کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: چور کے اقرار پر ہاتھ کاٹنے، حد کے بارے میں تلقین کرنے اور کاٹنے کے بعد ہاتھ کو داغنے کا بیان، نیز اس چیز کا بیان کہ کیا ایک مرتبہ چوری کا اعتراف کافی ہے
حدیث نمبر: 6763
عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ فَاعْتَرَفَ وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ قَالَ بَلَى مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْطَعُوهُ ثُمَّ جِيئُوا بِهِ قَالَ فَقَطَعُوهُ ثُمَّ جَاءُوا بِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ قَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، اس نے چوری کا اعتراف تو کیا، لیکن اس کے پاس سامان نہیں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میرا خیال ہے تو نے چوری نہیں کی۔ اس نے کہا: کیوں نہیں، میں نے چوری کی ہے،دو یا تین مرتبہ ایسے ہی کہا گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا ہاتھ کاٹ دو اور پھر اس کو میرے پاس لے آؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو کہہ: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ إِلَیْہِ (میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتاہوں)۔ اس نے کہا: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ إِلَیْہِ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کی توبہ قبول فرما۔
وضاحت:
فوائد: … چوری میں ایک سے زائد اعتراف کروانا ضروری ہے یا نہیں، ہم حدیث نمبر (۶۶۹۲)کی شرح میں اس مسئلہ کی وضاحت کر چکے ہیں۔ بیہقی اور دارقطنی کی روایتیوں ہے: ((اِقْطَعُوْا ثُمَّ احْسِمُوْہُ۔)) … ’’اس کا ہاتھ کاٹ دو اور پھر اس کو داغ دو۔‘‘ لیکنیہ روایت ضعیفہے، (دیکھیں: ارواء الغلیل: ۸/ ۱۲۰)
داغنے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ خون رک جائے۔
اگرچہ حدود کفارہ ہیں، لیکن اس موقع پر توبہ و استغفار کا حکم دینے کی وجہ یہ ہے کہ مجرم کے اندر یہ تصور مضبوط ہو جانا چاہئے کہ اس کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے، وہ اس کے اپنے جرم کے بدلے میں ہے، لہذا وہ استغفار اور ندامت کا اظہار کرے، نیز اس عمل سے اس کے اندر حوصلہ بھی پیدا ہو گا اور ذلت اور پریشانی کے اثرات کم ہو جائیں گے۔
داغنے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ خون رک جائے۔
اگرچہ حدود کفارہ ہیں، لیکن اس موقع پر توبہ و استغفار کا حکم دینے کی وجہ یہ ہے کہ مجرم کے اندر یہ تصور مضبوط ہو جانا چاہئے کہ اس کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے، وہ اس کے اپنے جرم کے بدلے میں ہے، لہذا وہ استغفار اور ندامت کا اظہار کرے، نیز اس عمل سے اس کے اندر حوصلہ بھی پیدا ہو گا اور ذلت اور پریشانی کے اثرات کم ہو جائیں گے۔