کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ہر روح والی چیز کو آگ سے جلانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6542
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجَهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ بِالنَّارِ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک نبی نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ ڈالا اور ایک چیونٹی نے اس کو کاٹ لیا، پس اس وجہ سے اس نے حکم دیا کہ اس کا سامان اس درخت کے نیچے سے ہٹا لیا جائے، پھر ان چیونٹیوں کو جلانے کا حکم دیا، اُدھر اللہ تعالی نے اس نبی کی طرف یہ وحی کر دی کہ صرف ایک چیونٹی کو کیوں نہیں جلایا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی ایک روایت میںہے: ((فَأَوْحَی اللّٰہ اِلَیْہِ اَنْ قَرَصَتْکَ نَمْلَۃٌ اَحْرَقْتَ اُمَّۃً مِّنَ الْاُمَمِ تُسْبِحُ اللّٰہَ۔)) … ’’پس اللہ تعالی اس نبی کی طرف وحی کہ ایک چیونٹی نے تجھے کاٹا تھا، لیکن تو نے ایک ایسی امت کو جلا دیا، جو اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتی تھی۔‘‘ ممکن ہے کہ اس نبی کی شریعت کے مطابق آگ کا عذاب دینا جائز ہو، اس لیے جلانے پر سرزنش نہیں کی گئی، بلکہ دوسری چیونٹیوں کو جلانے پر ڈانٹا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6542
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3319، ومسلم: 2241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9799 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9800»
حدیث نمبر: 6543
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَجَاءَ وَقَدْ أَوْقَدَ رَجُلٌ عَلَى قَرْيَةِ نَمْلٍ إِمَّا فِي الْأَرْضِ وَإِمَّا فِي شَجَرَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ فَعَلَ هَذَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَطْفِئْهَا أَطْفِئْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جگہ اترے اور قضائے حاجت کے لئے کہیں تشریف لے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے تو دیکھا کہ ایک آدمی زمین یا درخت پر موجود چیونٹیوں کے گھر جلا رہا تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے یہ کام کس نے کیاہے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ کام کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے بجھاؤ بجھاؤ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6543
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3763»
حدیث نمبر: 6544
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَرَرْنَا بِقَرْيَةِ نَمْلٍ فَأُحْرِقَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْبَغِي لِبَشَرٍ أَنْ يُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم چیونٹیوں کی بلوں کے پاس سے گزرے اور دیکھا کہ انہیں جلا دیا گیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی بشر کے لیے لائق نہیں ہے کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانند عذاب دے۔
وضاحت:
فوائد: … آگ کا عذاب بہت سخت، خوفناک اور اذیت ناک ہے، یہ کسی انسان کے لائق نہیں ہے کہ وہ اس کے ذریعے کسی کو اذیت دے، مزید دیکھیں: احادیث نمبر (۵۰۰۸، ۵۰۰۹)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6544
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مطولا ابوداود: 2675، 5268 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4018 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4018»