کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 6502
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ قَتَلَ الْوَزَغَ فِي الضَّرْبَةِ الْأُولَى فَلَهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ حَسَنَةٍ، وَمَنْ قَتَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ حَسَنَةٍ، وَمَنْ قَتَلَهُ فِي الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا)) قَالَ سُهَيْلٌ: الْأُولَى أَكْثَرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مارا، اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، جس نے دوسری ضرب سے مارا اسے اتنی اتنی ملیں گی اور جس نے تیسری ضرب میں مارا، اسے اتنی اتنی ملیں گی۔ سہیل کہتے ہیں: پہلی ضرب زیادہ اجر وثواب والی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی ایک روایت میں پہلی ضرب میں مارنے والے کے لیے سو نیکیوں اور ایک روایت میں ستر نیکیوں کا ذکر ہے، دوسرییا تیسری ضرب میں مارنے والے کے لیے اس سے کم ثواب ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6502
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2240، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8644»
حدیث نمبر: 6503
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھپکلی کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے اور اسے موذی اور فاسق قرار دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ دوسرے حشرات کی بہ نسبت چھپکلی زیاد ہ مضر اور تکلیف دہ ہے، اس لیے اس کو فاسق قرار دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6503
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1523»
حدیث نمبر: 6504
عَنْ سَائِبَةَ مَوْلَاةٍ لِلْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَرَأَتْ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعًا، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! مَاذَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا الرُّمْحِ؟ قَالَتْ: هَذَا لِهَذِهِ الْأَوْزَاغِ، نَقْتُلُهُنَّ بِهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ لَمْ تَكُنْ فِي الْأَرْضِ دَابَّةٌ إِلَّا تُطْفِئُ النَّارَ عَنْهُ غَيْرَ الْوَزَغِ كَانَ يَنْفَخُ عَلَيْهِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ لونڈی سائبہ سے مروی ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور ان کے گھر میں ایک نیزہ دیکھا اور اس کے بارے میں پوچھا: اے ام المؤمنین! آپ اس نیزے کو کیا کرتی ہیں؟ انھوں نے کہا:ہم اس کے ساتھ یہ چھپکلیاں مارتی ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بیان کیا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو روئے زمین کا ہر جانور آگ بجھاتا تھا، ما سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ آگ پر پھونک مارتی تھی، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کے قتل کرنے کا حکم دیا۔
وضاحت:
فوائد: … چھپکلی کی پھونک آتش نمرود میں کوئی اشتعال پیدا نہ کر سکتی تھی، اس سے اس کی بدی اور خبث ِ باطن کا اظہار ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6504
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «الأمر بقتل الوزغ، وانه كان ينفخ علي ابراهيمGصحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه ابن ماجه: 3231 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24780 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25289»
حدیث نمبر: 6505
عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَزَغِ: ((فُوَيْسِقٌ)) وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عروہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھپکلی کو موذی اور فاسق جانور قرار دیا،لیکن انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث نہیں سنی کہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … چھپکلی کو قتل کرنے کی روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سمیت کئی صحابہ سے مروی ہے، ممکن ہے سیدہ کی مراد یہ ہو کہ انھوں نے بنفس نفیس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے فرماتے ہوئے نہیں سنا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6505
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1831، 3306، ومسلم: 2239 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24568 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25075»
حدیث نمبر: 6506
عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((اقْتُلُوا الْوَزَغَ فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفَخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ النَّارَ)) قَالَ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقْتُلُهُنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے ابن عمر امام نافع سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھپکلی کو قتل کر دیا کرو، کیونکہ یہ ابراہیم علیہ السلام پر جلائی گئی آگ پر پھونک مارتی تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود بھی چھپکلیوں کو مار دیا کرتی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6506
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25643 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26162»
حدیث نمبر: 6507
عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اسْتَأْمَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ الْوَزَغَاتِ فَأَمَرَهَا بِقَتْلِ الْوَزَغَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چھپکلیوں کو قتل کرنے کا حکم دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں چھپکلیاں مارنے کا حکم دیا۔
وضاحت:
فوائد: … چھپکلی زہریلا جانور ہے، اگرکسی کھانے پینے کی چیز میں گر جائے تو اسے زہریلا کر دیتا ہے، حتی کہ موت کا سبب بھی سکتا ہے، لہذا اس کو مارنے کا حکم ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6507
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3359، ومسلم: 2237 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27909»