کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: محاربین اور راستوں کو غیر محفوظ کر دینے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 6800
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةُ نَفَرٍ مِنْ عُكْلٍ فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَفَعَلُوا فَصَحُّوا فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاةَهَا وَسَاقُوهَا فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ قَافَةً فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عکل قبیلے کے آٹھ افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا، لیکن جب انھوں نے مدینہ کی آب و ہوا کو ناموافق پایاتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ صدقہ کی اونٹنیوں کے پاس چلے جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں، انہوں نے ایسے ہی کیا، لیکن جب وہ صحت یاب ہو گئے تو وہ مرتد ہوگئے اور انہوں نے ان کے چرواہوں کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو ان کی تلاش میں بھیجا اور وہ ان کو تلاش کر کے لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے اور انہیں داغا نہیں،یہاں تک کہ وہ مر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلاخیں بھی پھیری تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6800
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6802، ومسلم: 1671، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13076»
حدیث نمبر: 6801
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَاسْتَوْخَمُوا الْأَرْضَ فَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِي آخِرِهِ ثُمَّ نُبِذُوا فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) عکل قبیلے کے آٹھ افراد رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسلام پر بیعت کی،مدینہ کی سرزمین کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی اور ان کے جسم بیمار پڑ گئے، جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کی شکایت کی تو … پھر اوپر والی حدیث کی مانند بیان کیا … ، البتہ اس کے آخر میں ہے: پھر انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا،یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6801
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12967»
حدیث نمبر: 6802
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَأَلْقَاهُمْ بِالْحَرَّةِ قَالَ أَنَسٌ قَدْ كُنْتُ أَرَى أَحَدَهُمْ يَكْدِمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا قَالَ قَتَادَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ إِنَّمَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: آپ نے مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلاخیں پھیریں اور انہیں حرّہ زمین میں پھینک دیا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک فرد کو دیکھا کہ وہ اپنے منہ سے زمین کو کاٹتا تھا ، پھر وہ سب اسی حالت میں مرگئے۔محمد بن سیرین نے کہا: یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ لوگ محاربین تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: { اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَیُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗوَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْی’‘ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَاب’‘ عَظِیْم’‘} (المائدہ: ۳۳) ’’جو لوگ اللہ تعالی اوراس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیئے جائیںیا سولی چڑھا دیئے جائیںیا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں،یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری اور آخرت میں ان کے
لیے بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘
سیدنا ابن عمر d نے کہا: یہ آیت عرنیین کے بارے میں نازل ہوئی۔ (ابوداود: ۴۳۶۹، نسائی: ۷/ ۱۰۰) مذکورہ بالا احادیث میں ان ہی عرینہ اور عکل قبیلے کے افراد کا ذکر ہے، لیکنیہ آیت ان لوگوں کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ اس قسم کے جرائم کرنے والوں کے لیے عام حکم رکھتی ہے۔
جناب ابو قلابہ نے کہا: ھٰؤُلَائِ قَوْمٌ سَرَقُوْا وَقَتَلُوا وَکَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِھِمْ وَحَارَبُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ۔ … انلوگوںنےچوری کی، قتل کیا، ایمان کے بعد پھر سے کفر کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ کیا۔
(صحیح بخاری: ۶۸۰۲، ۶۸۰۵)
اس بحث سے ثابت ہوا کہ یہ لوگ محارِب تھے اور ان کو محاربہ کی سزا دی گئی۔
امام محمد بن سیرین کے قول کا مطلب یہ ہے کہ دوسری حدود کے نزول سے قبل محاربہ کا حکم نازل ہوا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6802
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14107»