حدیث نمبر: 6530
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ النَّمْلَةِ وَالنَّحْلَةِ وَالْهُدْهُدِ وَالصُّرَدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار جانداروں کو قتل کرنے سے منع فرمایاہے،چیونٹی، شہد کی مکھی،ہد ہد اور ممولہ۔
وضاحت:
فوائد: … ’’صُرَد‘‘ (ممولہ) ایک پرندہ ہے، جو کیڑوں کو کھاتا اور چڑیا کا شکار کرتا ہے، اس کو لٹورا بھی کہتے ہیں۔ چیونٹی اور شہد کی مکھی کا قتل بلا مقصد ہو گا، اس لیے ان کو قتل کرنے سے منع کر دیا گیا، جب یہ نقصان پہنچا رہی ہوں تو ان کے نقصان سے بچنے کے لیے ان کو قتل کرنا جائز ہوگا، اس معاملے میں چیونٹی کے بارے میں واضح نص موجود ہے۔ رہا مسئلہ ہدہد اور ممولہ کا، تو یادر ہے کہ جب کسی حیوان کو قتل کرنے سے روک دیا جائے اور یہ اس کی حرمت اور ضرر کی بنا پر نہ ہو تو اس حکم کی وجہ اس جانور کا حرام ہونا ہے۔
حدیث نمبر: 6531
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: ذَكَرَ طَبِيبٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَوَاءً وَذَكَرَ فِيهِ الضِّفْدَعَ يُجْعَلُ فِيهِ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الضِّفْدَعِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایسی دواء کا ذکر کیا، جس میں وہ مینڈک ملاتا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرمادیا۔
وضاحت:
فوائد: … مینڈک کے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ یہ حرام ہے، کیونکہ بوقت ِ ضرورت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اجازت نہ دینا ہی اس کی حرمت کی دلیل ہے۔ مینڈک اگرچہ آبی جانور ہے، لیکنیہ پانی سے باہر بھی زندہ رہ سکتا ہے، بلکہ عرصۂ دراز تک باہر پھرتا رہتا ہے، لہذا اس کو آبی جانوروں والا حکم نہیں دیا جا سکتا۔