کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: کاہن کی شیرینی اور کاہنوں کی بعض باتوں کا بیان
حدیث نمبر: 6818
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کے مہر اور کاہن کی شیرینی سے منع فرمایاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السحر والكهانة والتنجيم / حدیث: 6818
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2237، 2282، ومسلم: 1567 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17198»
حدیث نمبر: 6819
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلُوا رُفَقَاءَ، رُفْقَةٌ مَعَ فُلَانٍ وَرُفْقَةٌ مَعَ فُلَانٍ، فَنَزَلْتُ فِي رُفْقَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَانَ مَعَنَا أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَنَزَلْنَا بِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَعْرَابِ وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ حَامِلٌ، فَقَالَ لَهَا الْأَعْرَابِيُّ: أَيَسُرُّكِ أَنْ تَلِدِي غُلَامًا، إِنْ أَعْطَيْتِنِي شَاةً، فَوَلَدْتِ غُلَامًا، فَأَعْطَتْهُ شَاةً وَسَجَعَ لَهَا أَسَاجِيعَ، قَالَ: فَذَبَحَ الشَّاةَ فَلَمَّا جَلَسَ الْقَوْمُ يَأْكُلُونَ، قَالَ رَجُلٌ: أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ الشَّاةُ؟ فَأَخْبَرَهُمْ، قَالَ: فَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ مُتَبَرِّئًا مُسْتَنْبِلًا مُتَقَيِّئًا.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں روانہ ہوئے، لوگ ٹولیوں کی صورت میں بٹ گئے اور ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا، ایک ٹولی فلاں کے ساتھ، ایک ٹولی فلاں کے ساتھ، میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ٹولی میں تھا، ہمارے ساتھ ایک دیہاتی بھی تھا، ہم نے دیہاتیوں کے ایک گھر کے قریب پڑاً ڈالا، ان میں ایک عورت حاملہ تھی، دیہاتی نے اس عورت سے کہا: کیا تجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تو لڑکا جنم دے، اگر تو مجھے ایک بکری دے گی تو تیرے گھر لڑکا پیدا ہو گا، پس اس عورت نے اسے بکری دے دی اور اس دیہاتی نے اس عورت کے لئے قافیہ بندی میں باتیں کی اور بکری ذبح کر دی، جب لوگ کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے تو ایک آدمی نے کہا: کیا تم جانتے ہو یہ بکری کیسی ہے ؟ پھر اس نے ان کو اس کی اصل حقیقت بتلائی، میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اس کھانے سے بیزاری کا اظہار کرنے کے لیے تکلف کے ساتھ قے کر رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کھاتے وقت تو پتہ نہ چلا، لیکن جب ان کو معلوم ہوا تو انھوں نے چاہا کہ ان کے پیٹ میں اس حرام چیز کا کوئی جزو باقی نہ رہے، اس لیے تکلّف کے ساتھ قے کرنا شروع کر دی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السحر والكهانة والتنجيم / حدیث: 6819
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11502»
حدیث نمبر: 6820
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوْا كَاهِنَةً فَقَالُوا لَهَا: أَخْبِرِينَا بِأَقْرَبِنَا شَبَهًا بِصَاحِبِ هَذَا الْمَقَامِ، فَقَالَتْ: إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السَّهْلَةِ ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ فَجَرُّوا ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: هَذَا أَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِهِ، فَمَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ بُعِثَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریشی ایک کاہن عورت کے پاس گئے اور کہا: ہمیں یہ بتا دے کہ ہم میں سے اس مقام نبوت کے زیادہ لائق اور حقدار کون ہے؟ اس نے کہا: اگر تم اس نرم زمین پر چادرتان کر اس کے اوپر چلو گے تو میں تمہیں بتاؤں گی، انہوں نے چادر تان لی، پھر لوگ اس پر چلے اوراس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار و نشانات دیکھے اور کہا:یہ تم میں سب سے زیادہ مقام نبوت کے لائق ہے،ابھی تک اس واقعہ کو بیس سال یا اس کے قریب قریب ہی گزرے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السحر والكهانة والتنجيم / حدیث: 6820
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، فان رواية سماك عن عكرمة فيھا اضطراب، أخرجه ابن ماجه: 2350، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3072 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3072»
حدیث نمبر: 6821
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ الظَّفَرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((يَخْرُجُ مِنَ الْكَاهِنِينَ رَجُلٌ يَدْرُسُ الْقُرْآنَ دِرَاسَةً لَا يَدْرُسُهَا أَحَدٌ يَكُونُ بَعْدَهُ)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بردہ ظفری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاہنوں میں سے ایک آدمی ظاہر ہوگا، وہ قرآن مجید کو اس انداز میں پڑھے گا کہ اس کے بعد اس جیسا اور کوئی نہیں پڑھے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ کہانت کی کمائی حرام ہے، اس کے حرام ہونے پر اہل علم کا اتفاق و اجماع ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السحر والكهانة والتنجيم / حدیث: 6821
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن معتب و أبيه، أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 794، والبيھقي في ’’دلائل النبوة‘‘: 6/ 498 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23880 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24377»