کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد¤اور قتل شبہ عمد کا بیان
حدیث نمبر: 6580
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فَذَكَرَ حَدِيثًا قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَذَكَرَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَإِنَّهُ يُدْفَعُ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً فَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَهُمْ وَذَلِكَ شَدِيدُ الْعَقْلِ وَعَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظَةٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ وَذَلِكَ أَنْ يَنْزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنَ النَّاسِ فَتَكُونَ دِمَاءٌ فِي غَيْرِ ضَغِينَةٍ وَلَا حَمْلِ سِلَاحٍ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَعْنِي مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا وَلَا رَصَدَ بِطَرِيقٍ فَمَنْ قُتِلَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ شِبْهُ الْعَمْدِ وَعَقْلُهُ مُغَلَّظَةٌ وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ وَهُوَ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَلِلْحُرْمَةِ وَلِلْجَارِ وَمَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثُونَ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَثَلَاثُونَ ابْنَةُ لَبُونٍ وَثَلَاثُونَ حِقَّةٌ وَعَشْرُ بَكَارَةٍ بَنِي لَبُونٍ ذُكُورٍ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقِيمُهَا عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَمِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عِدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ وَكَانَ يُقِيمُهَا عَلَى أَثْمَانِ الْإِبِلِ فَإِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا وَإِذَا هَانَتْ نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا عَلَى عَهْدِ الزَّمَانِ مَا كَانَ فَبَلَغَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ أَرْبَعِمِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِمِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عِدْلُهَا مِنَ الْوَرِقِ ثَمَانِيَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ وَقَضَى أَنَّ مَنْ كَانَ عَقْلُهُ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ فِي الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ وَقَضَى أَنَّ مَنْ كَانَ عَقْلُهُ عَلَى أَهْلِ الشَّاءِ فَأَلْفَيْ شَاةٍ وَقَضَى فِي الْأَنْفِ إِذَا جُدِعَ كُلُّهُ بِالْعَقْلِ كَامِلًا وَإِذَا جُدِعَتْ أَرْنَبَتُهُ فَنِصْفُ الْعَقْلِ وَقَضَى فِي الْعَيْنِ نِصْفَ الْعَقْلِ خَمْسِينَ مِنَ الْإِبِلِ أَوْ عِدْلَهَا ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا أَوْ مِائَةَ بَقَرَةٍ أَوْ أَلْفَ شَاةٍ وَالرِّجْلِ نِصْفُ الْعَقْلِ وَالْيَدِ نِصْفُ الْعَقْلِ وَالْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الْعَقْلِ ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ مِنَ الْإِبِلِ أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ أَوِ الْبَقَرِ أَوِ الشَّاءِ وَالْجَائِفَةِ ثُلُثُ الْعَقْلِ وَالْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشَرَةَ مِنَ الْإِبِلِ وَالْمُوَضِّحَةِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ وَالْأَسْنَانُ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قصداً قتل کیا، اسے مقتول کے لواحقین کے حوالے کر دیاجائے گا، اگر وہ چاہیں تو اس کو قتل کردیں، چاہیں تو دیت لے لیں، جس کی تفصیل یہ ہے: تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس گابھن اونٹنیاں،یہ قتل عمد کی دیت ہے، نیز وہ جس چیز پر صلح کرلیں، وہ ان کے لیے ہو گی،یہ سخت ترین دیت ہے، شبہ عمد قتل کی دیت بھی قتل عمد کی طرح مغلظہ ہے، البتہ شبہ عمد والے قاتل کو قصاصاً قتل نہیں کیا جائے گا، یہ اس لیے ہے کہ شیطان لوگوں کے درمیان فساد برپا کر دیتا ہے اور پھر کینہ اور ہتھیاروں کے بغیر قتل ہو جاتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھایا، وہ ہم میں سے نہیں۔ اور نہ ایسے قتل کے لیے گھات لگایا جاتا ہے، جوا ن صورتوں کے علاوہ قتل کیا جائے وہ شبہ عمد ہے، اس کی دیت مغلظہ (سخت) ہے، شبہ عمدکے قاتل کو قصاص میں قتل نہیں کیاجائے گا، اس کا یہ حکم ہوگا اگرچہ حرمت والا مہینہ ہو، یا حرمت والی جگہ ہو یا پڑوسی ہو اور جو غلطی سے قتل ہو گیا، اس کی دیت سو اونٹ ہے، اس کی تفصیل یہ ہے: تیس بنت ِ مخاض، تیس بنت ِ لبون، تیس حِقّے اور دس ابن لبون، جو کہ مذکرہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بستی والوں پر اس دیت کے عوض چار سو دیناریا اس کے برابر چاندی مقرر کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹوں کی قیمتوں کو دیکھ کر سونے چاندی کی مقدار کا تعین کرتے تھے، جب اونٹوں کی قیمت بڑھ جاتی تو سونے چاندی کی مقدار بھی زیادہ کر دی جاتی اور جب ان کی قیمت کم ہو جاتی تو نقدی کی مقدار بھی کم کر دی جاتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں یہ قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک یا اس کے برابر چاندی آٹھ ہزار درہم رہی ہے،نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ جس نے دیت میں گائیں دینی ہوں تو وہ دو سو گائے دے اور بکریوں کے مالک دو ہزار بکریاں دیں۔ جب کوئی کسی کی مکمل ناک کاٹ دے تو اس کی پوری دیت یعنی سو اونٹ ہوں گے اور جب کوئی کسی کے ناک کا کنارہ کاٹ دے تو نصف دیت یعنی پچاس اونٹ ہوں گے، ایک آنکھ کی نصف دیت ہو گی، جو کہ پچاس اونٹ ہے یا ان کے برابر سونا یا چاندی یا سو گائے یا ہزار بکری ہے، پاؤں کی دیت نصف ہے، ایک ہاتھ کی دیت نصف ہے، مامومہ (یعنی دماغ تک اتر جانے والے زخم) کی دیت کل دیت کا ایک تہائی ہے، یعنی تینتیس اونٹ یا سونے اور چاندی کی صورت میں ان کی قیمت یا گائیں یا بکریاں، وہ زخم جو پیٹ تک پہنچ جائے اس کی دیت کل دیت کا ایک تہائی ہے، ٹوٹ جانے والی ہڈی کی دیت پندرہ اونٹ ہے، جس زخم سے ہڈی ننگی ہو جائے، اس کی دیت پانچ اونٹ ہے اور ایک دانت کی دیت پانچ اونٹ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث، دیت کے کئی مسائل پر مشتمل ہے، اگر اس کا بار بار مطالعہ کیا جائے تو تمام احکام سمجھ آ جائیں گے۔
قتل کی تین صورتیں ہیں: (۱)قتل عمد: … ایسا قتل ہے، جس سے مکلّف شخص کسی آدمی کو ایسے آلے سے قتل کرنے کی نیت کرے، جس میں اغلب گمان یہی ہو کہ وہ اسے قتل کر دے گا، مثلا بندوق، تلوار یا تیر وغیرہ۔
صرف اس قتل میں قصاص ہے، وگرنہ دیت ِ مغلظہ (بھاری دیت) لی جائے گی اور وہ ہے: تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس گابھن اونٹنیاں
(۲) قتل شبہ عمد: … لڑائی وغیرہ میں کسی کو قتل کرنے کی نیت نہ ہو اور نہ اسلحہ استعمال کیا گیا ہو، ڈنڈے سونٹے وغیرہ چلائے گئے ہوں، لیکن اس سے کوئی شخص مر گیا ہو۔
اس قتل میں قصاص نہیں ہے، البتہ دیت قتل عمد کی دیت کی طرح بھاری ہی ہو گی۔
(۳) قتل خطا: وہ قتل ہے کہ مارنا کسی اور کو تھا، لیکن قتل کوئی اور ہو گیا، مثلا شکار کی طرف گولی چلائی، لیکن کسی انسان کو لگ گئی۔
اس قتل میں قصاص نہیں ہے اور دیت بھی ہلکی ہو گی،یعنی تیس بنت ِ مخاض، تیس بنت ِ لبون، تیس حِقّے اور دس ابن لبون، ایسے قاتل کو ایک غلام یا لونڈی کو آزاد کرکے کفارہ بھی دینا پڑے گا، اگر گردن آزاد کرنے کی طاقت نہ ہو تو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے جائیں گے، ملاحظہ ہو: سورۂ نسائ: آیت نمبر ۹۲
قتل کی تین صورتیں ہیں: (۱)قتل عمد: … ایسا قتل ہے، جس سے مکلّف شخص کسی آدمی کو ایسے آلے سے قتل کرنے کی نیت کرے، جس میں اغلب گمان یہی ہو کہ وہ اسے قتل کر دے گا، مثلا بندوق، تلوار یا تیر وغیرہ۔
صرف اس قتل میں قصاص ہے، وگرنہ دیت ِ مغلظہ (بھاری دیت) لی جائے گی اور وہ ہے: تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس گابھن اونٹنیاں
(۲) قتل شبہ عمد: … لڑائی وغیرہ میں کسی کو قتل کرنے کی نیت نہ ہو اور نہ اسلحہ استعمال کیا گیا ہو، ڈنڈے سونٹے وغیرہ چلائے گئے ہوں، لیکن اس سے کوئی شخص مر گیا ہو۔
اس قتل میں قصاص نہیں ہے، البتہ دیت قتل عمد کی دیت کی طرح بھاری ہی ہو گی۔
(۳) قتل خطا: وہ قتل ہے کہ مارنا کسی اور کو تھا، لیکن قتل کوئی اور ہو گیا، مثلا شکار کی طرف گولی چلائی، لیکن کسی انسان کو لگ گئی۔
اس قتل میں قصاص نہیں ہے اور دیت بھی ہلکی ہو گی،یعنی تیس بنت ِ مخاض، تیس بنت ِ لبون، تیس حِقّے اور دس ابن لبون، ایسے قاتل کو ایک غلام یا لونڈی کو آزاد کرکے کفارہ بھی دینا پڑے گا، اگر گردن آزاد کرنے کی طاقت نہ ہو تو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے جائیں گے، ملاحظہ ہو: سورۂ نسائ: آیت نمبر ۹۲
حدیث نمبر: 6581
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْكُبْرَى الْمُغَلَّظَةِ ثَلَاثِينَ ابْنَةَ لَبُونٍ وَثَلَاثِينَ حِقَّةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً وَقَضَى فِي دِيَةِ الصُّغْرَى ثَلَاثِينَ ابْنَةَ لَبُونٍ وَثَلَاثِينَ حِقَّةً وَعِشْرِينَ ابْنَةَ مَخَاضٍ وَعِشْرِينَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورٍ ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهَانَتِ الدَّرَاهِمُ فَقَوَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِبِلَ الْمَدِينَةِ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ حِسَابَ أُوقِيَّةٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَ الْوَرِقُ فَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَلْفَيْنِ حِسَابَ أُوقِيَّتَيْنِ لِكُلِّ بَعِيرٍ ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتِ الدَّرَاهِمُ فَأَتَمَّهَا عُمَرُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا حِسَابَ ثَلَاثِ أَوَاقٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ قَالَ فَزَادَ ثُلُثَ الدِّيَةِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَثُلُثًا آخَرَ فِي الْبَلَدِ الْحَرَامِ قَالَ فَتَمَّتْ دِيَةُ الْحَرَمَيْنِ عِشْرِينَ أَلْفًا قَالَ فَكَانَ يُقَالُ يُؤْخَذُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ مَاشِيَتُهُمْ لَا يُكَلَّفُونَ الْوَرِقَ وَلَا الذَّهَبَ وَيُؤْخَذُ مِنْ كُلِّ قَوْمٍ مَالُهُمْ قِيمَةَ الْعَدْلِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑی اور مغلظہ دیت کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا کہ اس میں تیس بنت ِ لبون، تیس حِقّے اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں، چھوٹی دیت میں آپ کا فیصلہ یہ ہے کہ تیس بنت ِ لبون، تیس حِقّے، بیس بنت ِ مخاض اور بیس ابن مخاض یعنی مذکر اونٹ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد اونٹ مہنگے ہوگئے اور درہم سستے ہو گئے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ کے اونٹوں کی قیمت چھ ہزار درہم مقرر کی، ہر اونٹ کی قیمت ایک اوقیہ تھی، پھر اونٹ مہنگے ہوگئے اور چاندی کی قیمت گر گئی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیت میں اضافہ کر کے دو ہزار اور بڑھا دیئے اور ہر اونٹ کی قیمت دو اوقیوں کے حساب سے لگائی، اونٹ پھر مہنگے ہوگئے اور درہم گر گئے، اس بارسیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بارہ ہزار درہم پور ے کر دیے، ہر اونٹ کی قیمت تین اوقیوں کے حساب سے لگائی اور حرمت والے مہینے میں دیت کی ادائیگی میں دیت کا تیسرا حصہ زیادہ وصول کرتے تھے اور حرمت والے شہر میں ایک اور تیسرے حصہ کا اضافہ کر دیتے تھے، اس طرح حرمین شریفین(مکہ و مدینہ) کی دیت بیس ہزار درہم مکمل ہوگئی تھی، دیہات والوں سے ان کے مویشیوں سے دیت لی جاتی تھی انہیں سونا یا چاندی دینے کا ہی مکلف نہ کیا جاتا تھا، اور ہر قوم سے ان کے مالوں سے دیت عادلانہ قیمت لگا کر وصول کی جاتی تھی۔
حدیث نمبر: 6582
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ زَيَادَ بْنَ ضُمَيْرَةَ بْنِ سَعْدٍ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي وَجَدِّي وَكَانَا قَدْ شَهِدَا حُنَيْنًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ثُمَّ جَلَسَ إِلَى ظِلِّ شَجَرَةٍ فَقَامَ إِلَيْهِ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ بَدْرٍ يَطْلُبُ بِدَمِ الْأَشْجَعِيِّ عَامِرِ بْنِ الْأَضْبَطِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ سَيِّدُ قَيْسٍ وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ يَدْفَعُ عَنْ مُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ لِخِنْدِفٍ وَفِي لَفْظٍ بِمَكَانِهِ مِنْ خِنْدِفٍ فَاخْتَصَمَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَأْخُذُونَ الدِّيَةَ خَمْسِينَ فِي سَفَرِنَا هَذَا وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا قَالَ يَقُولُ عُيَيْنَةُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَدَعُهُ حَتَّى أُذِيقَ نِسَاءَهُ مِنَ الْحُزْنِ مَا ذَاقَ نِسَائِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَلْ تَأْخُذُونَ الدِّيَةَ فَأَبَى عُيَيْنَةُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ مُكَيْتِلٌ رَجُلٌ قَصِيرٌ مَجْمُوعٌ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا وَجَدْتُ لِهَذَا الْقَتِيلِ شَبِيهًا فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ إِلَّا كَغَنَمٍ وَرَدَتْ فَرُمِيَ أَوَّلُهَا فَنَفَرَ آخِرُهَا اسْنُنِ الْيَوْمَ وَغَيِّرْ غَدًا قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ بَلْ تَقْبَلُونَ الدِّيَةَ فِي سَفَرِنَا هَذَا خَمْسِينَ وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا فَلَمْ يَزَلْ بِالْقَوْمِ حَتَّى قَبِلُوا الدِّيَةَ فَلَمَّا قَبِلُوا الدِّيَةَ قَالَ قَالُوا أَيْنَ صَاحِبُكُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَجُلٌ آدَمُ طَوِيلٌ ضَرَبَ عَلَيْهِ حُلَّةً كَأَنَّهُ تَهَيَّأَ لِلْقَتْلِ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا جَلَسَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا اسْمُكَ قَالَ أَنَا مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَامَ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَهُوَ يَتَلَقَّى دَمْعَهُ بِفَضْلِ رِدَائِهِ فَأَمَّا نَحْنُ بَيْنَنَا فَنَقُولُ قَدِ اسْتَغْفَرَ لَهُ وَلَكِنَّهُ أَظْهَرَ مَا أَظْهَرَ لِيَدَعَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ میرے باپ اور میرے دادا، جو کہ جنگ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے، کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی اور ایک درخت کے سائے میں تشریف لے گئے، اقرع بن حابس آپ کے سامنے کھڑے ہوئے، وہ اور عیینہ بن حصن بن بدر دونوں قیس قبیلہ کے سردار عامر بن اضبط اشجعی کے خون کا مطالبہ کرنے لگے، اقرع بن حابس خندف کی وجہ سے محلم بن جثامہ کا دفاع کر رہا تھا، یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے مقدمہ لے کر پیش ہوئے، ہم نے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پچاس اونٹ اب دوران سفر لے لو اور پچاس واپس جا کر لے لینا۔ عیینہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم میں اسے نہیں چھوڑوں گا حتیٰ کہ اس کی عورتوں کو وہ غم نہ پہنچاؤں، جو اس نے ہماری عورتوں کو پہنچایا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیت لے لو۔ مگر عینیہ نے انکار کر دیا، لیث قبیلہ کا مکیتل نامی ایک آدمی کھڑا ہوا،وہ چھوٹے قد کا آدمی تھا اور مختلف ہتھیاروں سے مسلح تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اسلام کی ابتداء میں اس جیسا مقتول آپ کو نہ ملا ہوگا، مگر بکریوں کی مانند جو پانی کے گھاٹ پر وارد ہوں، ان سے پہلے بکریوں پر تیر پھینکا جائے تو آخر والی بھی بھاگنے لگتی ہیں،( یعنی ہم قصاص لیں گے، چھوڑیں گے نہیں) آج طریقہ جاری کیجیے، کل کلاں اسے بدل لینا،یعنی آج تو قصاص کے حکم پر عمل ہوگا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعاء کے لیے ہاتھ اٹھا لیے آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ ایسا کرو کہ دیت قبول کر لو، پچاس اونٹ اب لے لو اور پچاس واپسی پر۔ آپ انہیں نر م کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ لوگ دیت قبول کرنے پر رضا مند ہوگئے، جب انہوں نے دیت قبول کر لی تو کہنے لگے: وہ تمہارا قاتل کہاں ہے، تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے استغفار کردیں، پس گندمی رنگ کا دراز قد آدمی کھڑا ہو، اس نے پوشاک پہنی ہوئی تھی، ایسے لگ رہا تھا کہ وہ قتل کے لیے تیار ہو رہا ہے، جب وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا، آپ نے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: میں محلم بن جثامہ ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! محلم کو معاف نہ کر۔ آپ نے تین مرتبہ یہ بد دعا کی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے کھڑا ہو کر چلنے لگا اور وہ اپنی چادر کے ایک کنارے سے اپنے آنسو صاف کر رہا تھا، ہم نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے استغفار ہی کیا تھا، بس ان الفاظ کا اظہار کیا کہ لوگ ایک دوسرے کو چھوڑ دیں۔