کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
حدیث نمبر: 6561
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ شَيْئًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَلَبَّ عَلَيْهِ فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ فَجُرِحَ بِوَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَعَالَ فَاسْتَقِدْ قَالَ قَدْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مال تقسیم کر رہے تھے، ایک آدمی آگے بڑھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھجور کی ایک ٹہنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو وہ مار دی، جس سے اس کا چہر ہ زخمی ہو گا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آگے آ اور مجھ سے قصاص لے لے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو معاف کر دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کوئی فرد قصاص کے قانون سے مستثنی نہیں ہے، اگر سید الانبیاء کی یہ صورتحال ہے تو اوروں کا اندازہ از خود ہو جانا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6561
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4536، والنسائي: 8/32 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11229 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11247»
حدیث نمبر: 6562
عَنْ أَبِي فِرَاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِيهِ أَلَا إِنِّي وَاللَّهِ مَا أُرْسِلُ عُمَّالِي إِلَيْكُمْ لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ وَلَكِنْ أُرْسِلُهُمْ إِلَيْكُمْ لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَسُنَّتَكُمْ فَمَنْ فُعِلَ بِهِ شَيْءٌ سِوَى ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلَيَّ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِذًا لَأُقِصَّنَّهُ مِنْهُ فَوَثَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَوَ رَأَيْتَ إِنْ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى رَعِيَّةٍ فَأَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ أَئِنَّكَ لَمُقْتَصٌّ مِنْهُ قَالَ إِي وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ إِذًا لَأُقِصَّنَّهُ مِنْهُ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقِصُّ مِنْ نَفْسِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو فراس سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا، جس میں انھوں نے ایک لمبی حدیث ذکر کی اور کہا: خبر دار! میں تم پر حکومتی کارندوں کو اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہارے جسموں پر ضربیں لگائیں اور تمہارے مال چھین لیں، میں تو ان کو تمہار ے پاس اس لیے بھیجتا ہوں کہ وہ تمہیں دین اور سنت کی تعلیم دیں، جس کے ساتھ کوئی اور کاروائی کی جائے، وہ مجھے بتائے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے ضرور ضرور قصاص دلواؤں گا، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اچھل کر کھڑے ہوئے اور کہا: اے امیر المومنین، آپ بتائیں کہ ایک آدمی رعایا پر مقرر ہوتا ہے اور اسے ادب سکھانے کے لیے سزا دیتا ہے، کیا آپ اس سے بھی قصاص لیں گے؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، اس ذات قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے! میں اس کو ضرورقصاص دلواؤں گا، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے نفس سے قصاص دلواتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … عبد اللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: إِنَّ أُنَاسًا کَانُوا یُؤْخَذُونَ بِالوَحْیِ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ الوَحْیَ قَدِ انْقَطَعَ، وَإِنَّمَا نَأْخُذُکُمُ الآنَ بِمَا ظَہَرَ لَنَا مِنْ أَعْمَالِکُمْ، فَمَنْ أَظْہَرَ لَنَا خَیْرًا، أَمِنَّاہُ، وَقَرَّبْنَاہُ، وَلَیْسَ إِلَیْنَا مِنْ سَرِیرَتِہِ شَیْء ٌ اللَّہُ یُحَاسِبُہُ فِی سَرِیرَتِہِ، وَمَنْ أَظْہَرَ لَنَا سُوء ًا لَمْ نَأْمَنْہُ، وَلَمْ نُصَدِّقْہُ، وَإِنْ قَالَ: إِنَّ سَرِیرَتَہُ حَسَنَۃٌ۔ … بیشک عہد ِ نبوی میں وحی کے ذریعے لوگوں کا مؤاخذہ ہو جاتا تھا، اب وحی تو منقطع ہو چکی ہے، پس اب ہم تمہارے ظاہری اعمال کی روشنی میں تمہاری گرفت کریں گے، جو ہمارے لیے خیر و بھلائی کا اظہار کرے گا، ہم اس کو امین سمجھیں گے اور اس کو اپنے قریب کریں گے، جبکہ اس کے باطن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہو گا، اللہ تعالی اس کے باطن کا محاسبہ کرے گا، اور جو آدمی ہمارے لیے برے اعمال کو ظاہر کرے گا، ہم اس کو امین سمجھیں گے نہ اس کی تصدیق کریں گے، اگرچہ اس کا باطن پاک ہو۔ (صحیح بخاری: ۲۶۴۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6562
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ابو فراس النھدي، وقال ابو زرعه: لا اعرفه۔ أخرجه ابوداود: 4537، والنسائي: 8/34 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 286»
حدیث نمبر: 6563
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمٍ مُصَدِّقًا فَلَاجَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ يَرْضَوْا قَالَ فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ يَرْضَوْا قَالَ فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ قَالُوا نَعَمْ فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا أَرَضِيتُمْ قَالُوا لَا فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا فَكَفُّوا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ وَقَالَ أَرَضِيتُمْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَضِيتُمْ قَالُوا نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو جہم رضی اللہ عنہ کو صدقہ کی وصولی کے لیے بھیجا، ایک آدمی نے صدقہ دینے میں ان سے جھگڑا کیا، جواباً ابو جہم رضی اللہ عنہ نے اسے مار کر اس کا سرزخمی کر دیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور قصاص کا مطالبہ کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اتنا کچھ لے لو۔ لیکن وہ راضی نہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو تمہیں اتنا کچھ مل جائے گا۔ لیکن وہ پھر بھی راضی نہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو، تم کو اتنا کچھ دے دیتے ہیں۔ پس اب کی بار وہ راضی ہوگئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں لوگوں سے خطاب کرتا ہوں اور ان کو تمہاری رضا مندی سے آگا ہ کرتا ہوں؟ انہوں نے کہا: جی ٹھیک ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: لیث قبیلے کے یہ افراد میرے پاس آئے، انھوں نے قصاص کا مطالبہ کیا، میں نے ان پر اتنا مال پیش کیا اور ان سے پوچھا: کیا اب راضی ہو گئے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، مہاجرین نے ان کو کچھ کہنا چاہا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو رکنے کا حکم دیا تو وہ رک گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلایا اور مزید دے کر فرمایا: اب راضی ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس بیشک میں لوگوں کو خطاب کر کے ان کو تمہاری رضا کے بارے میں بتلانے والا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مخاطب ہوئے اور فرمایا: کیا تم لوگ اب راضی ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
وضاحت:
فوائد: … اگر بادشاہ اور کوئی صاحب ِ اختیار و اقتدار حکمران کسی کے ساتھ اس قسم کی زیادتی اور مار کٹائی والا معاملہ کرے، جیسا کہ سیدنا ابو جہم رضی اللہ عنہ نے کیا تھا تو اس سے قصاص لیا جائے گا، تاہم فریقِ ثانی کو کچھ دے دلا کر بھی معاملہ رفع دفع کیا جا سکتا ہے۔ اس حدیثسےیہ بھی معلوم ہوا کہ جب مظلوم قصاص کا ہی مطالبہ کر رہا ہو تو اس کو اس کی دیت سے زیادہ دے کر اس کو راضی کیا جا سکتا ہے۔ دیہاتی طبعاً سخت مزاج اور لاعلم ہوتے ہیں، اسی بنا پر انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وسعت ِ ظرفی اور حسن اخلاق کی روشنی میں ان کے اس رویے سے در گزر فرمایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6563
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4534، والنسائي: 8/ 35، وابن ماجه: 2638 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26485»