حدیث نمبر: 6569
عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي سَهْمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مَاجِدَةُ قَالَ عَارَمْتُ غُلَامًا بِمَكَّةَ فَعَضَّ أُذُنِي فَقَطَعَ مِنْهَا أَوْ عَضَضْتُ أُذُنَهُ فَقَطَعْتُ مِنْهَا فَلَمَّا قَدِمَ إِلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَاجًّا رُفِعْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ انْطَلِقُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَإِنْ كَانَ الْجَارِحُ بَلَغَ أَنْ يُقْتَصَّ مِنْهُ فَلْيَقْتَصَّ قَالَ فَلَمَّا انْتَهَى بِنَا إِلَى عُمَرَ نَظَرَ إِلَيْنَا فَقَالَ نَعَمْ قَدْ بَلَغَ هَذَا أَنْ يُقْتَصَّ مِنْهُ ادْعُوا لِي حَجَّامًا فَلَمَّا ذَكَرَ الْحَجَّامَ قَالَ أَمَا إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَدْ أَعْطَيْتُ خَالَتِي غُلَامًا وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يُبَارِكَ اللَّهُ لَهَا فِيهِ وَقَدْ نَهَيْتُهَا أَنْ تَجْعَلَهُ حَجَّامًا أَوْ قَصَّابًا أَوْ صَائِغًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنو سہم کے ماجدہ نامی آدمی سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: میں مکہ میں ایک غلام سے جھگڑ پڑا، اب اس نے میرے کان پر کاٹا جس سے اس کا ایک حصہ کٹ کر علیحدہ ہو گیا،یا میں نے اس کے کان پر کاٹا تھا، جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ حج کے لیے ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہمارے اس معاملے کو ان کی عدالت میں پیش کیا گیا، انہوں نے کہا: ان کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف لے چلو، اگر زخم قصاص لینے کے قابل ہے تو وہ قصاص دلوائیں، جب ہم کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو انھوں نے دیکھا اور کہا: جی یہ زخم قصاص کی حد تک پہنچ چکا، ایک حجام کو بلاؤ، جب انھوں نے حجام کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا: میں نے اپنی خالہ کو ایک غلام دیا اور میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے غلام میں برکت کرے گا اور میں نے اس کواس سے منع کیا کہ وہ اس کو سینگی لگانے والا، قصاب یا سنار بنائے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن ارشادِ باری تعالی ہے: {وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ} … ’’اور کان کے بدلے کان کا (بدلہ ہے)۔‘‘ (سورۂ مائدہ: ۴۵)
اس لیے کان کا جو زخم قصاص کے قابل ہو گا، اس کا قصاص لیا جائے گا۔
اس لیے کان کا جو زخم قصاص کے قابل ہو گا، اس کا قصاص لیا جائے گا۔