حدیث نمبر: 7157
عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَلَّقَ رُكَانَةُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ أَخُو الْمُطَّلِبِ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَحَزِنَ عَلَيْهَا حُزْنًا شَدِيدًا، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كَيْفَ طَلَّقْتَهَا؟)) قَالَ: طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا، قَالَ: فَقَالَ: ((فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَإِنَّمَا تِلْكَ وَاحِدَةٌ فَارْجِعْهَا إِنْ شِئْتَ)) قَالَ: فَرَجَعَهَا، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرَى أَنَّمَا الطَّلَاقُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنو مطلب والے سیدنا رکانہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں اور پھر بہت سخت غمگین ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے کس طرح طلاق دی ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ہی مجلس میں۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ تو ایک ہی ہے، اگر رجوع کرنا چاہتے ہوتو کر لو۔ پس انھوں نے رجوع کر لیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماکی رائے تھی کہ طلاق ہر طہر میں دی جائے۔
حدیث نمبر: 7158
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ كَانَ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عہد ِ نبوی میں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی زمانۂ خلافت کے شروع کے دو برسوں میں تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ اس کام میں جلد بازی سے کام لے رہے ہیں، جس میں انہیں نہایت سوچ بچار سے قدم رکھنا چاہیے تھا، لہٰذا اگر ہم تینوں طلاقیں جاری ہونے کا فیصلہ کر دیں، پھر انھوں نے یہ فیصلہ جاری کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ تعزیر اور سزا کے طور پر تھا، یہ ایک سیاسی اور انتظامی مسئلہ تھا، شرعی حکم اپنی جگہ پر برقرار ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اختیار کیا جاتا تھا، حنفی علماء نے بھی اس کو تعزیری اور سیاسی فیصلہ تسلیم کیا ہے جو کہ ایک حاکم وقت بعض اوقات جاری کر دیتا ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فقہ حنفی کی معروف کتاب جامع الرموز کتاب الطلاق اور حاشیہ طحطاوی۔
حدیث نمبر: 7159
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: لَمَّا لَاعَنَ عُوَيْمِرٌ أَخُو بَنِي الْعَجْلَانِ امْرَأَتَهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ظَلَمْتُهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا، هِيَ الطَّلَاقُ وَهِيَ الطَّلَاقُ وَهِيَ الطَّلَاقُ، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَصَارَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بنو عجلان کے آدمی سیدنا عویمر نے اپنی بیوی سے لعان کیا تو انھوں نے کہا:اے اللہ کے رسول! اب اگر میں لعان کے بعد بھی اس کو اپنے گھر رکھوں تو یہ تو میرا اس پر ظلم ہو گا، لہٰذا اسے طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے۔ ایک روایت میں ہے: انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اس کو تین طلاقیں دے دیں۔ ایک روایت میں ہے: یہ لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس روایت میں تین طلاقوں کا بیک وقت اثر انداز ہو جانا، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ لعان سے نکاح خود بخود ختم ہو جاتا ہے، طلاق کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی، آگے چل کر لعان کی وضاحت ہو گی، جبکہ مذکورہ بالا روایت سے ثابت ہو چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں، اس سے معلوم ہوا کہ طلاقٰن تین دی تو جاتی تھیں، لیکن اثر ایک طلاق کا ہوتا تھا۔