کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: حالت حیض میں اور طہر میں مجامعت کے بعد حمل کے واضح ہونے سے پہلے تک طلاق دینے کی ممانعت
حدیث نمبر: 7152
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَأَلْتُهُ عَنْ امْرَأَتِهِ الَّتِي طَلَّقَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ طَلَّقْتُهَا وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ فَذَكَرَهُ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا فَإِذَا طَهُرَتْ طَلَّقَهَا فِي طُهْرِهَا لِلسُّنَّةِ)) قَالَ: فَفَعَلْتُ، قَالَ أَنَسٌ: فَسَأَلْتُهُ هَلْ اعْتَدَدْتَّ بِالَّتِي طَلَّقْتَهَا وَهِيَ حَائِضٌ؟ قَالَ وَمَا لِي لَا أَعْتَدُّ بِهَا إِنْ كُنْتُ عَجَزْتُ وَاسْتَحْمَقْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ انس بن سیرین سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کی اس بیوی کے متعلق سوال کیا، جسے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں طلاق دی تھی، انہوں نے کہا: میں نے اس کو حالتِ حیض میں طلاق دی، پھر میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ بات بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کر لے، پھر جب وہ حیض سے پاک ہو جائے تو سنت کے مطابق اسے طہر میں طلاق دے۔ میں نے ایسے ہی کیا، انس بن سیرین کہا: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ تم نے جو طلاق حالت حیض میں دی تھی کیاوہ شمار کی گئی تھی، انھوں نے کہا: بھلا میں اس کو شمار کیوں نہ کرتا، اگر میں عاجز آگیا اور حماقت کا مظاہرہ کر بیٹھا تو (کیا خیال ہے کہ وہ طلاق شمار نہ ہوتی)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7152
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1471 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6119 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6119»
حدیث نمبر: 7153
عَنْ سَلَامٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا أَوْ حَامِلًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن عمر سے کہو کہ وہ رجوع کرلے اور پھر اس کو اس حالت میں طلاق دے کہ وہ حالتِ طہر میں ہو یا حاملہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7153
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1471 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4789»
حدیث نمبر: 7154
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً وَهِيَ حَائِضٌ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَاجِعَهَا وَيُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا، فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لِأَحَدِهِمْ: أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَا، فَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ وَعَصَيْتَ اللَّهَ تَعَالَى فِيمَا أَمَرَكَ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماما سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں ایک طلاق دے دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ رجوع کر لے اور اس کو پاس رکھے، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اس کے پاس ہی اسے دوسرا حیض آئے، پھر اس کو مہلت دے، یہاں تک کہ اسے حیض آئے اور وہ اس سے پاک ہو جائے، اب جبکہ وہ پاک ہوئی ہے، اگر اس کا ارادہ طلاق دینے کا ہو تو وہ قبل از جماع اسے طلاق دے دے، یہ وہ عدت ہے کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔ جب سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا جاتا تو وہ کہتے: تونے اپنی بیوی کو ایک مرتبہ طلاق دی ہے یا دو مرتبہ، مجھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا، اور اگر تونے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو وہ تجھ پر حرام ہو گئی ہے، اب اس کے حلال ہونے کی یہ صورت ہے کہ وہ تیرے علاوہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے، ہاں تو نے غلط طریقہ سے طلاق دے کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7154
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5332، ومسلم: 1471 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6061»
حدیث نمبر: 7155
حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ طَلَّقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لِيُرَاجِعْهَا فَإِنَّهَا امْرَأَتُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جو اپنی بیوی کو حالت ِ حیض میں طلاق دیتا ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت ِ حیض میں طلاق دی تھی اورسیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طلاق کی اطلاع دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن عمر رجوع کر لے، کیونکہ یہ اس کی بیوی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7155
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبدالله بن لھيعة سييء الحفظ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15150 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15217»
حدیث نمبر: 7156
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ أَيْمَنَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ فَقَالَ: كَيْفَ فِي رَجُلٍ طَلَّقَ إِمْرَأَتَهُ حَائِضًا؟ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ إِمْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ إِمْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لِيُرَاجِعْهَا)) (عَلَيَّ وَلَمْ يَرَهُ شَيْئًا وَقَالَ فَرَدَّهَا) إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ يُمْسِكْ)) قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: 1] قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَسَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقْرَؤُهَا كَذٰلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابوزبیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:عبد الرحمن بن ایمن نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسے سوال کیا جا رہا تھا، جبکہ میں سن رہا تھا، انھوں نے کہا: اس آدمی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو حالت ِ حیض میں بیوی کو طلاق دیتا ہے؟ انھوں نے کہا: میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے عہد ِ نبوی میں اپنی بیوی کو اسی طرح طلاق دی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! عبد اللہ نے اپنی بیوی کو حالت ِ حیض میں طلاق دے دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ رجوع کر لے، پھر جب وہ پاک ہو جائے تو وہ چاہے تو طلاق دے دے اور چاہے تو اپنے پاس رکھ لے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مجھ پر لوٹا دیا اور اس کو کچھ خیال نہ کیا، پھر سیدنا ابن عمر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {یَا أیُّھَا النَّبِیُّ إِذَا طَلَقَّتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ فِیْ قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ} … اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے مجاہد کو سنا کہ وہ اس آیت کو اسی طرح تلاوت کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … طلاق کا سنت طریقہ یہ ہے کہ خاوند اس طہر میں طلاق دے، جس میں اس نے جماع نہ کیا ہو، یا حالت ِ حمل میں دے، پھر عدت گزرنے کا انتظار کرے، ممکن ہو تو عدت کے دوران میں رجوع کر لے، ورنہ پیچھے سے مزید طلاق نہ بھیجے، تاکہ اگر بعد میں اتفاق ہو جائے تو نیا نکاح کر لے۔ مزید طلاق نہ بھیجنے کی ہدایت ان اہل علم کی رائے کی روشنی میں دی گئی ہے، جو طلاق پر طلاق کے قائل ہیں، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک تو طلاق پر طلاق واقع ہی نہیں ہوتی، کیونکہ یہ بے فائدہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7156
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح دون قوله: ولم يرھا شيئا ، أخرجه مسلم: 1471 دون ھذه الزيادة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5524»