بات کا اعتراف بھی کیا تھا کہ وہ ان کے اخلاق اور دین پر کوئی نکتہ چینی نہیں کر سکتی، لیکن اسلام نے خاوند کی ناشکری سے منع کیا ہے، ان کے خوش شکل نہ ہونے کی وجہ سے ان کی بیوی ان کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہیں ہو رہی تھی۔