کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے¤قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
حدیث نمبر: 6553
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ قَتَلَ جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى حُلِيٍّ لَهَا ثُمَّ أَلْقَاهَا فِي قَلِيبٍ وَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ فَأُخِذَ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّى يَمُوتَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری کی لونڈی کو اس کے زیورا ت کے لالچ میں قتل کر دیا، پھر اس کو کنویں میں پھینک دیا، اس نے اس کا سر پتھر سے کچل دیا تھا، پھر اس آدمی کو گرفتار کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، پس اس کو سنگسار کیا گیا،یہاں تک کہ وہ مر گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6553
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري:6885، ومسلم: 1672، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12667 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12696»
حدیث نمبر: 6554
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ جَارِيَةً خَرَجَتْ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ فَأَخَذَهَا يَهُودِيٌّ فَرَضَخَ رَأْسَهَا وَأَخَذَ مَا عَلَيْهَا فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا لَا فَقَالَ فُلَانٌ فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا لَا قَالَ فَفُلَانٌ الْيَهُودِيُّ فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا نَعَمْ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَضَخَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ایک لونڈی باہر نکلی، اس نے زیور پہنا ہوا تھا، ایک یہودی نے اس کو پکڑ لیا اور اس کا سر کچل کر اس کا زیور اتار کر لے گیا، جب اس لونڈی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایاگیا تو اس میں ابھی تک جان باقی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ کیافلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے سر سے اشارہ کر کے نہیں میں جواب دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر فلاں نے قتل کے ہے؟ اس نے سر سے اشارہ کرتے ہوئے نہیں میں جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: کیا فلاں یہودی نے قتل کیا ہے؟ اس نے سر سے اشارہ کر کے ہاں میں جواب دیا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس یہودی کو پکڑا اور اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6554
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13138»
حدیث نمبر: 6555
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ الطَّرِيقِ الثَّانِيَةِ إِلَّا أَنَّ قَتَادَةَ قَالَ فِي حَدِيثِهِ فَاعْتَرَفَ الْيَهُودِيُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، یہ دوسری سند کی حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں قتادہ نے کہا ہے: اس یہودی نے قتل کرنے کا اعتراف کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6555
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13139»
حدیث نمبر: 6556
عَنْ حَمْلِ بْنِ النَّابِغَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ بَيْنَ بَيْتَيْ امْرَأَتَيَّ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حمل بن نابغہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنی دو بیویوں کے گھروں کے درمیان میں تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو ایک لکڑی ماری، جس سے وہ خاتون بھی مر گئی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی ضائع ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اس کے پیٹ کے بچے کے عوض ایک لونڈی یا غلام دیا جائے گا اور عورت کو قصاص میں قتل کر دیا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے دو مسئلے تو بالنص ثابت ہوئے: (۱) عورت کے غیر مسلم قاتل کو قصاصاً قتل کیا جائے گا، اور (۲) عورت کی قاتل عورت کو بھی قصاصاً قتل کیا جائے گا۔
رہایہ مسئلہ کہ جب مسلمان مرد، مسلمان عورت کو قتل کر دے تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں، تو جمہور اہل علم کے نزدیک ایسے مرد سے عورت کا قصاص لیا جائے گی، اس رائے کی دلیل حدیث نمبر (۶۵۴۹) ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام اہل اسلام کے خونوں کو برابر قرار دیا ہے۔
امام ابن منذر kنے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ، امام حسن بصری اور امام عطاء سے منقول روایت کے علاوہ عورت کے بدلے مرد کو قتل کرنے پر اجماع ہے۔ (الاجماع لابن المنذر: ص ۱۴۴، رقم: ۶۵۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب القصاص / حدیث: 6556
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه ابوداود: 4572، والنسائي: 8/21، وابن ماجه: 2641، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16729 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16849»