کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: جب غلام، آقا کی چوری کرے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، نیز بھاگے ہوئے غلام کا حکم کیا ہے، جب وہ چوری کرے
حدیث نمبر: 6764
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ فَبِيعُوهُ وَلَوْ بِنَشٍّ يَعْنِي بِنِصْفِ أُوقِيَّةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب غلام چوری کرے تو اسے فروخت کر دو، اگرچہ نصف اوقیہ کے عوض بیچنا پڑے۔
وضاحت:
فوائد: … ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 6765
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ وَقَالَ مَرَّةً إِذَا سَرَقَ فَبِيعُوهُ وَلَوْ بِنَشٍّ وَالنَّشُّ نِصْفُ الْأُوقِيَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب غلام بھاگ جائے، راوی نے ایک بار یہ الفاظ کہے: جب غلام چوری کرے تو اسے فروخت کر دے، اگرچہ بیس درہم کے عوض فروخت کرنا پڑے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث تو ضعیف ہے، البتہ درج ذیل حدیث ملاحظہ کریں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر حد قائم کروں، لیکن جب میں اس کے پاس آیا تو اس کو اس حال میں پایا کہ ابھی اس کا نفاس کا خون خشک نہیں ہوا تھا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ گیااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صورتحال پر مطلع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا جَفَّتْ مِنْ دَمِہَا فَأَقِمْ عَلَیْہَا الْحَدَّ، أَقِیْمُوْا الْحُدُوْدَ عَلٰی مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ۔ …)) ’’جب اس کا خون خشک ہو جائے تو پھر اس کو حد لگانا،اپنے غلاموں پر بھی حدیں قائم کیا کرو۔‘‘ دیکھیں: حدیث نمبر (۶۷۲۱)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غلاموں اور لونڈیوں پر حدود نافذ کی جائیں گی، جب تک ان کو مستثنی کرنے والی کوئی واضح نص نہ آ جائے۔
امام مالک، امام شافعی اور عام اہل علم کییہی رائے ہے کہ چوری کی حدّ غلام اور لونڈی پر نافذ کی جائے گی۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غلاموں اور لونڈیوں پر حدود نافذ کی جائیں گی، جب تک ان کو مستثنی کرنے والی کوئی واضح نص نہ آ جائے۔
امام مالک، امام شافعی اور عام اہل علم کییہی رائے ہے کہ چوری کی حدّ غلام اور لونڈی پر نافذ کی جائے گی۔