کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6524
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاثِرًا فَقِيلَ لَهُ مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحْتَ خَاثِرًا قَالَ وَعَدَنِي جِبْرِيلُ أَنْ يَلْقَانِي فَلَمْ يَلْقَنِي وَمَا أَخْلَفَنِي فَلَمْ يَأْتِهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَلَا الثَّانِيَةَ وَلَا الثَّالِثَةَ ثُمَّ اتَّهَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَرْوَ كَلْبٍ كَانَ تَحْتَ نَضَدِنَا فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ مَاءً فَرَشَّ مَكَانَهُ فَجَاءَ جِبْرِيلُ فَقَالَ وَعَدْتَنِي فَلَمْ أَرَكَ قَالَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ فَأَمَرَ يَوْمَئِذٍ بِقَتْلِ الْكِلَابِ قَالَ حَتَّى كَانَ يُسْتَأْذَنُ فِي كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ فَيَأْمُرُ بِهِ أَنْ يُقْتَلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک صبح کو یوں لگ رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہے، کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آج آپ کی طبیعت بوجھل کیوں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دراصل جبریل علیہ السلام نے مجھے ملنے کا وعدہ کیا تھا، اب نہ وہ مجھے ملے ہیں اور نہ انھوں نے کبھی وعدہ خلافی کی ہے۔ بہرحال جبریل علیہ السلام اس رات کو نہ آئے اور اگلی دو راتوں کو بھی تشریف نہ لائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتے کے ایک پلے کو اس کا سبب قرار دیا، وہ ہماری ایک چارپائی کے نیچے پڑا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو نکالنے کا حکم دیا اور پانی لے کر اس جگہ پر چھڑکا، اتنے میں جبریل علیہ السلام آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا، لیکن پھر آئے نہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کتا اورتصویر ہو۔ اس دن سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتوں کوقتل کرنے کا حکم دے دیا، (اور اس معاملے میں اتنی سختی برتی گئی کہ) جب چھوٹے باغ کے کتے کے بارے میں اجازت طلب کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو بھی قتل کرنے کا حکم دیتے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’نَضَد‘‘ ایسی چارپائی کو کہتے ہیں، جس پر تہہ بہ تہہ کپڑے رکھے گئے ہوں۔
صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹے باغ کے کتے کو قتل کرنے کا حکم دیتے اور بڑے باغ کے کتے کو چھوڑ دیتے۔ بڑے اور چھوٹے باغ کا فرق اس لیے ہے کہ چھوٹے باغ کی ھفاظت اتنی مشکل نہیں۔ ہاں بڑے باغ کو سب اطراف سے محفوظ کرنا کتے کی مدد سے قدرے آسان ہے۔ (عبداللہ رفیق)
صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹے باغ کے کتے کو قتل کرنے کا حکم دیتے اور بڑے باغ کے کتے کو چھوڑ دیتے۔ بڑے اور چھوٹے باغ کا فرق اس لیے ہے کہ چھوٹے باغ کی ھفاظت اتنی مشکل نہیں۔ ہاں بڑے باغ کو سب اطراف سے محفوظ کرنا کتے کی مدد سے قدرے آسان ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 6525
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ الْكَآبَةُ فَسَأَلْتُهُ مَا لَهُ فَقَالَ لَمْ يَأْتِنِي جِبْرِيلُ مُنْذُ ثَلَاثٍ قَالَ فَإِذَا جِرْوُ كَلْبٍ بَيْنَ بُيُوتِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ فَبَدَا لَهُ جِبْرِيلُ فَبَهَشَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ فَقَالَ لَمْ تَأْتِنِي فَقَالَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَصَاوِيرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غمگین ہونے کے آثار دیکھے اور پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دنوں سے جبریل علیہ السلام میرے پاس نہیں آئے ہیں۔ جب دیکھا گیا تو کتے کا ایک بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں پایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے مارنے کا حکم دیا، اتنے میں جیریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آگئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو خوشی میں ان کی جانب لپکے اور فرمایا: آپ میرے پاس تشریف نہیں لائے؟ انہوں نے کہا: جس گھر میں کتا اور تصاویر ہوں، ہم اس میں داخل نہیں ہوتے۔
حدیث نمبر: 6526
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ احْتَبَسَ جِبْرِيلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أَحْبَسَكَ قَالَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ دیر رکے رہے،پھر جب وہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس چیز نے آپ کو روکے رکھا؟ انھوں نے کہا: ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوا کرتے جس میں کتا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب قرار دیتے ہیں،معلوم نہیں وہ ان صورتوں کا کیا جواب دیں گے۔
حدیث نمبر: 6527
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
حدیث نمبر: 6528
عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر اور کتا ہو۔
حدیث نمبر: 6529
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ قَالَ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ تَأْتِي دَارَ فُلَانٍ وَلَا تَأْتِي دَارَنَا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ فِي دَارِكُمْ كَلْبًا قَالُوا فَإِنَّ فِي دَارِهِمْ سِنَّوْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ السِّنَّوْرَ سَبُعٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک انصاری کے گھر تشریف لے جاتے تھے، اور اس کے گھر سے پہلے کچھ اور لوگوں کا گھر بھی پڑتا تھا، یہ بات اس گھر والوں پر بڑی گراں گزری اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بڑا تعجب ہے کہ آپ فلاں کے گھر تو جاتے ہیں اور ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے گھر میں کتا ہے۔ دراصل ان کے گھر میں بلی تھی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بلی بھی تو ایک درندہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … کاٹنے والے درندے کو بھی ’’کَلْب‘‘ کہا جاتا ہے، اس لیے بلی پر ’’کَلْب‘‘ کے لفظ کا اطلاق کیا گیا۔ بلی حرام ہے، لیکن پاک ہے اور اس کا جوٹھا بھی پاک ہے، اس کو گھروں میں رکھنا جائز ہے۔ کتے کا معاملہ تو واضح ہے، پچھلے باب میں چار قسم کے کتوں کو مستثنی کیا گیا ہے، ان کے علاوہ ہر کتا فرشتوںکے دخول کو مانع ہو گا۔ تصویر سے مراد ذی روح چیز کی تصویر ہے، خواہ وہ آدمی کی ہو یا حیوان کی، مجسم ہو یا نقش و نگار کی صورت میں ہو، کپڑے پر بنائی گئی ہو یا وہ شمسی تصویر ہو، یہ سب اقسام حرام ہیں، لیکن اس سے وہ تصویریں مستثنی ہیں، جو ناگزیر مقاصد کے لیے ہوں اور جن کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو، مثلا پاسپورٹ، شناختی کارڈ، لائسنس وغیرہ کے لیے، لیکن بہتر یہ ہے کہ ان کو بھی محفوظ یا بند جگہ میں رکھا جائے اور آویزاں نہ کیا جائے۔ جو فرشتے کتے اور تصویر کی وجہ سے گھروں میں نہیں آتے، ان سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں۔ اعمال لکھنے والے، موت والے اور حفاظت کرنے والے فرشتے انسان کے ساتھ ہیرہتے ہیں۔