کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
حدیث نمبر: 6570
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ وَسَلَمَةَ بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ مَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا فَاقْتَتَلَ هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَعَضَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ بِذِرَاعِهِ فَاجْتَبَذَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ فَذَهَبَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ الْعَقْلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ يَعَضُّهُ عَضِيضَ الْفَحْلِ ثُمَّ يَأْتِي يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ لَا دِيَةَ لَكَ فَأَطْلَقَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَأَبْطَلَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنایعلی بن امیہ اور سلمہ بن امیہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے ساتھ ایک اور دوست بھی تھا، اس کی اور ایک مسلمان کی آپس میں لڑائی ہو گئی، اس آدمی نے دوسرے کے بازو پرکاٹا، اس نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا اور اس کا اگلا دانت گرا دیا، اس آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر دیت کا مطالبہ کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو سانڈ کی طرح کاٹتا ہے اور پھر آکر دیت کا مطالبہ کرتا ہے، اس کے لیے کوئی دیت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت کو باطل قرار دیا۔
حدیث نمبر: 6571
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ وَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي وَكَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ وَقَالَ أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا قَالَ أَحْسَبُهُ قَالَ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تنگی والے لشکر یعنی غزوۂ تبوک میں شریک ہوا، یہ غزوہ میرے ان اعمال میں سے ہے، جن پر مجھے سب سے زیادہ اعتماد ہے، میرا ایک مزدور تھا، وہ ایک آدمی سے لڑپڑا، ان میں سے ایک نے دوسرے کو کاٹا، دوسرے نے اپنی انگلی کھینچی، جس سے اس کادانت گرگیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شکایت لے کر گیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں دیئے رکھتا اور تو سانڈ کی طرح اس کو چباتا رہتا۔
حدیث نمبر: 6572
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَاتَلَ يَعْلَى بْنُ مُنْيَةَ أَوِ ابْنُ أُمَيَّةَ رَجُلًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ صَاحِبِهِ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ وَقَالَ حَجَّاجٌ ثَنِيَّتَيْهِ فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَعَضُّ أَحَدُكُمَا أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لَا دِيَةَ لَهُ وَفِي لَفْظٍ فَأَبْطَلَهَا وَقَالَ أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَ لَحْمَ أَخِيكَ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یعلی بن منیہ یا ابن امیہ کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، ایک نے دوسرے کے ہاتھ پر کاٹا، اس نے بچانے کے لیے اپنا ہاتھ کھینچا، جس کی وجہ سے کاٹنے والے کا ایک یا دو دانت گر پڑے، جب یہ دونوں جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو سانڈ کی مانند کاٹتا ہے، کوئی دیت نہیں ہے ایسے آدمی کے لیے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت کو باطل قرار دیا اور فرمایا: کیا تو چاہتا تھا کہ سانڈ کی طرح اپنے بھائی کے گوشت کو چبائے؟
وضاحت:
فوائد: … کسی شخص پر حملہ ہو تو اسے اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے، اگر دفاعی کروائی کے دوران حملہ آور کا کوئی نقصان ہو جائے، حتی کہ وہ مر بھی جائے تو کوئی قصاص، دیتیا معاوضہ یا تاوان نہیں ہو گا، البتہ اگر دفاع کرنے والا کوئی جارحانہ کاروائی کرے گا تو وہ ذمہ دار ہو گا، یہ فیصلہ عدالت کرے گی کہ فلاں آدمی کی کاروائی جارحانہ ہے یا دفاعی۔ ان احادیث کے مطابق ایک آدمی نے دوسرے کی انگلیاں کاٹنا شروع کر دیں، وہ دفاع کرنے کے لیےیہی کچھ کر سکتا ہے کہ اپنا ہاتھ اس کے منہ سے باہر کھینچے، لیکن کاٹنے والے نے انگلیاں اتنی مضبوطی سے پکڑی ہوئی تھیں کہ اس کے دانت بھی باہر آ گئے، ایسے میں دفاعی کاروائی کرنے والا ذمہ دار نہیں ہے۔