کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سوئے ہوئے، نابالغ بچے اور پاگل اور ذہنی خیالات کی طلاق واقع نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7169
عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ، عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ))۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے افراد مرفوع القلم ہیں(یعنی گناہ کی سزا سے بری ہیں): ایک نابالغ بچہ، جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے، دوسرا سویا ہوا شخص، جب تک وہ بیدار نہ ہو جائے اور تیسرا پاگل شخص، جب تک اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہ ہو جائے۔
وضاحت:
فوائد: … امام ابن حبان نے کہا: مرفوع القلم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے واقع ہونے والا شرّ نہیں لکھا جاتا، نہ کہ خیر (یعنی اگر بچہ اور پاگل نیکی کاکام کریں تو ان کے لیے ثواب لکھا جاتا ہے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7169
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيد، أخرجه ابوداود: 4398، والنسائي: 6/ 156، وابن ماجه: 2041، ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24694 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25201»
حدیث نمبر: 7170
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((تُجُوِّزَ (وَفِي لَفْظٍ: أَنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ) لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ فِي أَنْفُسِهَا أَوْ وَسْوَسَتْ بِهِ أَنْفُسُهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَتَكَلَّمْ بِهِ))۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کے(افراد کے دل میں آنے والے فاسد) خیالات اور دلی وسوسوں سے تب تک در گزر فرمایا ہے، جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے یاانہیں زبان پر نہ لا یا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر طلاق کا وسوسہ یا خیال پیدا ہو جائے، لیکن اس کا زبان سے اظہار نہ کیا جائے تو وہ واقع نہیں ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7170
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2528، 6664، و مسلم: 127 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7464»