کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اشارہ کنایہ سے طلاق کا حکم
حدیث نمبر: 7160
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يُخَيِّرُ امْرَأَتَهُ فَتَخْتَارُهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((إِنِّي سَأَعْرِضُ عَلَيْكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تُشَاوِرِي أَبَوَيْكِ)) فَقُلْتُ: وَمَا هٰذَا الْأَمْرُ؟ قَالَ: فَتَلَا عَلَيَّ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ} [الأحزاب: 28] قَالَتْ عَائِشَةُ: فَاخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ جعفر بن برقان کہتے ہیں: میں نے امام زہری رحمہ اللہ علیہ سے سوال کیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کورہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیتا ہے، وہ اپنے خاوند کو اختیار کر لیتی ہے، اس کے متعلق کیا رائے ہیں؟ زہری نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا، وہ کہتی ہیں: میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میں تجھ پر ایک معاملہ پیش کر رہا ہوں،تو نے جواب دینے میں جلدی نہیں کرنا، بلکہ اپنے ماں باپ سے مشورہ کرنا۔ میں نے عرض کیا: وہ کیا معاملہ ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ آیات پڑھ کر سنائیں: {یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا۔ وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۔} … اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آؤ میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اور تمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: بھلا یہ کونسی چیز ہے کہ میں اپنے ماں باپ سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں، اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت خوش ہوئے اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت پسند آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! جوبات میں نے تمہارے سامنے پیش کی ہے، یہی میں تمہاری دیگر سوکنوں پر پیش کرنے والا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لیکن میں نے جو چیز پسند کی ہے، اس کے بارے میں آپ نے میری سوکنوں کو نہیں بتانا۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا نہیں کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری بیویوں پر یہی بات پیش کی اور سیدہ عائشہ نے جس کو اختیار کیا تھا، وہ بھی ان کو بتایا کہ عائشہ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور آخرت کو چن لیا ہے۔ تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیا اورہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اختیار کر لیا،لیکن اس کو طلاق شمار نہ کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7160
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4785، ومسلم: 1475 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25517 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26033»
حدیث نمبر: 7161
عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم خَيَّرَ نِسَاءَهُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ (وَفِي رِوَايَةٍ: بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ) وَلَمْ يُخَيِّرْهُنَّ الطَّلَاقَ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو دنیا و آخرت میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا تھا، اور ان کو طلاق کا اختیار تو نہیں دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7161
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، محمد بن عبيد الله، قال البخاري: منكر الحديث ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 588»
حدیث نمبر: 7162
عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم لَمَّا أُوتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ وَدَخَلَ عَلَيْهَا قَالَ: ((هَبِي لِي نَفْسَكِ۔)) قَالَتْ: وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ؟ قَالَتْ: إِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، قَالَ: ((لَقَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ۔)) ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: ((يَا أَبَا أُسَيْدٍ اكْسِهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو اسیدساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جون قبیلہ کی عورت پیش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا: اپنے نفس کو میرے لئے ہبہ کر دو۔ وہ کہنے لگی: کیا ایک ملکہ کسی عام آدمی کے لئے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے؟ پھر اس نے کہا: میں آپ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے تو واقعی اس ذات کی پناہ طلب کی، جس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پا س آئے اور فرمانے لگے: ابو اسید! اس عورت کو کتان کے دو سفید کپڑے پہنا کر اسے اس کے گھر والوں کے ہاں پہنچا دوں۔
وضاحت:
فوائد: … اصل واقعہ یوں ہے کہ نعمان بن جون کندی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں آپ کی شادی امیمہ بنت نعمان بن شراحیل سے نہ کرا دوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ کو بطور نمائندہ نکاح بھیجا، وہ اس خاتون کو لے آئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس گئے، آپ کا کسی کو قبول کر لینا ہی شادی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا نمائندہ بھیجا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہبہ کرنے کی بات دلجوئی کے لیے کی تھی، وگرنہ وہ شرعاً آپ کی بیوی بن چکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات کو ترجیح دی اور اس کو واپس بھیج دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7162
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5255، 5257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16158»
حدیث نمبر: 7163
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه فِي حَدِيثِ تَخَلُّفِهِ عَنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَقَدْ هَجَرَهُ وَصَاحِبَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم وَالصَّحَابَةُ قَبْلَ نُزُولِ تَوْبَتِهِمْ، قَالَ: حَتَّى إِذَا مَضَتْ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً مِنَ الْخَمْسِينَ إِذَا بِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم يَأْتِينِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ اِمْرَأَتَكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ؟ قَالَ: بَلِ اعْتَزِلْهَا فَلَا تَقْرَبْهَا، قَالَ: وَأَرْسَلَ إِلَى أَصْحَابِي بِمِثْلِ ذَلِكَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِي هٰذَا الْأَمْرِ، الْحَدِيثَ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا وہ واقعہ بیان کرتے ہیں، جب وہ غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جانے سے پیچھے رہ گئے تھے، ان کی توبہ قبول ہونے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ نے ان کو اور ان کے دو ساتھیوں کو چھوڑ دیا تھا، جب یہ بول چال چھوڑے ہوئے چالیس دن گزر گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد میرے پاس یہ پیغام لے کر آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے بھی الگ ہو جاؤ، میں نے کہا: کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: بس الگ ہو جاؤ اور اس کے قریب نہ جاؤ، میرے باقی دو ساتھیوں کی طرف بھی یہی پیغام بھیجا، پس میں نے اپنی اہلیہ سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے ہاں چلی جاؤ اوران کے پاس رہو،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس بارے میں کوئی فیصلہ کر دے۔ الخ۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کے لیے لفظ الْحَقِیْ بِاَھْلِکِ (تو اپنے گھر والوں کی طرف چلی جا) استعمال کیے، لیکن اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ ان کی نیت طلاق کی نہیں تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7163
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا حديث طويل و أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 3889، 4676، 4677، 6690، ومسلم: 2769 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15789»
حدیث نمبر: 7164
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ قَالَ: كَتَبَ إِلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ عُمَرَ رضي الله عنه كَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا، قَالَ هِشَامٌ: وَكَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے تھے کہ خاوند کا اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنا، یہ ایک قسم ہے، جس کا وہ کفارہ ادا کرے گا، اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمابھی یہی کہتے تھے کہ بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنا ایک قسم ہے، جس کا وہ کفارہ ادا کرے گا۔ نیز سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے یہ آیت پڑھی:{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} … تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد درج ذیل آیت ہے:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7164
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث عكرمة عن عمر منقطع، وحديث ابن عباس صحيح علي شرط البخاري، أخرجه البخاري: 4911، 5266، ومسلم: 1473 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1976 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1976»