کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
حدیث نمبر: 6773
عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ وَعْلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ صَلَّى بِالنَّاسِ الصُّبْحَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ أَزِيدُكُمْ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُجْلَدَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قُمْ يَا حَسَنُ فَاجْلِدْهُ قَالَ وَفِيمَ أَنْتَ وَذَاكَ فَقَالَ عَلِيٌّ بَلْ عَجَزْتَ وَوَهَنْتَ قُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ فَاجْلِدْهُ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَلَدَهُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ قَالَ أَمْسِكْ ثُمَّ قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ أَرْبَعِينَ وَضَرَبَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَعُمَرُ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حضین بن منذر سے روایت ہے کہ ولید بن عقبہ نے لوگوں کو نماز فجر پڑھائی، جب وہ فارغ ہوا تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: کیا میں تم کو مزید نماز پڑھاؤں؟ یہ معاملہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش کیا گیا، انھوں نے اس کو کوڑے مارنے کا حکم دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہااے حسن! کھڑے ہو جاؤ اور اس کو کوڑے مارو، انہوں نے کہا: آپ کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم عاجز آ گئے ہو اور کمزور پڑ گئے ہو، پھر انھوں نے کہا: اے عبد اللہ بن جعفر! کھڑے ہو جاؤ اور اس کو کوڑے لگاؤ، پس سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے اس کو کوڑے مارے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے شمار کرنا شروع کر دیا۔ جب وہ چالیس تک پہنچ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رک جاؤ۔ پھر کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب پینے کی وجہ سے چالیس کوڑے لگائے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے پورے دور میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے شروع میں چالیس چالیس کوڑے لگائے، پھر سیدنا عمر نے شراب کی سزا اسی (۸۰) کوڑے پورے کر دیئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6773
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1707، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1230 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1230»
حدیث نمبر: 6774
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرُوهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ الْوَلِيدِ أَيْ بِشُرْبِهِ الْخَمْرَ فَكَلَّمَهُ عَلِيٌّ فِي ذَلِكَ فَقَالَ دُونَكَ ابْنَ عَمِّكَ فَأَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ فَقَالَ يَا حَسَنُ قُمْ فَاجْلِدْهُ قَالَ مَا أَنْتَ مِنْ هَذَا فِي شَيْءٍ وَلِّ هَذَا غَيْرَكَ قَالَ بَلْ ضَعُفْتَ وَوَهَنْتَ الْحَدِيثُ بِنَحْوِ الطَّرِيقِ الْأُولَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اہل کوفہ سے کچھ لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ولید کے بارے میں شراب پینے کی اطلاعات دیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اس موضوع پر بات کی، انھوں نے کہا: تم خود اپنے چچے کے بیٹے کو پکڑو اور اس پر حدّ قائم کرو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے حسن! کھڑے ہو جاؤ اور اس کو کوڑے لگاؤ، انھوں نے کہا: آپ کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے، یہ معاملہ کسی اور کے سپرد کر دو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ تم کمزور پڑ گئے ہو اوربزدل ہو گئے ہو، … ۔ پھر پہلی روایت کی طرح کی روایت بیان کی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ولید کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے چچا کا بیٹا اس لئے قرار دیا تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ، ہاشم کی اولاد میں سے تھے اور ولید، عبد شمس کی اولاد میں سے تھے اس اعتبار سے یہ اوپر جا کر چچا کے بیٹے ثابت ہوئے ہیں، ہاشم اور عبد شمس دونوں عبد ِ مناف کے بیٹے تھے۔
سنن ابو داود (۴۴۸۹) کی ایک روایت میں ہے: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف یہ خط لکھا: لوگ بہت زیادہ شراب پینے لگ گئے ہیں اور انھوں نے موجود حدّ اور سزا کو کم سمجھ لیا ہے، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اوّلین مہاجرین سے مشورہ کیا اور اُن سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اب اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب آدمی شراب پیتا ہے تو وہ بہتان تراشیاں کرتا ہے اور تہمتیں لگاتا ہے، لہذا میرا خیالیہ ہے کہ اس کو تہمت والی حدّ لگائی جائے۔ (ابوداود: ۴۴۸۹)
سنن ابو داود (۴۴۸۸) میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی لایا گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حنین میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے چہرے پر مٹی پھینکی اور صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اس کو ماریں، پس انھوں نے جوتوں کے ساتھ اور جس کے ہاتھ میں جو چیز تھی، اس کے ساتھ اس کی پٹائی کی،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اب بس کر دو۔‘‘ پس وہ رک گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک ایسے معاملہ چلتا رہا، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ شراب کی وجہ سے چالیس کوڑے لگائے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابتدائے خلافت کے ایام میں چالیس اور پھر اسی (۸۰) کوڑے شروع کیے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے زمانۂ خلافت میں (۴۰ اور ۸۰) دونوں سزائیں جاری رکھیں اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسی (۸) کی حدّ کو نافذ کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6774
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 624»
حدیث نمبر: 6775
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اضْرِبُوهُ قَالَ فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ وَمِنَّا الضَّارِبُ بِنَعْلِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَخْزَاكَ اللَّهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُولُوا هَكَذَا لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ وَلَكِنْ قُولُوا رَحِمَكَ اللَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا، اس نے شراب پی ہوئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے مارو۔ پھر ہم میں سے کسی نے اس کو اپنے ہاتھ سے مارا، کسی نے جوتے سے مارا اور کسی نے کپڑے سے مارا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو ایک آدمی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو، بلکہ تم یہ کہو : اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے۔
وضاحت:
فوائد: … جس آدمی کو حد لگائی جا رہی ہو، اس کے لیے بد دعا نہیں کی جا سکتی، بلکہ اس کے حق میں دعا کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6775
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6777، 6781 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7973»
حدیث نمبر: 6776
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَالَ مِسْعَرٌ أَظُنُّهُ فِي شَرَابٍ فَضَرَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا،اس نے شراب پی ہوئی تھی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دو جوتوں سے مارتے ہوئے چالیس جوتے مارے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6776
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 1442، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11277 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11297»
حدیث نمبر: 6777
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جُلِدَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ عُمَرَ جُلِدَ بَدَلَ كُلِّ نَعْلٍ سَوْطًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں دو جوتوں سے شراب کی حد لگاتے ہوئے چالیس جوتے مارے جاتے تھے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانۂ خلافت تھا تو انھوں نے ہر جوتے کے عوض ایک کوڑا مارا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6777
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف زيد العمي، والمسعودي قد اختلط، وسماع يزيد منه بعد الاختلاط، أخرجه ابن ابي شيبة: 9/ 547، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 3/157 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11664»
حدیث نمبر: 6778
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ أَرْبَعِينَ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ وَدَنَا النَّاسُ مِنَ الرِّيفِ وَالْقُرَى قَالَ لِأَصْحَابِهِ مَا تَرَوْنَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ اجْعَلْهَا كَأَخَفِّ الْحُدُودِ فَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے شراب کی حدلگائی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی یہی حد لگائی،یحییٰ کی حدیث کے مطابق چالیس ضربیں لگائی جاتی تھیں، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت شروع ہوئی تو لوگ فتوحات کی کثرت سے خوش حال ہوئے تو شراب نوشی میں اضافہ ہوا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور کہا: اب اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ سب سے ہلکی حد مقرر کر دیں، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شرابی کی حد اسی کوڑے مقرر کر دیئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6778
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6773، 6776، ومسلم: 1706، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12163»
حدیث نمبر: 6779
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَلَدَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ قَالَ وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ اسْتَشَارَ النَّاسَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَخَفُّ الْحُدُودِ ثَمَانُونَ قَالَ فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا، اس نے شراب پی ہوئی تھی، آپ نے اسے کھجور کی دو ٹہنیوں سے چالیس ضربیں لگائیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی یہی سنت جاری رکھی، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انھوں نے لوگوں سے مشورہ کیا،سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ مشورہ دیا کہ سب سے ہلکی حد اسی (۸۰) کوڑے ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شرابی کو اسی کوڑے لگانے کا حکم دے دیا۔
وضاحت:
فوائد: … شریعت ِ اسلامیہ میں سب سے ہلکی حدّ تہمت لگانے والے کی ہے، یعنی اسی (۸۰) کوڑے، باقی تمام حدود اس سے زیادہ سنگین ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6779
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12836»
حدیث نمبر: 6780
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَأْتِي بِالشَّارِبِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمْرَةِ عُمَرَ فَنَقُومُ إِلَيْهِ فَنَضْرِبُهُ بِأَيْدِينَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِيَتِنَا حَتَّى كَانَ صَدْرًا مِنْ إِمْرَةِ عُمَرَ فَجَلَدَ فِيهَا أَرْبَعِينَ حَتَّى إِذَا عَتَوْا فِيهَا وَفَسَقُوا جَلَدَ ثَمَانِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں ،سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں شرابی کو لاتے اور اس کے قریب کھڑے ہو کر اس کو ہاتھوں، جوتوں اور کپڑوں سے مارتے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے شروع میں شرابی کی حد چالیس کوڑے کر دی گئی، لیکن جب شرابیوں نے سرکشی کی اور انھوں نے فسق اختیار کر لیا تو شرابی کی سزا اسی کوڑے کر دی گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6780
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6779 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15810»
حدیث نمبر: 6781
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالنُّعَيْمَانِ أَوِ ابْنِ النُّعَيْمَانِ وَهُوَ سَكْرَانُ، قَالَ: فَاشْتَدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ: فَشَقَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةً شَدِيدَةً) وَأَمَرَ مَنْ فِي الْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ، قَالَ عُقْبَةُ: فَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) فَضَرَبُوهُ بِالأَيْدِي وَالْجَرِيدِ، فَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نعیمان یا ابن نعمان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، وہ نشے میں مست تھے، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گراں گزری، ایک روایت میں ہے: اس صورتحال سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بڑی مشقت ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر میں موجود افراد کو حکم دیا کہ وہ اس کو ماریں، سیدنا عقبہ کہتے ہیں؟ میں بھی اس کو مارنے والوں میں تھا، ہم نے اس کو ہاتھوں اور کھجور کی ٹہنیوں سے مارا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا نعیمان رضی اللہ عنہ اسلام کے اولین سپوتوں میں سے تھے، یہ بیعت ِ عقبہ اور غزوۂ بدر اور دیگر کئی معرکوں میں شریک ہوئے تھے، یہ خوش طبع انسان تھے، نبی کریم بھی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خوش طبعی سے مسکراتے تھے، ان جیسے عظیم لوگوں کو شراب سے دور رہنا چاہیے تھا، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رنج و ملال زیادہ ہوا۔
اس جگہ اگرچہ شک کے ساتھ ہے کہ نعیمانیا ابن نعیمان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، لیکن صحیح بخاری، کتاب الوکالۃ میں شک کے بغیر ہے کہ نعیمان کو لایا ہے۔ مزید وہاں یہ بھی ہے اس کو لانے والے حدیث کے راوی عقبہ بن حارث خود ہی تھے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6781
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6775، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16255»
حدیث نمبر: 6782
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ يَوْمِ الْفَتْحِ وَأَنَا غُلامٌ شَابٌّ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِشَارِبٍ فَأَمَرَهُمْ فَضَرَبُوهُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِعَصًا وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِسَوْطٍ وَحَثَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ التُّرابَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد الرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ والے دن دیکھا ، جبکہ میں نوخیز جوان تھا،آپ لوگوں کے بیچوں بیچ سے آ رہے تھے اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے گھر کے متعلق دریافت کر رہے تھے، اسی اثناء میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شرابی کو لایاگیا، آپ نے لوگوں کو حکم دیا اور ان کے ہاتھوں میں جو چیز بھی تھی، انھوں نے اس کو اس سے مارنا شروع کر دیا، کسی نے لاٹھی سے مارا اور کسی نے کوڑے سے مارا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر چلو بھر مٹی پھینکی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6782
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 4489، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16933»
حدیث نمبر: 6783
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِسَكْرَانٍ فَأَمَرَ مَنْ كَانَ مَعَهُ أَنْ يَضْرِبُوهُ بِمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ حنین والے دن لوگوں کے درمیان سے گزرتے آ رہے تھے اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے گھر کے بارے میں دریافت کر رہے تھے، اسی اثناء میں آپ کے پاس ایک شرابی لایا گیا،پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھ والے لوگوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھوں میں جو کچھ ہے، وہ اس کے ساتھ اس کو ماریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6783
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16932»
حدیث نمبر: 6784
عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ قَالَ: لَا أَشْرَبُ نَبِيذًا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: جِيءَ بِرَجُلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالُوا: إِنَّهُ نَشْوَانُ، فَقَالَ: إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا فِي دُبَّاءَةٍ، قَالَ: فَخُفِقَ بِالنِّعَالِ وَنُهِزَ بِالأَيْدِي، وَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو وداک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اس وقت سے نبیذ نہیں پی، جب سے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، لوگوں نے بتایا کہ اس نے نشہ کر رکھا ہے، اس نے کہا: میں نے تو کدو کے برتن میں منقّی اور کھجور ڈال کر پی ہے، بہرحال جوتوں سے اس کی پٹائی کی گئی اور ہاتھوں سے اس کو دھکے دئیے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدو والے برتن اور منقّی اور کھجور ملا کر پینے سے منع فرما دیا۔
وضاحت:
فوائد: … جب شراب حرام ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن برتنوں سے منع کیا تھا، ان میں سے ایک کدو کا برتن تھا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن تمام برتنوں کے استعمال کو جائز قرار دیا تھا۔ منقّی اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ ان میں جلدی نشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6784
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الطيالسي: 2176، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 5292 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11317»
حدیث نمبر: 6785
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَكْرَانٍ فَضَرَبَهُ الْحَدَّ، فَقَالَ: ((مَا شَرَابُكَ؟)) فَقَالَ: الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ، قَالَ: ((يَكْفِي كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا س ایک نشہ میں مست آدمی لایا گیا، آپ نے اس پر حد لگائی اور اس سے پوچھا : تیری شراب کس چیز سے تیار کی گئی ہے؟ اس نے کہا: منقّی اور کھجور سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے ہر ایک چیز دوسری سے کفایت کرتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6785
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة النجراني الذي روي عنه ابو اسحاق، أخرجه ابويعلي: 5783، والطيالسي: 1940، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4786 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4786»
حدیث نمبر: 6786
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ أَقَمْتُ عَلَيْهِ حَدًّا فَمَاتَ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي إِلَّا الْخَمْرَ، فَإِنَّهُ لَوْ مَاتَ لَوَدَيْتُهُ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں کسی آدمی پر حد قائم کروں اور وہ مرجائے تو مجھے کوئی غم نہیں ہوگا، ما سوائے شراب کی حد لگاتے ہوئے، اگر کوئی اس حد کے دوران مر جائے گا تو میں اس کی دیت ادا کروں گا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی حدّ کو متعین نہیں کیا۔
وضاحت:
فوائد: … دوسری حدود کی طرح شراب کی حدّ کا تعین نہیں کیا گیا، اس لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ رائے دی اور احتیاط کا یہی تقاضا ہے۔ حقیقتیہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شرابی کی حدّ مقرر نہیں تھی۔ چھڑی، جوتوں، کپڑوںسے سزا دے دی جاتی تھی، البتہ یہ بات درست ہے کہ ایک موقع پر زیادہ سے زیادہ چالیس ضربیں لگائی گئیں، اسی چیز کو دیکھ کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کا قانون جاری رکھا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کبار صحابہ کے مشورے سے اسی (۸۰) کوڑوں تک سزا زیادہ کر دی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رائے بڑی دور اندیشی پر مشتمل تھی کہ شرابی تہمت اور بہتان والی باتیں کرتا ہے، اس لیے اس کو تہمت والی سزا دی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تحريم الخمر وحد شاربها / حدیث: 6786
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6778، ومسلم: 1707، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1024 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1024»