کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نفس کی حفاظت کرنے اوراسے ہلاکت سے بچانے کے واجب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6478
عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَغَزَوْنَا نَحْوَ فَارِسَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَاتَ فَوْقَ بَيْتٍ لَيْسَ لَهُ إِجَّارٌ فَوَقَعَ فَمَاتَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ عِنْدَ ارْتِجَاجِهِ فَمَاتَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی رسول بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ فارس کی جانب ایک غزوہ میں تھے، اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو شخص ایسے گھر کی چھت پر سوئے، جس پر کوئی پردہ (اور آڑ) وغیرہ نہ ہو، اور اگر وہ گر مر جائے تو اس کی کوئی ذمہ نہ ہو گا۔ اسی طرح جو سمندری سفر کرے، اس حال میں کہ سمندر طلاطم خیز ہو، اور وہ (ڈوب کر)مرے جائے تو اس کا بھی کوئی ذمہ نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6478
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «قال الالباني في ’’الصحيحة‘‘ : صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21028»
حدیث نمبر: 6479
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِجِدَارٍ أَوْ حَائِطٍ مَائِلٍ فَأَسْرَعَ الْمَشْيَ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ إِنِّي أَكْرَهُ مَوْتَ الْفَوَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایسی دیوار کے پاس سے گزرے جو ایک جانب جھکی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے تیزی سے گزر گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس جلدی کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اچانک موت کو ناپسند کرتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … بظاہر تو کہا جا سکتا ہے کہ اچانک موت اللہ تعالی کے غضب کی نشانی ہے، کیونکہ اس طرح سے توبہ تائب ہونے کا موقع نہیں ملتا اور آدمی بیماری کی وجہ ملنے والی بلندیٔ درجات سے محروم ہو جاتا ہے، لیکن چونکہ مؤمن ہر وقت موت کی تیاری میں ہوتا ہے، اس لیے اچانک موت اس کے لیے غضب ِ الہی کا باعث نہیں ہوتی، درج ذیل روایت پر غور کریں: سیدنا عبید اللہ بن خالد سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَوْتُ الْفُجَاء َۃ أَخْذَۃُ الْأَسَفِ۔))
رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَ الْبَیْہَقِیُّ فِی شُعَبِ الْإِیمَانِ وَرَزِینٌ فِی کِتَابِہِ: ((أَخْذَۃُ الْأَسِفِ لِلْکَافِرِ وَرَحْمَۃٌ لِلْمُؤمنِ۔)) … ’’اچانک موت ناراضی کی پکڑ ہے۔‘‘ (ابوداود: ۳۱۱۰) امام بیہقی نے ’’شعب الایمان‘‘ میں اور رزین نے اپنی کتاب میں اس روایت کو زیادہ الفاظ کے ساتھ یوں بیان کیا ہے: ’’اچانک کافر کے لیے ناراضی کی پکڑ ہے، لیکن مؤمن کے لیے رحمت ہے۔‘‘ (قال الالبانی فی المشکوۃ: صحیح)
ہاںیہ الگ بات ہے کہ ایسے اسباب سے مکمل گریز کرنا چاہیے، جو اچانک موت کا واضح طور پر سبب بن سکتے ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6479
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، ابراهيم بن اسحاق المدني ضعفه غير واحد من الائمة، وقال البخاري: منكر الحديث، وقال الدارقطني: متروك۔ أخرجه ابويعلي: 6612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8666 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8651»
حدیث نمبر: 6480
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْبَغِي لِمُسْلِمٍ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ قِيلَ وَكَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ قَالَ يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لائق نہیں کہ وہ خود اپنے نفس کو ذلت میں ڈال دے۔ کسی نے کہا: وہ اپنے نفس کو کیسے ذلت میں ڈالتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایسی بلاؤں اور آزمائشوں کے درپے ہو جاتا ہے، جن کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان کو ہمیشہ عافیت کا سوال کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو روحانی اور جسمانی آزمائشوں اور ہلاکت گاہوں سے بچانا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6480
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف من اجل علي بن زيد بن جدعان۔ أخرجه الترمذي: 2254، وابن ماجه: 4016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23444 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23837»