کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان
حدیث نمبر: 7147
عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ثُمَّ ارْتَجَعَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عاصم بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کو طلاق دی اور پھر ان سے رجوع کر لیا۔
وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا ایک درج ذیل شاہد بھی بیان کیا: قیس بن زید کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی، ان کے دو ماموں قدامہ اور عثمان، جو مظعون کے بیٹے تھے، ان کے پاس گئے، وہ رونے لگ گئیں اور انھوں نے کہا: اللہ تعالی کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیر ہو جانے کی وجہ سے مجھے طلاق نہیں دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آئے اور کہا: ((قَالَ لِیْ جِبْرِیْلُ علیہ السلام: رَاجِعْ حَفْصَۃَ، فَاِنَّھَا صَوَّامَۃٌ قَوَّامَۃٌ، وَاِنَّھَا زُوْجَتُکَ فِی الْجَنَّۃِ۔)) … جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: حفصہ سے رجوع کر لو، وہ تو بہت روزے رکھنے والی اور بہت قیام کرنے والی ہے اور جنت میں آپ کی بیوی ہے۔ (ابو نعیم نے اس کوالحلیۃ: ۲/ ۵۰ میں اور امام حاکم نے روایت کیا ہے اور یہ مرسل ہے۔)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7147
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيرھ، أخرجه الطبراني في الكبير : 17/ 366، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16020»
حدیث نمبر: 7148
عَنْ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي امْرَأَةً فَذَكَرَ مِنْ طُولِ لِسَانِهَا وَإِيذَائِهَا فَقَالَ طَلِّقْهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا ذَاتُ صُبْحَةٍ وَوَلَدٍ قَالَ فَأَمْسِكْهَا وَأْمُرْهَا فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلُ وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أَمَتَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، پھر انھوں نے اس کی زبان درازی اور تکلیف دینے کی شکایت کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو طلاق دے دو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ پرانی رفیقہ حیات ہے اور اس سے میری اولاد بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کو اپنے پاس رکھو، البتہ تلقین کرتے رہو، اگر اس میں کوئی خیر و بھلائی ہوئی تو وہ اسے قبول کرے گی، لیکن تم نے اپنی بیوی کو اس طرح نہیں مارنا جس طرح لونڈی کو مارا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہر عورت میں خوبیوں کے ساتھ ساتھ بعض نقائص بھی پائے جاتے ہیں، اس بارے میں شرعی اصول یہ ہے کہ بیویوں کے مثبت پہلو کا زیادہ خیال رکھا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی اصلاح بھی کی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7148
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه بنحوه ابوداود: 144، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16497»
حدیث نمبر: 7149
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلَاقَ مِنْ غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوعورت بغیر کسی مجبوری کے اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کوئی شرعی عذر ہو تو عورت خلع لے سکتی ہے، یا طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7149
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 1187 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22738»
حدیث نمبر: 7150
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا وَلَا تَسْأَلُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا وَلْتَنْكِحْ فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی نہ کرے، کسی خاتون سے اس کی پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے، کوئی عوررت اپنی بہن کی طلاق کا سوال نہ کرے، تاکہ وہ اس کے پیالے میں جو کچھ ہے، اس کو انڈیل دے، اس کو چاہیے کہ وہ نکاح کر لے، کیونکہ اس کو وہ کچھ مل جائے گا، جو اللہ تعالیٰ نے اس کے مقدر میں لکھا ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام نے مرد کو چار شادیوں کا حق دیا ہے، اگر کوئی آدمی دوسری شادی کرنا چاہے تو اس خاتون کو یہ شرط نہیں لگانی چاہیے کہ وہ پہلی بیوی کو طلاق دے دے، اس کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی پر بھروسہ کر کے نکاح کرے، اللہ تعالی حالات کو سنوارنے پر قادر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7150
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1408، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10605 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10613»
حدیث نمبر: 7151
عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ أُحِبُّهَا وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا فَأَمَرَنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا فَأَبَيْتُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ امْرَأَةً كَرِهْتُهَا لَهُ فَأَمَرْتُهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَأَبَى فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا عَبْدَ اللَّهِ! طَلِّقْ امْرَأَتَكَ)) فَطَلَّقْتُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے عقد نکاح میں ایک عورت تھی، مجھے اس سے بہت محبت تھی، لیکن میرے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے، پس انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو طلاق دے دوں،لیکن میں نے انکار کر دیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک بیوی ہے، مجھے وہ ناپسند ہے، میں نے اس سے کہا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، لیکن اس نے انکار کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ! اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ سو میں نے اسے طلاق دے دی۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ والدین کا حکم نفس کی خواہشات پر مقدم ہے، جب اُن کا حکم دین کے موافق ہو گا، کیونکہ ظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس خاتون کو قلتِ دین کی وجہ سے ناپسند کرتے ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7151
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه الترمذي: 1189، والنسائي: 5/339 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5011 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5011»