کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 6481
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: الْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْحُدَيَّا، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ)) وَفِي لَفْظٍ: ((الْغُرَابُ الْأَبْقَعُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ فاسق اور موذی جانور ہیں، ان کو حرم میں بھی مار دیا جائے،بچھو، چوہیا، چیل، کلب ِ عقور اورکوا۔ ایک روایت میں ہے: مختلف رنگ والا کوا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’الْعَقُوْرُ‘‘ کا معنی بہت زیادہ کاٹنے والا بھی ہے۔
حدیث نمبر: 6482
عَنْ وَبْرَةَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْفَأْرَةِ وَالْغُرَابِ وَالذِّئْبِ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: فَالْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ؟ قَالَ: قَدْ كَانَ يُقَالُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوہیا، کوے اور بھیڑیے کو قتل کرنے کا حکم دیا، کسی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: بچھو اورسانپ کو بھی قتل کیا جائے گا؟ انھوں نے کہا: ان کے بارے میں بھی ایسی ہی بات کی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 6483
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ وَهُوَ حَرَامٌ، أَنْ يَقْتُلَهُنَّ: الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحِدَأَةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس طرح بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں کہ ان کو قتل کرنے میں محرم پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے، سانپ، بچھو، چوہیا، کلب ِ عقور اور چیل۔
وضاحت:
فوائد: … ’’اَلْکَلْبُ الْعَقُوْرُ‘‘: حقیقت میں اس لفظ کا اطلاق ہر زخمی کرنے والے اور چیر پھاڑ کرنے والے درندے پر بھی ہوتا ہے، جیسے شیر، چیتا، بھیڑیا۔ درندگی میں اشتراکیت کی وجہ سے ان کو بھی ’’کَلْب‘‘ کہتے ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی) ہڑکائے ہوئے اور باؤلے کتے کا بھییہی حکم ہو گا۔
امام مالک نے ’’المؤطا‘‘ میںکہا: ہر وہ جانور جو لوگوں کوکاٹے، ان پر حملہ کرے اوران کو ڈرائے، مثلا: شیر، چیتا، فہد، بھیڑیا، وہ عَقُور ہے۔ (فہد،چیتے کی طرح کا ایک درندہ ہوتا ہے)
ابو عبیدہ نے سفیان سے یہی قول نقل کیا ہے اور یہی جمہور اہل علم کی رائے ہے۔
ان جانوروں کے لیے لفظ ’’فَاسِق‘‘ استعمال ہوا، اس کا لفظی معنی ہے نکلنے والا، یہاں اس سے مراد وہ جانور ہیں کہ تکلیف پہنچانے اور افساد انگیزی کی وجہ سے جن کا حکم دوسرے جانوروں کے حکم سے خارج ہو گیا ہے۔
اس باب کی احادیث ِ صحیحہ میں درج ذیل کل سات جانوروں کا ذکر ہوا ہے: بچھو، کوا، چیل، چوہا، کلب ِ عقور، سانپ، بھیڑیا
کیا ان کے علاوہ کسی جانور کو قتل نہیں کیا جا سکتا؟ حافظ ابن حجر کہتے ہیں: روایات کے مطابق پانچ جانوروں کو مقید کرنا، اگرچہ اس کے مفہوم میں خصوصیت پائی جاتی ہے، لیکنیہ مفہوم العدد ہے، جو اکثر اہل علم کے نزدیک حجت نہیں ہے، اگر اس کی حجیّت تسلیم کر لیں تو اس کو اس معنی پر محمول کیا جائے گا کہ شروع شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ جانوروں کے بارے میں ہی حکم دیا، بعد میں ان میں اضافہ کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے بعض طرق میں ’’چار‘‘ کا اور بعض میں ’’چھ‘‘ کا لفظ روایت کیا گیا ہے، ’’چار‘‘ کی روایت صحیح مسلم میں ہے، اس میں بچھو کا ذکر نہیں ہے اور ’’چھ‘‘ کی روایت مستخرج ابو عوانہ میں ہے، اس میں بچھو کا ذکر موجود ہے اور سانپ کا اضافہ کیا گیا ہے، صحیح مسلم کی شیبان کی روایت اس روایت کا شاہد ہے، اگرچہ اس میں کسی عدد کا ذکر نہیں ہے، …۔ (فتح الباری: ۴/ ۴۴)
جن روایات میں خون خوار درندے اور چیتے وغیرہ کے الفاظ ہیں، ان پر نقد کیا گیا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا جن جانوروں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے یہ جانور انسان کے لیے ضرر، نقصان، تکلیف، خوف اور فساد کا سبب بن سکتے ہیں، بلکہ اِن کی وجہ سے انسان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے، اس لیے جس جانور میںیہ وصف پایا جائے، محرِم و غیر محرِم کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اس کو حرم میں قتل کر دے، جبکہ کلب ِ عقور کا مفہوم بھییہی بنتا ہے۔
امام مالک نے ’’المؤطا‘‘ میںکہا: ہر وہ جانور جو لوگوں کوکاٹے، ان پر حملہ کرے اوران کو ڈرائے، مثلا: شیر، چیتا، فہد، بھیڑیا، وہ عَقُور ہے۔ (فہد،چیتے کی طرح کا ایک درندہ ہوتا ہے)
ابو عبیدہ نے سفیان سے یہی قول نقل کیا ہے اور یہی جمہور اہل علم کی رائے ہے۔
ان جانوروں کے لیے لفظ ’’فَاسِق‘‘ استعمال ہوا، اس کا لفظی معنی ہے نکلنے والا، یہاں اس سے مراد وہ جانور ہیں کہ تکلیف پہنچانے اور افساد انگیزی کی وجہ سے جن کا حکم دوسرے جانوروں کے حکم سے خارج ہو گیا ہے۔
اس باب کی احادیث ِ صحیحہ میں درج ذیل کل سات جانوروں کا ذکر ہوا ہے: بچھو، کوا، چیل، چوہا، کلب ِ عقور، سانپ، بھیڑیا
کیا ان کے علاوہ کسی جانور کو قتل نہیں کیا جا سکتا؟ حافظ ابن حجر کہتے ہیں: روایات کے مطابق پانچ جانوروں کو مقید کرنا، اگرچہ اس کے مفہوم میں خصوصیت پائی جاتی ہے، لیکنیہ مفہوم العدد ہے، جو اکثر اہل علم کے نزدیک حجت نہیں ہے، اگر اس کی حجیّت تسلیم کر لیں تو اس کو اس معنی پر محمول کیا جائے گا کہ شروع شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ جانوروں کے بارے میں ہی حکم دیا، بعد میں ان میں اضافہ کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے بعض طرق میں ’’چار‘‘ کا اور بعض میں ’’چھ‘‘ کا لفظ روایت کیا گیا ہے، ’’چار‘‘ کی روایت صحیح مسلم میں ہے، اس میں بچھو کا ذکر نہیں ہے اور ’’چھ‘‘ کی روایت مستخرج ابو عوانہ میں ہے، اس میں بچھو کا ذکر موجود ہے اور سانپ کا اضافہ کیا گیا ہے، صحیح مسلم کی شیبان کی روایت اس روایت کا شاہد ہے، اگرچہ اس میں کسی عدد کا ذکر نہیں ہے، …۔ (فتح الباری: ۴/ ۴۴)
جن روایات میں خون خوار درندے اور چیتے وغیرہ کے الفاظ ہیں، ان پر نقد کیا گیا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا جن جانوروں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے یہ جانور انسان کے لیے ضرر، نقصان، تکلیف، خوف اور فساد کا سبب بن سکتے ہیں، بلکہ اِن کی وجہ سے انسان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے، اس لیے جس جانور میںیہ وصف پایا جائے، محرِم و غیر محرِم کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اس کو حرم میں قتل کر دے، جبکہ کلب ِ عقور کا مفہوم بھییہی بنتا ہے۔
حدیث نمبر: 6484
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ يَحْيَى: وَالْأَسْوَدَانِ الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو کالی رنگت والوں کو مارنے کا حکم دیا ہے یحییٰ بن حمزہ کہتے ہیں کاگی رنگت والوں سے مراد سانپ اور بچھو ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیاہ سانپ کو ’’اَسْوَد‘‘ کہتے ہیں اور ہر قسم کے سانپ کو ’’اَسْوَد‘‘ کہتے ہیں،یہاں مطلق سانپ مراد ہے، سانپ اور بچھو دونوں کو ’’اَسْوَدَیْن‘‘ کہہ دینا ’’باب التغلیب‘‘ میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 6485
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ لَيْلَةَ عَرَفَةَ الَّتِي قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ إِذْ سَمِعْنَا حِسَّ الْحَيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اقْتُلُوهَا))، قَالَ: فَقُمْنَا فَدَخَلَتْ شَقَّ جُحْرٍ، فَأُتِيَ بِسَعَفَةٍ فَأُضْرِمَ فِيهَا نَارًا وَأَخَذْنَا عُودًا فَقَلَعْنَا عَنْهَا بَعْضَ الْجُحْرِ فَلَمْ نَجِدْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((دَعُوهَا وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ عرفہ کے دن سے پہلے والی رات کو مسجد ِ خیف میں بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ہم نے سانپ کی حرکت محسوس کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے مار ڈالو۔ ہم اسے مارنے کے لئے کھڑے ہوئے تو وہ ایک پتھر کی دراڑ میں گھس گیا، پس کھجوروں کی شاخیں لائی گئیں اور اس میں آ گ جلائی گئی، پھر ہم نے ایک لکڑی لی اور پتھر کو اس کی جگہ سے کچھ ہٹایا، لیکن وہ سانپ نہ مل سکا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب اسے چھوڑدو، اللہ نے اس کو تمہارے شر سے اور تمہیں اس کے شر سے بچا لیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سانپ کو مارنا شرعی حکم ہے، لیکن سانپ کے لیےیہ کسی شرّ سے کم نہیں ہے کہ اس کو مار دیا جائے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے سانپ کو تمہارے شرّ سے محفوظ کر لیا ہے۔ ممکن ہے کہ آگ جلانے کا مقصد یہ ہو کہ سانپ باہر نکل آئے گا، بہرحال آگ سے عذاب دینا ممنوع ہے۔
حدیث نمبر: 6486
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ) قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى قَالَ: فَخَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اقْتُلُوهَا)) فَابْتَدَرْنَاهَا فَسَبَقَتْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم منٰی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک ایک سانپ نکل آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے مار ڈالو۔ پس ہم اسے مارنے کے لئے دوڑے، لیکن وہ نکل گیا۔
حدیث نمبر: 6487
عَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ (وَفِي لَفْظٍ: بِحِرَاءَ) فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ: «وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا» فَجَعَلْنَا نَتَلَقَّاهَا مِنْهُ فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ مِنْ جَانِبِ الْغَارِ فَقَالَ: ((اقْتُلُوهَا)) فَتَبَادَرْنَاهَا فَسَبَقَتْنَا فَقَالَ: ((إِنَّهَا وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غار حراء میں بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورت {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} نازل ہوئی، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ سورت سیکھ رہے تھے کہ اچانک ایک سانپ غار کی جانب سے نمو دار ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ ہم سے نکل گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے شر سے محفوظ رہا اور تم اس کے شر سے۔
حدیث نمبر: 6488
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَرَكَ الْحَيَّاتِ مَخَافَةَ طَلْبِهِنَّ فَلَيْسَ مِنَّا، مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے سانپ کی انتقامی کاروائی سے ڈرتے ہوئے اس کو چھوڑا، وہ ہم میں سے نہیں ہے، جب سے ہماری ان سے لڑائی ہوئی ہے، اس وقت سے ہم نے ان کوئی صلح نہیں کی۔
وضاحت:
فوائد: … انسان اور سانپ، دونوں جبلی اور فطرتی طور پر ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں، اسی عداوت کو اس حدیث میںبیان کیا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آدمg اور سانپ کے ما بین اس دشمنی کا آغاز اس وقت ہوا تھا، جب ابلیس کو جنت کے دربانوں نے آدمg کے پاس پہنچنے سے روکا تو سانپ نے اس کو جنت میں داخل کیا تھا، پھر اس نے آدم اور حواm کو ممنوعہ درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کیا اور اس طرح ان کو جنت سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔
سانپ کی انتقامی کاروائی سے ڈرنا محض توہم پرستی ہے، دورِ جاہلیت میں کہا جاتا تھا کہ سانپ کو قتل نہ کرو، وگرنہ اس کا خاوند یا بیوی انتقام لینے کے لیے قتل کرنے والے کو ڈسے گی۔ پاکستان کے بعض علاقوں میں ابھی تک اس قسم کی وہمی باتیں پائی جاتی ہیں، مثلًا ایک مخصوص سانپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے سات سانپ آتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ ہے کہ سانپوں میں اس قسم کا کوئی سلسلہ نہیں پایا جاتا، لہذا ان کو قتل کرنے کی ہی کوشش کرنی چاہیے۔
سانپ کی انتقامی کاروائی سے ڈرنا محض توہم پرستی ہے، دورِ جاہلیت میں کہا جاتا تھا کہ سانپ کو قتل نہ کرو، وگرنہ اس کا خاوند یا بیوی انتقام لینے کے لیے قتل کرنے والے کو ڈسے گی۔ پاکستان کے بعض علاقوں میں ابھی تک اس قسم کی وہمی باتیں پائی جاتی ہیں، مثلًا ایک مخصوص سانپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے سات سانپ آتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ ہے کہ سانپوں میں اس قسم کا کوئی سلسلہ نہیں پایا جاتا، لہذا ان کو قتل کرنے کی ہی کوشش کرنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 6489
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 6490
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ قَتَلَ حَيَّةً فَلَهُ سَبْعُ حَسَنَاتٍ، وَمَنْ قَتَلَ وَزَغًا فَلَهُ حَسَنَةٌ، وَمَنْ تَرَكَ حَيَّةً مَخَافَةَ عَاقِبَتِهَا فَلَيْسَ مِنَّا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو سانپ کو قتل کرے، اسے سات نیکیاں ملتی ہیں اور جو چھپکلی کو مارے، اسے ایک نیکی ملتی ہے اور جس نے سانپ کو اس کے انتقام کے خوف کی وجہ سے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِی أَوَّلِ ضَرْبَۃٍ کُتِبَتْ لَہُ مِائَۃُ حَسَنَۃٍ وَفِی الثَّانِیَۃِ دُونَ ذَلِکَ وَفِی الثَّالِثَۃِ دُونَ ذَلِکَ۔)) … ’’جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں قتل کر دیا، اس کے لیے سو نیکیاں ہیں اور جس نے دوسری ضرب میں قتل کیا، اس کے لیے اس سے کم نیکیاں ہیں اور جس نے تیسری ضرب میں قتل کیا، اس کے لیے اس سے کم نیکیاں ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم: ۲۲۴۰)
حدیث نمبر: 6491
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا ابْنُ مَسْعُودٍ يَخْطُبُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ تَمْشِي عَلَى الْجِدَارِ فَقَطَعَ خُطْبَتَهُ ثُمَّ ضَرَبَهَا بِقَضِيبِهِ أَوْ بِقَصَبَةٍ قَالَ يُونُسُ بِقَضِيبِهِ حَتَّى قَتَلَهَا ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَتَلَ حَيَّةً فَكَأَنَّمَا قَتَلَ رَجُلًا مُشْرِكًا قَدْ حَلَّ دَمُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو الاحوص جشمی کہتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے، اچانک انہوں نے دیکھا کہ ایک سانپ دیوار پر چل رہا ہے، انھوں نے اپنے خطاب کو روک دیا اور اپنی چھڑی کے ساتھ اس کو مارنا شروع کردیا،یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے سانپ کو مارا، گویا کہ اس نے اس مشرک کو قتل کر دیا، جس کا خون بہانا جائز ہو چکا تھا۔
حدیث نمبر: 6492
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ وَيَقُولُ مَنْ تَرَكَهُنَّ خَشْيَةَ أَوْ مَخَافَةَ تَأْثِيرٍ فَلَيْسَ مِنَّا قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ الْحَيَّاتِ مَسِيخُ الْجِنِّ كَمَا مُسِخَتِ الْقِرَدَةُ مِنْ إِسْرَائِيلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عکرمہ کہتے ہیں: میرایہی خیالیہ کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مرفوعاً بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سانپوں کو قتل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: جس نے ان کو ان کی انتقامی کاروائی سے ڈرتے ہوئے چھوڑا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: بیشک سانپ، جنوں کی مسخ شدہ شکلیں ہیں، جیسا کہ بنواسرائیل کو بندروں کی شکلوں میں مسخ کیا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 6493
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَيَّاتُ مَسِيخُ الْجِنِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بعض سانپ جنوں سے مسخ شدہ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … آپ کو علم ہونا چاہیے کہ اس حدیث کا یہ مفہوم نہیں کہ موجودہ سانپ جنوں کی مسخ شدہ شکلیں ہیں۔ اس کا مفہوم تو یہ ہے کہ بعض جنوں کو سانپوں کی شکل میں مسخ کیا گیا تھا، جیسا کہ یہودیوں کو بندروں اور خنزیروں کی شکلوں میں مسخ کیا گیا تھا، لیکن ایسی حالت میں ان کی نسل نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میںیہ بات ہونے لگی کہ بندر اور خنزیر کس کی مسخ شدہ شکلیں ہیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَمْسَخْ شَیْئًا فَیَدَعَ لَہٗنَسْلًااَوْعَاقِبَۃً، وَقَدْ کَانَتِ الْقِرَدَۃُ وَالْخَنَازِیْرُ قَبْلَ ذَالِکَ۔)) (صحیح مسلم) … ’’جب اللہ تعالی کسی مخلوق کو (دوسری مخلوق کی شکل میں) مسخ کرتے ہیں تو اس کی آگے نسل اور اولاد نہیں ہوتی (یعنی وہ اسی مسخ شدہ شکل میں ہلاک ہو جاتی ہے) اور بندر اور خنزیر (جن کے بارے میں تم باتیں کر رہے ہو، یہ تو مسخ شدہ قوموں سے) پہلے بھی تھے۔‘‘