حدیث نمبر: 6440
عَنْ شَقِيقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روز قیامت لوگوں کے درمیان سب سے پہلے جو فیصلہ کیا جائے گا، وہ خونوں کے بارے میں ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز کا اور حقوق العباد میں سب سے پہلے خون کا محاسبہ کیا جائے گا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے سامنے اس پر کئے گئے احسانات کا تذکرہ کرے گا تو سب سے پہلے صحت اور ٹھنڈے پانی کے بارے میں محاسبہ ہو گا،جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَنْ یُّقَالَ لَہٗ: اَلَمْاُصِحَّلَکَجِسْمَکَ،وَاُرْوِکَمِنَالْمَائِالْبَارِدِ؟)) … ’’روزِقیامت بندے کا سب سے پہلے محاسبہ یوں ہو گا کہ اسے کہا جائے گا: کیا میں نے تیرے جسم کو تندرست نہیں کیا تھا، کیا میں نے تجھے ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں کیا تھا۔‘‘ (ترمذی: ۲/ ۲۴۰،صحیحہ: ۵۳۹)
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَنْ یُّقَالَ لَہٗ: اَلَمْاُصِحَّلَکَجِسْمَکَ،وَاُرْوِکَمِنَالْمَائِالْبَارِدِ؟)) … ’’روزِقیامت بندے کا سب سے پہلے محاسبہ یوں ہو گا کہ اسے کہا جائے گا: کیا میں نے تیرے جسم کو تندرست نہیں کیا تھا، کیا میں نے تجھے ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں کیا تھا۔‘‘ (ترمذی: ۲/ ۲۴۰،صحیحہ: ۵۳۹)
حدیث نمبر: 6441
عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَكَانَ قَلِيلَ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ إِلَّا الرَّجُلَ يَمُوتُ كَافِرًا وَالرَّجُلَ يَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ، جو کہ کم احادیث بیان کرنے والے تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرگناہ معاف کر دے، مگر وہ آدمی جو کفر کی حالت میں مرتا ہے اور جو جان بوجھ کر مؤمن کو قتل کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّ الّذَیِنْ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ کُفَّارٌ اُولٰئِکَ عَلَیْھِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔} … ’’بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ اس حال میں ہی مر گئے کہ وہ کافر تھے، یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔‘‘ (سورۂ بقرہ:۱۶۱)
مومن کو قتل کرنا سنگین جرم ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَائُ ہٗجَھَنَّمُخَالِدًافِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ لَعَنَہٗوَاَعَدَّلَہٗعَذَابًاعَظِیْمًا۔} … ’’اور جس نے مومن کو قصدا قتل کیا اس کا بدلہ دوزخ ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا غصب ہوگا اور اس کی لعنت ہے اور اس نے اس کے لے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے۔‘‘ (سورۂ نسائ:۹۳)
مذکورہ بالا دو جرائم میں اس اعتبار سے یکسانیت پائی جاتی ہے کہ توبہ تائب ہو جانے کی وجہ سے معاف ہو جاتے ہیں، لیکن اسی حالت میں مر جانے کی صورت میں کفر نا قابل معافی جرم ہے اور قتل قابل معافی، مومن کا قاتل ابدی جہنمی نہیں ہو گا، دوسری نصوص کی روشنی میں اس آیت کو سخت وعید پر محمول کیا جائے گا۔
مومن کو قتل کرنا سنگین جرم ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَائُ ہٗجَھَنَّمُخَالِدًافِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ لَعَنَہٗوَاَعَدَّلَہٗعَذَابًاعَظِیْمًا۔} … ’’اور جس نے مومن کو قصدا قتل کیا اس کا بدلہ دوزخ ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا غصب ہوگا اور اس کی لعنت ہے اور اس نے اس کے لے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے۔‘‘ (سورۂ نسائ:۹۳)
مذکورہ بالا دو جرائم میں اس اعتبار سے یکسانیت پائی جاتی ہے کہ توبہ تائب ہو جانے کی وجہ سے معاف ہو جاتے ہیں، لیکن اسی حالت میں مر جانے کی صورت میں کفر نا قابل معافی جرم ہے اور قتل قابل معافی، مومن کا قاتل ابدی جہنمی نہیں ہو گا، دوسری نصوص کی روشنی میں اس آیت کو سخت وعید پر محمول کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 6442
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَيُّ يَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً قَالُوا يَوْمُنَا هَذَا قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً قَالُوا شَهْرُنَا هَذَا قَالَ فَأَيُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً قَالَ بَلَدُنَا هَذَا قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے پوچھا: وہ کون سا دن ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے؟ انہوں نے کہا: یہی ہمارا دن۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کون سا مہینہ ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا: یہی ہمارا ذوالحجہ کا مہینہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کونسا شہر ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے؟ انھوں نے کہا: یہی ہمارا شہر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تمہارا خون اور تمہارا مال تم پر اسی طرح حرام ہیں، جس طرح تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … شریعت ِ مطہرہ کے نزدیک مسلمان کے خون، عزت اور مال کی جس قدر عظمت و حرمت زیادہ تھی، اتنا ہی ہمارے معاشرے کے افراد نے اس عظمت کو خوب پامال کیا ہے، آج مسلمان کی شان اس کے اسلام میں نہیں ہے، بلکہ ساری کی ساری عزت و غیرت کو مال و زر میں پنہاں سمجھ لیا گیا ہے، درہم و دینار والے کا وقار ہے اور مسکراہٹوں کے تبادلے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہمارے معیار میں سب سے پہلے اسلام کی رو رعایت ہو، پھر دوسرے امور کو ترجیح دی جائے۔
حدیث نمبر: 6443
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ قَتَلَ مُؤْمِنًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى قَالَ وَيْحَكَ وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ يَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّكُمْ وَمَا نَسَخَهَا بَعْدَ إِذْ أَنْزَلَهَا قَالَ وَيْحَكَ وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سالم بن ابی جعد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی نے دریافت کیا کہ ایک آدمی ایک مؤمن کو قتل کرتا ہے، لیکن پھر توبہ کر لیتا ہے،ایمان لے آتا ہے، نیک عمل کرتا ہے اور ہدایت یافتہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا: بڑا افسوس ہے تجھ پر، ایسے قاتل کے لئے ہدایت کہاں سے آئے گی؟ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: مقتول اپنے قاتل کے ساتھ چمٹ کر آئے گا اور کہے گا: اے میر ے رب ! اس سے پوچھ کہ اس نے کس وجہ سے مجھے قتل کیا تھا۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالی نے تمہارے نبی پر اس آیت کو نازل کیا اور اس کو نازل کرنے کے بعد منسوخ نہیں کیا۔ بڑا فسوس ہے تجھ پر، ایسے قاتل کو ہدایت کہاں سے ملے گی؟
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی مراد یہ آیت ہے: {وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَائُ ہٗجَھَنَّمُخَالِدًافِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ لَعَنَہٗوَاَعَدَّلَہٗعَذَابًاعَظِیْمًا۔} … ’’اور جس نے مومن کو قصدا قتل کیا اس کا بدلہ دوزخ ہے اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا غصب ہوگا اور اس کی لعنت ہے اور اس نے اس کے لے بہت بڑا عذات تیار کیا ہے۔‘‘ (سورۂ نسائ:۹۳)
حدیث نمبر: 6444
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ رَجُلًا قَتَلَ مُؤْمِنًا قَالَ ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَقْتُولَ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُتَعَلِّقًا رَأْسَهُ بِيَمِينِهِ أَوْ قَالَ بِشِمَالِهِ آخِذًا صَاحِبَهُ بِيَدِهِ الْأُخْرَى تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا فِي قِبَلِ عَرْشِ الرَّحْمَنِ فَيَقُولُ رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ایک آدمی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا : اے ابن عباس!اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جو مومن کو قتل کر دیتا ہے؟ انھوں نے کہا:اس کی ماں اسے گم پائے، اس کے لیے توبہ کہاں سے آئے گی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے کہ بیشک مقتول قیامت والے دن اپنے دائیں یا بائیں کے ساتھ اپنے سر کو پکڑ کر اور دوسرے ہاتھ سے اپنے قاتل کو پکڑ کر رحمن کے عرش کی طرف لائے گا،جبکہ اس کی رگیں خون بہا رہی ہوں گی، اور وہ کہے گا: اے میرے ربّ! اس سے پوچھو، اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نظریہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا تھا، لیکن بعد والے اہل علم نے ان کے ساتھ اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ توبہ سے قاتل کا گناہ زائل ہو سکتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ توبہ کے ذریعے تو کفر و شرک جیسے جرائم معاف ہو جاتے ہیں، ان سے ہلکے درجے کے گناہ معاف کیوں نہیں ہوں گے۔ اہل سنت نے سورۂ نساء کی اس آیت کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ اگر کوئی آدمی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرنے کے بعد اور توبہ کیے بغیر مر جاتا ہے تو اس کی معافی پھر بھی ممکن ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: {اَنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖوَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذَالِکَ لِمَنْ یَّشَائُ} (النسائ:۴۸) ’’بیشک اللہ تعالی اس جرم کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اس کے علاوہ جو گناہ ہو، وہ جس کیلئے چاہے معاف کر دیتا ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 6445
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِبَابُ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ وَحُرْمَةُ مَالِهِ كَحُرْمَةِ دَمِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کا اپنے بھائی کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے اور مسلمان کے مال کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی مانند ہے۔
حدیث نمبر: 6446
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی ایک حدیث ِنبوی بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 6447
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَنْ يَزَالَ الْمَرْءُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اس وقت تک دین کے معاملے میں یعنی نیکیاں کرنے میں وسعت میں رہتا ہے، جب تک حرام خون بہانے کا ارتکاب نہیں کرتا۔
وضاحت:
فوائد: … ویسے تو ہر قسم کے شرّ سے خیر والے معاملات متأثر ہو جاتے ہیں، لیکن قتل ایسا سنگین جرم ہے کہ اس سے نیکیوں کا سلسلہ تنگ ہو جاتا ہے، الا یہ کہ خلوص دل سے توبہ کر لی جائے، جیسا کہ سو افراد کے قاتل کا واقعہ مشہور ہے۔
حدیث نمبر: 6448
عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْيَزَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَاتِلِ وَالْآمِرِ قَالَ قُسِّمَتِ النَّارُ سَبْعِينَ جُزْءًا فَلِلْآمِرِ تِسْعٌ وَسِتُّونَ وَلِلْقَاتِلِ جُزْءٌ وَحَسْبُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مرثد بن عبد اللہ یزنی ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قاتل اور قتل کا حکم دینے والے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوزخ کو ستر حصوں میں تقسیم کی گیا، قتل کا حکم دینے والے کے لئے انہتر حصے ہوں گے اور قاتل کے لئے ایک حصہ ہو گا اور وہی اس کے لیے کافی ہو گا۔
حدیث نمبر: 6449
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَا جَرِيرُ اسْتَنْصِتِ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے جریر! لوگوں کو خاموش کراؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان کا قتل، ترکِ نماز کی طرح کفریہ عمل ہے، اس سے ایمان اور اسلام میں بہت بڑا نقص پیدا ہو جاتا ہے، لیکن ایسا کرنے والا اعتقادی کافر نہیں ہو گا، جس کی سزا ہمیشہ کے لیے آگ ہو گی۔
حدیث نمبر: 6450
عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَشْهَدَنَّ أَحَدُكُمْ قَتِيلًا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ قُتِلَ ظُلْمًا فَيُصِيبَهُ السُّخْطُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا خرشہ بن حارث رضی اللہ عنہ ، جو کہ صحابہ میں سے تھے، سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی کسی کے قتل کے وقت حاضر نہ ہو، کیونکہ ہوسکتا ہے اسے ظلماً قتل کیا جا رہا ہو اور اس طرح حاضر ہونے والے کو بھی اللہ تعالی کی ناراضگی پہنچ جائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ اسلامی ہدایات واضح ہیں، اگر اسلام کے قوانین کے مطابق قتل کیا جا رہا ہو، تو وہاں ٹھہرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسے قاتل اور مرتدّ کو قتل کرنا اور اگر ظلماً قتل کیا جا رہا ہے تو ایسا کرنے سے عملی طور پر اور یہ طاقت نہ ہونے کی صورت میں زبان سے روکا جائے، وگرنہ دل سے برا سمجھا جائے اور جس مقام میںیہ ظلم کیا جا رہا ہے، اس شرّ والی جگہ سے دور رہا جائے۔
حدیث نمبر: 6451
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دِمِهَا لِأَنَّهُ كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نفس کو بھی ظلماً قتل کیا جاتا ہے، اس کے ناحق خون کا حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلا شخص ہے، جس نے سب سے پہلے نا حق قتل کا طریقہ جاری کیا۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ مائدہ میں ہابیل اور قابیل کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، قابیل وہ پہلا شخص ہے، جس نے سب سے پہلے ناحق قتل کیا، چونکہ اس نے اس جرم کا آغاز کیا، اس لیے اس قسم کے ہر مجرم کی وجہ سے قابیل بھی گنہگار ہو تا ہے۔ اس واقعہ سے ہمیںیہ سبق حاصل کرنا چاہیے کہ ہم کسی شرّ والے کام کا سبب نہ بنیں، بلکہ امورِ خیر کو رواج دے کر اپنے لیے صدقہ جاریہ بنائیں۔
حدیث نمبر: 6452
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ قَتَلَهُ نَبِيٌّ أَوْ قَتَلَ نَبِيًّا وَإِمَامُ ضَلَالَةٍ وَمُمَثِّلٌ مِنَ الْمُمَثِّلِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روز قیامت لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخت عذاب اس آدمی کو ہوگا، جسے نبی نے قتل کیایا جس نے نبی کو قتل کیا ہو اور ضلالت و گمراہی کا پیشوا اور تصویریں بنانے والا۔
وضاحت:
فوائد: … انبیائے کرام کا سلسلہ منقطع ہو جانے کی وجہ سے ہم مستقل طور پر پہلے دو جرائم سے محفوظ ہو گئے ہیں، ہاں مسلمان کو چاہیے کہ وہ کسی کی گمراہی کا سبب نہ بنے، اگر خیر و بھلائی والے امور کو نافذ کر سکتا ہے تو ٹھیک، وگرنہ خاموشی اور لوگوں کے امور سے کنارہ کشی اختیار کرے، اس طرح تصویریں بنانے سے بھی باز رہے جو کہ اس دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے، ہمارے بچوں کی تعلیم کے آغاز میں ہییہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور آگے چل کر ایک مستقل شعبہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے، فَاِلَی اللّٰہِ الْمُشْکَیٰ (بس اللہ تعالی کی طرف ہیشکوہ ہے)، ہم اللہ تعالی سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔