کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فال پکڑنے، زمیں میں خط لگانے اور بدشگونی کا بیان
حدیث نمبر: 6822
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ عِلْمَهُ فَهُوَ عِلْمُهُ)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک نبی لکیریں لگاتا تھا، پس جس شخص کا علم اس کے موافق ہو جائے، وہ علم درست ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زجر و توبیخ کر رہے ہیں، کیونکہ اس نبی سے موافقت ہو جانے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔
دورِ جاہلیت میں خط لگانے کی صورت یہ تھی کہ محتاج مٹھائی وغیرہ لے کر کاہن اور پیشین گوئی کرنے والے کے پاس آتا، وہ اس کو کہتا: تو بیٹھ جا، میں تیرے لیے لکیریں لگاتا ہوں، اُدھر کاہن کے سامنے ایک لڑکا ہوتا، اس کے پاس سرمہ کی سلائی ہوتی، پھر وہ نرم زمین کی طرف آتا اور اتنی جلدی سے لکیریں لگاتا کہ ان کو گن نہیں سکتا تھا، پھر دو دو لکیریں مٹانا شروع کر دیتا، اب اگر آخر میں دو لکیریں بچ جاتیں تو ان کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا اور اگر ایک بچ جاتی تو وہ ناکامی کی علامت ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السحر والكهانة والتنجيم / حدیث: 6822
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9117 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9106»
حدیث نمبر: 6823
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا عَوْفٌ عَنْ حَيَّانَ حَدَّثَنِي قَطَنُ بْنُ قَبِيصَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْعِيَافَةَ وَالطُّرُقَ وَالطِّيَرَةَ مِنَ الْجِبْتِ)). قَالَ عَوْفٌ: الْعِيَافَةُ: زَجْرُ الطَّيْرِ، وَالطُّرُقُ: الْخَطُّ يُخَطُّ فِي الْأَرْضِ، وَالْجِبْتُ، قَالَ الْحَسَنُ: إِنَّهُ الشَّيْطَانُ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا قبیصہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فال پکڑنے کے لئے پرندوں کو اڑانا،زمین پر لکیریں لگانا اور بدشگونی لینا شیطانی کام ہیں۔ عوف نے کہا: العیافۃ سے مراد پرندوں کو اڑانا، الطرق سے مراد زمین پر لکیریں لگانا اور الجبت سے مراد شیطان ہے، آخری معنی حسن نے بیان کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … عرب لوگ پرندے کے نام، آواز اور گزرنے سے فال پکڑتے تھے۔
’’جِبْت‘‘ کے معانی کاہن، شیطان اور ہر اس چیز کے ہیں، جس کی اللہ تعالی کے علاوہ عبادت کی جائے۔
دورِ جاہلیت میں بعض اسباب کے ذریعے سے نیک شگونییا بد شگونی لینا عام تھا، مثلا سفر کا ارادہ کرنے والا کسی پرندے کو اڑاتا، اگر وہ دائیں جانب اڑ جاتا، تو وہ اسے سفر بخیر کی علامت سمجھتے ہوئے سفرشروع کر دیتا، اور اگر وہ پرندہ
بائیں جانب اڑ جاتا تو وہ اسے منحوس سفر کی علامت سمجھ کر اپنا ارادہ ترک کر دیتا۔ کئی اور علامتیں بھی مقرر تھیں۔ یہ سب امور ممنوع اور حرام ہیں۔ محض کسی بات کے اتفاقیہ طور پر صحیح نکل آنے سے ان تمام خرافات کا جواز ثابت نہیں ہو تا۔ جلب ِ منفعت یا دفعِ مضرت میں ان چیزوں کی کوئی تاثیر نہیں۔ یہ سب ظن و تخمین اور اٹکل پچو باتیں ہیں، جن پر اعتبار اور اعتماد کرنا جہالت، گمراہی اور توہم پرستی ہے۔
لیکن شریعت نے اچھی بات سن کر اچھا شگون لینے کو جائز قرار دیا ہے، جس کی بنا پر انسان اللہ تعالی سے حسنِ ظن قائم کر لیتا ہے، جو ایک مستحسن امر ہے، جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا عَدْوٰی وَلَا طِیَرَۃَ وَیُعْجِبُنِیَ الْفأْلُ۔)) یعنی: ’’نہ کوئی بیماری متعدی ہے اور نہ کوئی بد شگونی (کی حقیقت ہے)، لیکن مجھے ’’نیک فال‘‘ اچھی لگتی ہے۔ ‘‘ صحابہ نے پوچھا: ’’فال‘‘ کیا ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((کَلِمَۃٌ طَیِّبَۃٌ۔)) یعنی: ’’اچھی بات (کا سننا اور اس سے خیر کی امید وابستہ کر لینا)۔ (بخاری، مسلم)
ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک فال کو ((اَلْکَلِمَۃُ الْحَسَنَۃُ۔)) فرمایا، جس پر امام کرمانیl نے لکھا: اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے فطرت میں نیک فال کی محبت رکھ دی ہے، جیسا کہ خوش کن منظر اور صاف پانی کو دیکھنے سے راحت محسوس ہوتی ہے، اگرچہ اس پانی کو استعمال نہ کیا ہو۔ (عون المعبود)
مثال کے طور پر کوئی شخص کسی جائز کاروبار یا سفر کا ارادہ کرتا ہے، اس کا ہر دوست بالخصوص نیک بزرگ اس کے اس اقدام کو سراہتے ہیں، اس کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیںیا اس کام کے لئے استعمال ہونے والے تمام اسباب بآسانی میسر ہو جاتے ہیں۔ وہ ان تمام امور سے یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا یہ کام اللہ تعالی کو پسند ہے، نتیجتاً وہ اللہ تعالی کے بارے میں حسنِ ظن قائم کر لیتا ہے، اس کو اچھا شگون کہتے ہیں، بہرحال مستقبل میں اسے اللہ تعالی کی طرف سے کسی قسم کی آزمائش کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ معلوم ہوا کہ نیک شگون محض حسنِ ظن کا دوسرا نام ہے، نہ کہ مستقبل میں خطرات کے ٹل جانے کی گارنٹی۔
مسلمان کا شیوہ اچھی فال لینا ہے، نہ کہ بری فال لینا، اس لئے جب کوئی مسلمان کسی جائز کام کا عزم کر لیتا ہے تو کوئی بدشگونی اسے اس سے نہیں روکتی، کیونکہ اس کا یہ پختہ عقیدہ ہوتا ہے کہ نفع و نقصان کے معاملات میں حقیقی مؤثر صرف اللہ تعالی ہے۔ دراصل اچھی فال لینے کو مستحسن قرار دے کر پسِ پردہ اس امر کی بھی ترغیب دلائی گئی ہے کہ ہر مسلمان کو دوسرے مسلمانوں اور ان کے جائز اقدامات کے بارے میں اچھی بات کہنی چاہئے اور اچھی بات ہی سننی چاہئے، جس سے لوگ نیک فال اخذ کریں اور ایسی بات کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے جس سے لوگ کراہت محسوس کریںاور اس سے ان کے دلوں میں بدفالی کا اندیشہ پیدا ہو۔
واضح ہو گیا ہے کہ مسلمان بدشگونی اور بد فالی لیتے ہوئے اپنے عزم کو منحوس نہیں سمجھتا، بلکہ مستقبل کے امور اور نفع و نقصان کو اللہ تعالی کے سپرد کر کے اپنے ارادے کی عملی تکمیل کی طرف گامزن رہتا ہے،یہ بات ذہن نشین رہے بسا اوقات بدشگونی پر مشتمل فرسودہ خیالات کسی کو اپنے گھیراؤ میں لے سکتے ہیں، لیکن اسے اللہ تعالی پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو اپنے دل و دماغ سے اتار پھینک دینا چاہئے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ذَالِکَ شَیْئٌیَجِدُوْنَہُ فِیْ صُدُوْرِھِمْ، فَـلَا یَصُدَّھُمْ۔)) (صحیح مسلم) یعنی: ’’یہ (بدشگونی) ایسی چیز ہے جسے لوگ اپنے سینوں میں محسوس کرتے ہیں، لیکنیہ ان کو اپنے کاموں (اور منصوبوں) سے نہ روکنے پائے۔ ‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات سنی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی پسند آئی، سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَخَذْنَا فَأْلَکَ مِنْ فِیْکَ۔)) (صحیحہ:۷۲۶)
یعنی:’’ہم نے تیرے نیک شگون کو معتبر سمجھا ہے۔ ‘‘
وضاحت نہیں ہے کہ یہ بات کس امر کے بارے میں تھی، البتہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ’’اِنَّ النَّبِیَّV کَانَ یُعْجِبُہٗ اِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِہٖاَنْیَّسْمَعَ: یَا رَاشِدُ یَا نَجِیْحُ۔‘‘ (ترمذی) یعنی: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی حاجت کے سلسلہ میں نکلتے تو پسند کرتے کہ (اپنے اس خروج کے بارے میں لوگوں سے یہ کہتے ہوئے) سنیں: اے راہِ مستقیم کو پانے والے! اے (اپنی حاجت میں) کامیاب ہونے والے۔
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کییہ تمنا ہوتی کہ کوئی آدمی آپ کی اس تگ و دو کو سراہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حاجت پوری ہونے کا مژدہ سنائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السحر والكهانة والتنجيم / حدیث: 6823
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حيان ابي العلائ، أخرجه اليھقي: 8/ 139 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20880»