کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: کاہن اور عرّاف کے پاس جانے کی ممانعت اور جا کر اس کی تصدیق کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 6815
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ أَتَى كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کاہن یا عَرَّاف کے پاس آیا اور اس نے اس کی تصدیق کی تو اس نے اس چیز کا کفر کر دیا، جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کی گئی۔
وضاحت:
فوائد: … کاہن اور عَرَّاف میں فرق یہ ہے کہ کاہن وہ ہوتا ہے، جو مستقبل کے حوادث و واقعات کی معرفت کے درپے ہوتا ہے اور عَرَّاف وہ ہوتا ہے جو چوری کی ہوئی چیز اور گم شدہ چیز کے موقع کی خبر دیتا ہے اور مختلف اسباب کے ذریعے مختلف امور کی معرفت کا دعوی کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السحر والكهانة والتنجيم / حدیث: 6815
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه الحاكم: 1/8 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9532»
حدیث نمبر: 6816
عَنْ صَفِيَّةَ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا صفیہ رضی اللہ عنہا کسی ایک زوجۂ رسول سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو عَرّاف کے پاس آیا اور اس کی بات کی تصدیق کی تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … جو آدمی کاہن کے دعوی کی تصدیق کرے گا اور اس کے بارے میںیہ اعتقاد رکھے گا کہ وہ غیب کا علم رکھتا ہے تو وہ واقعی کافر ہو جائے گا، جیسا کہ گزشتہ حدیث سے ثابت ہو رہا ہے، لیکن جو آدمی کاہن کے پاس گیا اور اس کے اس دعوی کی تصدیق کی، جس کی معرفت انسان کے بس کی بات ہوتی ہے، تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی۔
امام نووی نے کہا: نماز قبول نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ ایسے شخص کو نماز کا ثواب نہیں ملے گا، البتہ اس کا فرض ادا ہو جائے گا اور اس کو اعادہ یعنی نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
کاہن کے دعویٰ کی تصدیق کرنا یقینا کفریہ کام ہے۔ لیکن اگر ایسا آدمی دین کی دوسری چیزوں (توحید و رسالت، جزا و سزا وغیرہ) کو تسلیم کرتا ہے تو اس کا یہ کفریہ کام مخلد فی النار (ہمیشہ جہنمی) ہونے کا سبب نہیں بنے گا۔ بلکہ یہ کفر دون کفر کی صورت ہوگی جیسے مومن کے ساتھ لڑائی کرنے کو کفر کہا گیا ہے (قتالہ کفر) یہ بھی آدمی کو ہمیشہ جہنمی بنانے کا سبب نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السحر والكهانة والتنجيم / حدیث: 6816
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2230، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16638 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16755»
حدیث نمبر: 6817
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ أَشْيَاءَ كُنَّا نَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، كُنَّا نَتَطَيَّرُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((ذَلِكَ شَيْءٌ تَجِدُهُ فِي نَفْسِكَ فَلَا يَصُدَّنَّكَ)). قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ، قَالَ: ((فَلَا تَأْتِ الْكُهَّانَ)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: ان امور کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو ہم دورِ جاہلیت میں کرتے تھے، مثلا ہم بد شگونی لیتے تھے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کو تو اپنے دل میں محسوس تو کرے گا، لیکن یہ تجھے تیرے کام سے نہ روکنے پائے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کاہنوں کے پاس بھی جاتے تھے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاہنوں کے پاس نہیں جانا۔
وضاحت:
فوائد: … کسی چیز کی کراہت انسان کے دل میں آ سکتی ہے، لیکن اس سے اس کے عزم میں کوئی فرق نہیں آنا چاہیے، مثلا ایک آدمی نے صبح صبح سفر کرنے کا ارادہ کیا، لیکن اسی وقت اس کے سامنے اُلّو یا کوّا آ گیا،یا اس کا کوئی نقصان ہو گیا، تو اس سے اس کو یہ خیال تو آ سکتا ہے کہ اس کو سفر نہیں کرنا چاہیے، لیکن عملی طور پر اس کو اس خیال پر عمل نہ کرتے ہوئے اللہ تعالی پر توکل کر کے سفر کو جاری رکھنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السحر والكهانة والتنجيم / حدیث: 6817
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 537 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15663 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15748»