کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جنین کی دیت کا بیان
حدیث نمبر: 6605
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ بَنِي هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى فَأَلْقَتْ جَنِينًا فَقَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا اور اس کا جنین گرا دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جنین کی دیت کے طور پر ایک لونڈی یا غلام کا فیصلہ کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الدية / حدیث: 6605
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5759، 6904، ومسلم: 1681 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7216»
حدیث نمبر: 6606
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ فَقَالَ الَّذِي قَضَى عَلَيْهِ أَيُعْقَلُ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ فَقَالَ إِنَّ هَذَا الْقَوْلَ لَقَوْلُ شَاعِرٍ فِيهِ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنین کی دیت کے طور پر ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ کیا، جس پر یہ فیصلہ کیا گیا، اس نے کہا: کیا اس کی دیت دی جائے گی، جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چیخا، نہ چلایا، اس قسم کا نفس تو رائیگاں ہو جاتا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ باتیں تو شاعروں والی ہیں، میں کہہ رہا ہوں کہ جنین میں ایک غلام یا ایک لونڈی دیت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جنین: رحم مادر میںرہنے والے بچے کو جنین کہتے ہیں، وہ بھی ایک نفس ہوتا ہے، لیکن اس کی دیت دوسری جانوں سے کم ہوتی ہے، ایک غلام یا لونڈی اس بچے کی دیت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الدية / حدیث: 6606
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10472»
حدیث نمبر: 6607
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى لِحَمْلِ بْنِ مَالِكٍ الْهُذَلِيِّ بِمِيرَاثِهِ عَنِ امْرَأَتِهِ الَّتِي قَتَلَتْهَا الْأُخْرَى وَقَضَى فِي الْجَنِينِ الْمَقْتُولِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ قَالَ فَوَرِثَهَا بَعْلُهَا وَبَنُوهَا قَالَ وَكَانَ لَهُ مِنْ امْرَأَتَيْهِ كِلْتَيْهِمَا وَلَدٌ قَالَ فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ الْمُقْضَى عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا صَاحَ وَلَا اسْتَهَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذَا مِنَ الْكُهَّانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمل بن مالک ہذلی کے لئے ان کی اس بیوی سے وراثت حاصل کرنے کا فیصلہ دیا تھا، جسے ان کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایاتھا کہ قتل ہونے والے جنین کی دیت ایک لونڈی یا ایک غلام ہو گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس مقتولہ عورت کے بیٹے اور خاوند اس کے وارث بنیں گے۔ حمل بن مالک کی دونوں بیویوں سے اولاد تھی، قاتلہ کے باپ، جس نے ایک غلام یا ایک لونڈی دینی تھی، نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی چٹی کس طرح بھروں، جو نہ چیخا، نہ چلایا، نہ اس نے پیا اور نہ کھایا، اس قسم کے نفس تو رائیگاں ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو نجومیوں میں سے ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الدية / حدیث: 6607
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف،الفضيل بن سليمان النميري لين الحديث، واسحاق بن يحيي بن الوليد مجھول الحال، ثم روايته عن جده عبادة مرسلة ، لكن قصة حمل بن مالك ھذه صحيحة بالشواھد۔ أخرجه ابن ماجه: 2643 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»
حدیث نمبر: 6608
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي عَقْلِ الْجَنِينِ إِذَا كَانَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ فَقَضَى بِذَلِكَ فِي امْرَأَةِ حَمْلِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيِّ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنین کی دیت کے بارے میں ایک غلام یا ایک لونڈی کا فیصلہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی کی بیوی کے بارے میں یہی فیصلہ دیا تھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اسلام میں شغار نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … شغارکی تفصیل نکاح والے ابواب میں دیکھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الدية / حدیث: 6608
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7026 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7026»
حدیث نمبر: 6609
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ اسْتَشَارَهُمْ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ فَقَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْغُرَّةِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَأْتِ بِأَحَدٍ يَعْلَمُ ذَلِكَ فَشَهِدَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں مشورہ کیا کہ جب عورت (کسی کے چوٹ وغیرہ مارنے سے) قبل از وقت بچہ گرادے، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں یہ فیصلہ کیا کہ ایک لونڈی یا غلام دینا ہو گا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے کہا : اگر آپ سچے ہیں تو ایسا گواہ پیش کرو جو اس معاملے کو جانتا ہو، پھر سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فیصلہ دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الدية / حدیث: 6609
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6908، ومسلم: 1683، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18316»