کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: حیوان یا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6532
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِيهِ رَابِطٌ دَجَاجَةً يَرْمِيهَا، فَمَشَى إِلَى الدَّجَاجَةِ فَحَلَّهَا ثُمَّ أَقْبَلَ بِهَا وَبِالْغُلَامِ وَقَالَ لِيَحْيَى: ازْجُرُوا غُلَامَكُمْ هَذَا مِنْ أَنْ يَصْبِرَ هَذَا الطَّيْرَ عَلَى الْقَتْلِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ تُصْبَرَ بَهِيمَةٌ أَوْ غَيْرُهَا لِقَتْلٍ، وَإِذَا أَرَدْتُمْ ذَبْحَهَا فَاذْبَحُوهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید بن عمرو کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، یحییٰ بن سعید کے پاس گئے اور ان کا ایک بیٹا مرغی کو باندھ کر اس کو نشانہ بنا رہا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جاکر مرغی کھول دی اور مرغی اور اس لڑکے کو سامنے لا کر یحییٰ سے کہا: اپنے اس لڑکے کو منع کرو کہ یہ اس پرندے کو باندھ کر قتل کا نشانہ نہ بنائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانورکو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، اگر تم اس کو ذبح کرنا چاہتے ہو تو ذبح کے طریقے کے مطابق ذبح کر لو۔
حدیث نمبر: 6533
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی، جو اس چیز پر نشانہ بازی کرتا ہے، جس میں روح ہو۔
حدیث نمبر: 6534
عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا عَبَثًا، عَجَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْهُ يَقُولُ: إِنَّ فُلَانًا قَتَلَنِي عَبَثًا وَلَمْ يَقْتُلْنِي لِمَنْفَعَةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی چڑیا کو بے مقصد قتل کر دیا تو وہ روز قیامت اللہ تعالی کی بارگاہ میں چلا کر کہے گی: بیشک فلاں آدمی نے مجھے کسی مقصد کے بغیر قتل کر دیا اوراس نے مجھے کسی منفعت کے لیے قتل نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 6535
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((أَعَفُّ (وَفِي لَفْظٍ: إِنَّ أَعَفَّ) النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الْإِيمَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتل کرتے وقت سب سے زیادہ رحم کرنے والے اہل ایمان ہوتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ ہمیں ذبح کرنے کے لیے ایسا انداز اختیار کرنا چاہیے، جس میں جانور کے لیے تکلیف کم سے کم ہو۔
حدیث نمبر: 6536
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ مَثَّلَ بِذِي رُوحٍ ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مَثَّلَ اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی ذی روح چیز کامثلہ کیا اور پھر توبہ نہ کی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا مثلہ کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … حیوان کا مثلہ کرنے کی صورت یہ ہے کہ اس کو ذبح کرنے سے پہلے اس کے اعضا کاٹ لیے جائیں، شریعت ِ مطہرہ کا قانون ہے کہ زندہ جانور کا جو حصہ کاٹ کر علیحدہ کر دیا جائے، وہ حرام ہو گا۔
حدیث نمبر: 6537
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ وَصَوَّبَ وَقَالَ: ((أَرَبُّ إِبِلٍ أَنْتَ أَوْ رَبُّ غَنَمٍ؟)) قَالَ: مِنْ كُلٍّ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ فَأَكْثَرَ وَأَطْيَبَ، قَالَ: ((فَتُنْتِجُهَا وَافِيَةً أَعْيُنُهَا وَآذَانُهَا فَتَجْدَعُ هَذِهِ فَتَقُولُ صَرْمَاءَ (ثُمَّ تَكَلَّمَ سُفْيَانُ بِكَلِمَةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا) وَتَقُولُ بَحِيرَةَ اللَّهِ فَسَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ، وَمُوسَاهُ أَحَدُّ، وَلَوْ شَاءَ أَنْ يَأْتِيَكَ بِهَا صَرْمَاءَ آتَاكَ)) قُلْتُ: إِلَى مَا تَدْعُو؟ قَالَ: ((إِلَى اللَّهِ وَإِلَى الرَّحِمِ)) الحَدِيثُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو احوص اپنے باپ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اوپر سے نیچے تک بغو ر دیکھا اور فرمایا: تم اونٹوں کے مالک ہو یا بکریوں کے ؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کے مال سے نواز رکھاہے، بہت زیادہ اور عمدہ مال دیاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جانور پوری آنکھوں اور کانوں والے بچے جنم دیتے ہیں اور تم لوگ ان کے کان وغیرہ کاٹ دیتے ہو اور پھر ان کو کان کٹے کا نام دے دیتے ہو اور یہ کہنا شروع کر دیتے ہو کہ یہ اللہ کا بحیرہ ہے، پس اللہ تعالیٰ کا بازو بہت طاقتور ہے اور اس کا استرابہت تیز دھار ہے، اگر اس نے تجھے کان کٹا جانور دینا چاہا تو وہ دے دے گا۔ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اور صلہ رحمی کی طرف۔ الحدیث
وضاحت:
فوائد: … کان کاٹ کر چھوڑی ہوئی اونٹنی کو ’’بَحِیْرَہ‘‘ کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 6538
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ زِيَادٍ جَالِسًا فَأُتِيَ بِرَجُلٍ شَهِدَ فَغَيَّرَ شَهَادَتَهُ، فَقَالَ: لَأَقْطَعَنَّ لِسَانَكَ، فَقَالَ لَهُ يَعْلَى: أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَا تُمَثِّلُوا بِعِبَادِي)) قَالَ: فَتَرَكَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنایعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ ، زیاد کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثناء میں ایک آدمی کو لایا گیا، اس نے گواہی دی اور اپنی گواہی کو بدل دیا، زیاد نے کہا: میں تیری زبان کاٹ دوں گا، لیکن سیدنایعلی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تجھے ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے فرمایا کہ میرے بندوں کا مثلہ نہ کیا کرو۔ یہ حدیث سن کر زیاد نے اسے چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 6539
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنَ الدَّوَابِّ صَبْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کیا کہ کسی جانور کو باندھ کر قتل کیا جائے۔
حدیث نمبر: 6540
عَنْ عُبَيْدِ بْنِ تِعْلِي قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِأَرْبَعَةِ أَعْلَاجٍ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُتِلُوا صَبْرًا بِالنَّبْلِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا أَيُّوبَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبید بن تِعلی کہتے ہیں: ہم نے عبد الرحمن بن خالد بن ولید کے ساتھ غزوہ کیا، جب ان کے پاس چار عجمی دشمن لائے گئے،تو انہوں نے حکم دیا کہ ان کو باندھ کر تیروں سے قتل کر دیا جائے، جب یہ بات سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 6541
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبْرِ الدَّابَّةِ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ لَوْ كَانَتْ لِي دَجَاجَةٌ مَا صَبَرْتُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانور کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، پھر سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میرے پاس مرغی بھی ہوتو میں اسے باندھ کر قتل نہیں کروں گا۔