کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: خود کشی کرنے پر وعید کا بیان، وہ جس چیز سے مرضی خود کشی کرے
حدیث نمبر: 6470
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ بِيَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسَمٍّ فَسَمُّهُ بِيَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی لوہے کے ساتھ خودکشی کی، تو اس کا وہ لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ اسے اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا،جس نے زہر سے خودکشی کی، تو اس کا وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کو پیتا رہے گا اور جس نے پہاڑ سے گر کر خود کشی کی تو وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پہاڑ سے گرتا ہی رہے گا۔
وضاحت:
فوائد: … خود کشی حرام ہے، دنیا میں کوئی ایسی تکلیف اور آزمائش نہیں ہے، جس کی بنا پر خود کشی کو جائز سمجھا جا سکے، جن صحابہ کو اسلام کے جرم کی وجہ سے سنگین آزمائشوں کی بھٹیوں سے گزرنا پڑا، ان کی مثالیں واضح ہیں، اللہ تعالی بناتِ اسلام کی عزت و حرمت کو محفوظ فرمائے، جب ان کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے تو وہ خود کشی کو ترجیح دینے لگتی ہیں، لیکن ایسا کرنا درست نہیں ہے، اس زیادتی میں سرے سے ان کا گناہ ہی نہیں ہے، ان کو اپنا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد کر کے صبر کرنا چاہیے، اللہ تعالی ایسے مجرموں کو ہدایت دے دے، وگرنہ ان کو ہلاک و برباد کر دے۔ (آمین)دوسری نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ خود کشی مسلمان کے لیے قابل معافی جرم ہے، ایک دلیل درج ذیل ہے: فَلَمَّا ہَاجَرَ النَّبِیُّV إِلَی الْمَدِینَۃِ ہَاجَرَ إِلَیْہِ الطُّفَیْلُ بْنُ عَمْرٍو وَہَاجَرَ مَعَہُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِہِ
فَاجْتَوَوُا الْمَدِینَۃَ فَمَرِضَ فَجَزِعَ فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَہُ فَقَطَعَ بِہَا بَرَاجِمَہُ فَشَخَبَتْ یَدَاہُ حَتّٰی مَاتَ فَرَآہُ الطُّفَیْلُ بْنُ عَمْرٍو فِی مَنَامِہِ فَرَآہُ وَہَیْئَتُہُ حَسَنَۃٌ وَرَآہُ مُغَطِّیًایَدَیْہِ۔ فَقَالَ لَہُ: ((مَا صَنَعَ بِکَ رَبُّکَ۔)) فَقَالَ غَفَرَ لِی بِہِجْرَتِی إِلَی نَبِیِّہِV، فَقَالَ: مَا لِی أَرَاکَ مُغَطِّیًایَدَیْکَ؟ قَالَ: قِیلَ لِی: لَنْ نُصْلِحَ مِنْکَ مَا أَفْسَدْتَ، فَقَصَّہَا الطُّفَیْلُ عَلٰی رَسُولِ اللَّہِV فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اللَّہُمَّ وَلِیَدَیْہِ فَاغْفِرْ۔)) … ’’جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کی اور ان کے ساتھ ایک آدمی بھی تھا، پس ان لوگوں نے مدینہ منورہ کی آب و فضا کو ناموافق پایا اور وہ آدمی بیمار ہو گیا اور بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے پھل پکڑا اور اپنی انگلیوں کے جوڑوں کو کاٹ دیا، خون بہتا رہا، یہاں تک کہ وہ بندہ مر گیا، اس کے بعد سیدنا طفیل نے اس کو خواب میں اس طرح دیکھا کہ اس کی حالت بہت اچھی تھی، لیکن اس نے دونوں ہاتھوں کو ڈھانپا ہوا تھا، سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تیرے ربّ نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟ اس نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف میری ہجرت کی وجہ سے اللہ تعالی نے مجھے بخش دیا ہے، سیدنا طفیل نے کہا: ہاتھوں کو کیوں ڈھانپا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: مجھے کہا گیا کہ جو چیز تو نے خود خراب کی ہے، ہم اس کی اصلاح نہیں کریں گے۔‘‘ پھر جب سیدنا طفیل نے نبی کریم کو خواب والا یہ واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے اللہ اس کے ہاتھوں کو بھی بخش دے۔‘‘ (صحیح مسلم: ۱۱۶)
ہم جس حدیث کی شرح بیان کر رہے ہیں، اس کی اور اس طرح کی دوسری احادیث کی درج ذیل تاویلات کی جا سکتی ہیں: (۱) ان میں زجرو توبیخ کا بیان ہے تاکہ خود کشی کی قباحت و شناعت واضح ہو سکے۔
(۲) اگر اللہ تعالی ایسے شخص کو کامل سزا دینا چاہے تو وہ اسی سزا کا مستحق ہو گا، لیکن اللہ تعالی اپنے مؤحد بندوں پر کرم کرے گا اور ان کو کچھ عرصہ کے بعد جہنم سے نکال لے گا۔
(۳) ہمیشگی سے مراد طویل زمانہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6470
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5778، ومسلم: 109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7448 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7441»
حدیث نمبر: 6471
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَطْعَنُ نَفْسَهُ إِنَّمَا يَطْعَنُهَا فِي النَّارِ وَالَّذِي يَتَقَحَّمُ فِيهَا يَتَقَحَّمُ فِي النَّارِ وَالَّذِي يَخْنُقُ نَفْسَهُ يَخْنُقُهَا فِي النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے خود کو نیزہ مارکر قتل کیا، وہ دوزخ میں نیزہ مارتا ہی رہے گا،جس نے آگ میں کود کر خود کشی کر لی، وہ آگ میں گھستا ہی رہے گا اور جس نے اپنا گلہ خود گھونٹ دیا، وہ دوزخ میں اس کو گھونٹتا ہی رہے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6471
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1365، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9616»
حدیث نمبر: 6472
عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عَذَّبَهُ اللَّهُ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ثابت بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جس چیز کے ساتھ خودکشی کی، اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی آگ میں اسی چیز کے ساتھ عذاب دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6472
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6047، ومسلم: 110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16505»
حدیث نمبر: 6473
عَنْ جُنْدُبِ بْنِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ فَحُمِلَ إِلَى بَيْتِهِ فَآلَمَتْهُ جِرَاحَتُهُ فَاسْتَخْرَجَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَطَعَنَ بِهِ فِي لَبَّتِهِ فَذَكَرُوا ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَابَقَنِي بِنَفْسِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جندب بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی زخمی ہوگیا، اسے اٹھاکر گھر لایا گیا، اس کے زخموں نے اسے بے تاب کر دیا اور اس نے اپنے ترکش سے تیر نکالا اور اپنے حلق میں پیوست کر دیا، جب لوگوں نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالی سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: میرے بندے نے اپنے نفس کے معاملے میں مجھ سے سبقت لی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث صحیح بخاری (۳۴۶۳) اور صحیح مسلم(۱۱۳) میں سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((کَانَ فِیمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَجُلٌ بِہِ جُرْحٌ فَجَزِعَ فَأَخَذَ سِکِّینًا فَحَزَّ بِہَا یَدَہُ فَمَا رَقَأَ الدَّمُ حَتّٰی مَاتَ، قَالَ اللَّہُ تَعَالٰی بَادَرَنِی عَبْدِی بِنَفْسِہِ حَرَّمْتُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ۔)) … ’’تم سے پہلے ایک آدمی تھا، اس کو کوئی زخم آ گیا، لیکن اس نے بے صبری کی اور چھری لے کر اپنے ہاتھ کو کاٹ دیا، پس خون نہ رکا، یہاں تک کہ وہ مر گیا، اللہ تعالی نے کہا: میرے بندے نے اپنے نفس کے معاملے میں مجھ سے سبقت لینا چاہاہے، پس میں نے اس پر جنت کو حرام کر دیا ہے۔‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6473
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «حديث ضعيف بھذه السياقة لضعف عمران القطان ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19007»
حدیث نمبر: 6474
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ فُلَانٌ قَالَ لَمْ يَمُتْ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ مَاتَ قَالَ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ قَالَ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ وَفِي لَفْظٍ قَالَ إِذًا لَا أُصَلِّي عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے عہد رسالت میں ایک آدمی فوت ہوگیا، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوااور کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آدمی فوت ہوگیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ابھی تک نہیں مرا۔ پھر وہ آدمی دوسری مرتبہ اور پھر تیسری مرتبہ آیا اور وہی بات کہی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: وہ کس طرح مرا ہے؟ اس نے کہا: جی اس نے خود کو نیزہ مار کر ذبح کر دیا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی، ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تب میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمازِ جنازہ نہ پڑھنا، یہ ایک تادیبی کاروائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر اپنے عمل کے ذریعے اس فعل کی سنگینی کو بیان کرنا چاہتے تھے، تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں، وگرنہ حدیث نمبر (۶۴۷۰) کے فوائد میں دی گئی حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے لیے مغفرت کی دعا کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6474
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا و مختصرا مسلم: 978، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20816 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21101»
حدیث نمبر: 6475
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مذکورہ بالا حدیث کی ایک اور سند ذکر کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6475
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21101»
حدیث نمبر: 6476
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُرِحَ فَآذَتْهُ الْجِرَاحَةُ فَدَبَّ إِلَى مَشَاقِصَ فَذَبَحَ بِهَا نَفْسَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ كُلُّ ذَلِكَ أَدَبٌ مِنْهُ هَكَذَا أَمْلَاهُ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ مِنْ كِتَابِهِ وَلَا أَحْسِبُ هَذِهِ الزِّيَادَةَ إِلَّا مِنْ قَوْلِ شَرِيكٍ قَوْلُهُ ذَلِكَ أَدَبٌ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے ایک آدمی زخمی ہوگیا اور اس زخم نے اس کو اس قدر اذیت دی کہ وہ رینگتا ہوا تیروں تک پہنچا اور اپنے آپ کو ذبح کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز جنازہ نہ پڑھنا ایک ادبی کاروائی تھی، عبد اللہ بن عامر نے ہمیں اسی طرح لکھوایا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ ادب والی یہ بات شریک کا قول ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6476
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21175»
حدیث نمبر: 6477
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ إِنَّ هَذَا لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ أَشَدَّ الْقِتَالِ حَتَّى كَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ فَأَتَاهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ الَّذِي ذَكَرْتَ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَدْ وَاللَّهِ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَشَدَّ الْقِتَالِ وَكَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَكَادَ بَعْضُ الصَّحَابَةِ أَنْ يَرْتَابَ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ وَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحِ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى كِنَانَتِهِ فَانْتَزَعَ مِنْهَا سَهْمًا فَانْتَحَرَ بِهِ فَاشْتَدَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ صَدَقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ قَدِ انْتَحَرَ فُلَانٌ فَقَتَلَ نَفْسَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خیبر میں شریک ہونے والے ایک صحابی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھ والے ایک آدمی کے متعلق یہ فرمایا کہ یہ آدمی دوزخیوں میں سے ہے۔ لیکن جب لڑائی شروع ہوئی تو اس آدمی نے بڑی زبردست لڑائی لڑی اور اس کو بہت زیادہ زخم آئے۔ کچھ صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! جس آدمی کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ وہ جہنمی لوگوں میں سے ہے، اس نے تو اللہ کی قسم! بہت شاندار لڑائی لڑی ہے اور اس کو بہت زیادہ زخم بھی آئے ہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر وہی بات دوہرا دی کہ وہ شخص دوزخیوں میں سے ہے۔ اس بات سے ممکن تھا کہ بعض صحابہ اپنے دین کے معاملے میں شک میں پڑ جاتے، لیکن اسی دوران ہی اس آدمی نے زخم کی تکلیف محسوس کی اور اپنا ہاتھ ترکش کی طرف جھکایا، اس میں سے ایک تیر نکالا اور اپنے آپ کو ذبح کر دیا،ایک مسلمان دوڑتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور کہا: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو سچا ثابت کر دیا ہے، اس آدمی نے خود کو ذبح کر کے خودکشی کر لی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ واقعہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا گیا ہے کہ یہ آدمی منافق تھا اور اپنے مفاد کی خاطر جنگ میں شریک ہوا تھا، اس کی شجاعت نے صحابہ کرامe کو بھی حیرت زدہ کر دیا تھا، تاہم ان کی حیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت دیکھ کر کافور ہوگئی۔
لیکن اس تاویل کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ وہ اعتقادی منافق تھا، جہنمی ہونے کے لیےیہ لازم نہیں کہ وہ اعتقادی منافق ہو، کیونکہ ایسے جہنمی بھی ہوں گے، جو اپنے ایمان کی وجہ سے بالآخر جہنم سے نکال دیئے جائیں گے۔
(عبد اللہ رفیق)
یہ نقطہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ نفس انسانی مطلق طورپر انسان کی ملکیت نہیں ہے، اس کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے، انسان اس میں اتنا تصرف کر سکتا ہے، جتنی اللہ تعالی نے اس کو اجازت دی ہے،انسان کو تو یہ حق بھی نہیں دیا گیا کہ وہ اس وجود کے ذریعے اللہ تعالی کی معصیت والا کام کرے، چہ جائیکہ وہ اس وجود کو ہی ختم کر ڈالے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6477
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17218 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17350»