کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جس آدمی سے شراب کا نشہ یا اس کی بو محسوس کی جا رہی ہو، کیا اس پر حکم ثابت ہو جائے گی، اگرچہ وہ اعتراف نہ کرے؟
حدیث نمبر: 6795
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقِتْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ شَرِبَ رَجُلٌ فَسَكِرَ فَلَقِيَ يَمِيلُ فِي فَجٍّ فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا حَاذَى بِدَارِ عَبَّاسٍ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى عَبَّاسٍ فَالْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ وَقَالَ قَدْ فَعَلَهَا ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْهُمْ فِيهِ بِشَيْءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کی حد مقرر نہیں فرمائی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے شراب پی اور وہ اس میں اتنا مست تھا کہ ایک گلی میں لڑ کھڑا رہاتھا، اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جایا گیا، جب وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے برابر پہنچا تو وہ ہاتھوں سے نکل کر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوگیا اور ان کے پیچھے سے ان کو چمٹ گیا، جب لوگوں نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور فرمایا: کیا واقعتا اس نے ایسا کیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں کوئی حکم نہ دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6795
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، محمد بن علي بن يزيد بن ركانة في عداد المجھولين، وفي متن حديثه مخالفة للأحاديث الصحيحة التي فيھا ان حد شارب الخمر كان علي زمن النبيV اربعين، أخرجه ابوداود: 4476، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2963»
حدیث نمبر: 6796
عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَرَأَ سُورَةَ يُوسُفَ بِحِمْصَ فَقَالَ رَجُلٌ مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ فَدَنَا مِنْهُ عَبْدُ اللَّهِ فَوَجَدَ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ فَقَالَ أَتُكَذِّبُ بِالْحَقِّ وَتَشْرَبُ الرِّجْسَ لَا أَدَعُكَ حَتَّى أَجْلِدَكَ حَدًّا قَالَ فَضَرَبَهُ الْحَدَّ وَقَالَ وَاللَّهِ لَهَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حمص میں سورۂ یوسف پڑھی، ایک آدمی نے کہا: یہ اس طرح نازل نہیں ہوئی، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ جب اس کے قریب ہوئے تو اس سے شراب کی بو محسوس کی، پھر انھوں نے اس سے کہا: کیا تو حق کو جھٹلاتا ہے اور یہ گندی چیز پیتا ہے، میں تجھے حد لگائے بغیر نہیں چھوڑوں گا، پھر انھوں نے اسے حد لگائی اور کہا: اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سورت مجھے اسی طرح پڑھائی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … شرابی کو تین صورتوں میں سزا دی جائے گی: (۱) جب دو عادل گواہ گواہی دے دیں۔
(۲) جب وہ خود اقرار کرے۔
(۳) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ولید بن عقبہ کو شراب کی حدّ اس بنا پر لگائی کہ ایک آدمی نے کہا: میں نے اس کو شراب پیتے ہوئے دیکھا اور دوسرے نے کہا: میں نے اس کو شراب کی قے کرتے ہوئے دیکھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تک شراب نہ پی ہو، قے کیسے کر سکتا ہے، پھر انھوں نے اس کو حدّ لگائی۔ (صحیح مسلم: ۱۷۰۷)
بہرحال تیسری صورت میں واضح علامت کا ہونا ضروری ہے، جیسے قے، بو وغیرہ، جبکہ یہیقین ہو کہ یہ بو معدے سے آ رہی ہے اور واقعی شراب کی ہے، جیسے تمباکو نوشی کرنے والے کے منہ سے آنے والی بد بو سے واضح طور پر پتہ چل رہا ہوتا ہے کہ اس نے تمباکو نوشی کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6796
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5001، ومسلم: 801، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3591 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3591»