کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قسامہ کا بیان
حدیث نمبر: 6577
عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ أَخُو بَنِي حَارِثَةَ يَعْنِي فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ إِلَى خَيْبَرَ يَمْتَارُونَ مِنْهَا تَمَرًا قَالَ فَعُدِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ فَكُسِرَتْ عُنُقُهُ ثُمَّ طُرِحَ فِي مَنْهَرٍ مِنْ مَنَاهِيرِ عُيُونِ خَيْبَرَ وَفَقَدَهُ أَصْحَابُهُ فَالْتَمَسُوهُ حَتَّى وَجَدُوهُ فَغَيَّبُوهُ قَالَ ثُمَّ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ أَخُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ وَهُمَا كَانَا أَسَنَّ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ذَا قَدَمٍ مِنَ الْقَوْمِ وَصَاحِبُ الدَّمِ فَتَقَدَّمَ لِذَلِكَ فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ابْنَيْ عَمِّهِ حُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكُبَرَ الْكُبَرَ فَاسْتَأْخَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ عُدِيَ عَلَى صَاحِبِنَا فَقُتِلَ وَلَيْسَ بِخَيْبَرَ عَدُوٌّ إِلَّا يَهُودَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُسَمُّونَ قَاتِلَكُمْ تَحْلِفُونَ عَلَيْهِ خَمْسِينَ يَمِينًا ثُمَّ نُسَلِّمُهُ قَالَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كُنَّا لِنَحْلِفَ عَلَى مَا لَمْ نَشْهَدْ قَالَ فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ خَمْسِينَ يَمِينًا وَيَبْرَءُونَ مِنْ دَمِ صَاحِبِكُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كُنَّا لِنَقْبَلَ إِيمَانَ يَهُودَ مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الْكُفْرِ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ يَحْلِفُوا عَلَى إِثْمٍ قَالَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ مِائَةَ نَاقَةٍ قَالَ يَقُولُ سَهْلٌ مَا أَنْسَى بَكَرَةً مِنْهَا حَمْرَاءَ رَكَضَتْنِي وَأَنَا أَحُوزُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بنوحارثہ کے بھائی عبداللہ، بنوحارثہ کے چند افراد کے ہمراہ کھجوروں کا غلہ لینے خیبر کی جانب نکلے، سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی گردن توڑ دی گئی (یعنی ان کو قتل کر دیا گیا )اور خیبر کے چشموں میں سے ایک چشمہ کے پانی کے بہاؤ کی جگہ پر پھینک دیا گیا، جب انہوں نے اپنے ساتھی کو گم پایا تو اس کی تلاش میں نکلے، یہاں تک کہ اسے مقتول پایا، پھر انہوں نے اس کو دفن کیا اور بعد ازاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبداللہ کا بھائی عبد الرحمن بن سہل اور اس کے دو چچا کے بیٹے حویصہ اور محیصہ جو کہ عبد الرحمن سے بڑے تھے، مگر عبد الرحمن ان سب سے بڑھ کر جرأت مند تھا اور مقتول کے خون کا وارث بھی تھا، یہ افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عبد الرحمن نے اپنے چچا کے بیٹوں حویصہ اور محیصہ سے پہلے آپ سے بات کرنا شروع کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دو، بڑے کو بات کرنے دو۔ سو عبدالرحمن پیچھے ہٹ گئے اور حویصہ نے بات کی، اس کے بعد محیصہ نے اور آخر میں عبد الرحمن نے صورت حال بتائی اور انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمارے بھائی پر حملہ ہوا ہے اور خیبر میں ہمارے دشمن صرف یہودی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے قاتل کو اس طرح نامزدکرو کہ تم میں سے پچاس آدمی قسمیں اٹھائیں کہ ہم اس قاتل کو تم لوگوں کے حوالے کر دیں گے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم جس واقعہ پرحاضر نہیں تھے، اس کے بارے میں قسمیں کیسے اٹھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہودی لوگ پچاس قسمیں اٹھائیں گے اور تمہارے ساتھی کے خون سے بری ہو جائیں گے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تو یہودیوں کی قسمیں قبول کرنے والے نہیں ہیں، جس کفر میں وہ مبتلا ہیں، وہ گناہ والی قسم سے بڑا جرم ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاس سے سو اونٹنیوں کی صورت میں اس مقتول کی دیت ادا کر دی، سہل کہتے ہیں : میں ابھی تک یہ بات نہیں بھولا کہ ان میں ایک سرخ رنگ کی اونٹنی تھی، اس نے مجھے لات ماری تھی، جبکہ میں اس کو نرمی سے ہانک رہا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6577
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري:3173، 6898، ومسلم: 1669، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16194»
حدیث نمبر: 6578
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ إِنْسَانٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْقَسَامَةَ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَسَامَةَ الدَّمِ فَأَقَرَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ فِي قَتِيلٍ ادَّعَوْهُ عَلَى الْيَهُودِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک انصاری صحابی سے مروی ہے کہ جاہلیت میں خون بہنے کی صورت میں قسامہ تھا، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اسی طرح برقرار رکھا، جیسے وہ جاہلیت میں تھا، اور بنو حارثہ کے چند انصاری لوگوں نے اپنے ایک مقتول کی تہمت یہودیوں پر لگا دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسامہ کی روشنی میں فیصلہ کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6578
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1670، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16715»
حدیث نمبر: 6579
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَتِيلًا بَيْنَ قَرْيَتَيْنِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذُرِعَ مَا بَيْنَهُمَا قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى شِبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَلْقَاهُ عَلَى أَقْرَبِهِمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو بستیوں کے درمیان ایک مقتول پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں بستیوں کے درمیان فاصلہ کو ماپنے کا حکم دیا، گویا کہ میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بالشت کو دیکھ رہا ہوں،پھر آپ نے قریب والی بستی کو اس قتل کا ذمہ دار قرار دیا۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام سے پہلے کے کچھ اصول و ضوابط برقرار رکھے، ان میں ایک ضابطہ قسامہ ہے، قسامہ قسم کی ایک خاص صورت ہے اور وہ یہ کہ جب کوئی شخص کسی علاقے میں مقتول پایا جائے، لیکن اس کے قاتل کا پتہ نہ چلے یا کچھ لوگوں پر شک ہو کہ وہ قتل میں ملوث ہیں، مگر کوئی ثبوت نہ ہو تو مدعی لوگوں سے پچاس قسمیں لی جائیں گی، اگر وہ پچاس قسمیں اٹھا لیں تو وہ دیت کے مستحق قرار پائیں گے، اور اگروہ یہ قسمیں نہ دیں تو مدعٰی علیہ لوگوں کے پچاس معتبر آدمیوں سے قسم لی جائے کہ نہ انھوں نے اس کو قتل کیا ہے اور نہ وہ اس کے قاتل کو جانتے ہیں، ایسی صورت میں اس علاقے کے لوگ قتل کے الزام سے بری ہو جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6579
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، لضعف ابي اسرائيل الملائي، وعطية العوفي۔ أخرجه البزار: 1534، والبيھقي في ’’السنن‘‘: 8/ 126، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11341 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11361»