کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
حدیث نمبر: 6767
عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِرُودَسَ حِينَ جَلَدَ الرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ سَرَقَا غَنَائِمَ النَّاسِ فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ قَطْعِهِمَا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ أَرْطَاةَ وَجَدَ رَجُلًا سَرَقَ فِي الْغَزْوِ يُقَالُ لَهُ مَصْدَرٌ فَجَلَدَهُ وَلَمْ يَقْطَعْ يَدَهُ وَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَطْعِ فِي الْغَزْوِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ جنادہ بن ابی امیہ نے روڈس جزیرہ میں ان دو آدمیوں پر حد لگائی، جنہوں نے مال غنیمت سے چوری کی تھی اور پھر منبر پر چڑھ کر کہا:میں نے ان کے ہاتھ اس لئے نہیں کاٹے، کیونکہ میں نے سیدنا بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے مصدر نامی ایک آدمی کو اس حال میں پایا کہ اس نے غزوہ کے دوران چوری کی تھی، تو انہوں نے اسے کوڑے مارے ، ہاتھ نہیں کاٹا،نیز انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں غزوہ کے دوران ہاتھ کاٹنے سے منع کیاہے۔
حدیث نمبر: 6768
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كُنْتُ عِنْدَ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ فَأُتِيَ بِمَصْدَرٍ قَدْ سَرَقَ بُخْتِيَّةً فَقَالَ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنِ الْقَطْعِ فِي الْغَزْوِ لَقَطَعْتُكَ فَجَلَدَ ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں سیدنا بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، مصدرکو ان کے پاس لایا گیا، اس نے ایک بختی اونٹ کی چوری کی تھی، سیدنا بسر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غزوے میں ہاتھ کاٹنے سے منع کرتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو میں نے تیرا ہاتھ کاٹ دینا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سنن نسائی (۴۹۸۲) کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تُقْطَعُ الْاَیْدِیْ فِیْ السَّفَرِ۔)) … ’’سفر میں چور کے ہاتھ نہ کاٹے جائیں۔‘‘ لیکن سفر سے مراد جنگ کا سفر ہے، جیسا کہ اس باب کی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے، جنگ کے سفر میں بڑا مقصود دشمن کی شکست ہے، اس لیے اسی پر توجہ دی جائے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے موقع پر ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ یہ ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص مشتعل ہو کر دشمنوں کے علاقے میں بھاگ جائے اور ان کے ساتھ مل کر مرتدّ ہو جائے۔ لیکن اس حکم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حد بالکل ساقط کر دی جائے، بلکہ جب سفر سے واپسی ہو گی تو حد لگائی جائے گی، کیونکہ شریعت کی مقررہ حدود ساقط نہیں ہو سکتیں۔
حدیث نمبر: 6769
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاهِدُوا النَّاسَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ وَلَا تُبَالُوا فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی خاطرقریب اور دور والوں سے جہاد کرو اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی ملامت کرنیوالے کی ملامت کی پرواہ نہ کرو اور حضر وسفر میں اللہ تعالیٰ کی حدیں قائم کرو۔
وضاحت:
فوائد: … مسافر اللہ تعالی کی حدود سے مستثنی نہیں ہے، البتہ اس باب کی پہلی حدیث سے معلوم ہوا کہ سفرِ جنگ میں حد کے نفاذ میں تاخیر کی رخصت دی جائے گی۔