کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جھوٹی گواہی کی قباحت کا بیان
حدیث نمبر: 6435
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ شَهِدَ عَلَى مُسْلِمٍ شَهَادَةً لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کے خلاف ایسی گواہی دیتا ہے کہ وہ مسلمان اس گواہی کا اہل نہیں ہوتا توہ ایسا شخص اپنا ٹھکانہ دوزخ سے تیار کر لے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان کے بارے میں فاسق یا بدکار ہونے کی گواہی دی جائے، جبکہ وہ اس سے بری ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القضاء والشهادات / حدیث: 6435
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن ابي ھريرة ولضعف خداش بن عياش العبدي البصري۔ أخرجه الطيالسي: 2594، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10617 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10625»
حدیث نمبر: 6436
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذُكِرَ الْكَبَائِرُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ وَشَهَادَةُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ وَقَالَ مَرَّةً أَنَا الْجُرَيْرِيُّ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ تَعَالَى فَذَكَرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کبیرہ گناہوں کا تذکرہ کیا گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا کبیرہ گناہ ہیں۔ آپ یہ بات ٹیک لگا کر بیان کر رہے تھے، پھر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور فرمایا: اور جھوٹی گواہی دینا، جھوٹی گواہی دینایا جھوٹی با ت کہنا (بھی کبیرہ گناہ ہے)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کلمے کو اتنی دفعہ دوہرایا کہ ہم یہ کہنے لگ گئے کہ کاش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو جائیں۔ ایک مرتبہ یوں بیان کیا کہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کی اطلاع نہ دے دوں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، … ۔ الحدیث
وضاحت:
فوائد: … قابل غور بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک اور والدین نافرمانی کا ذکر ایک بار کیا اور جھوٹی گواہی کی مذمت کو واضح کرنے کے لیے اس کا بار بار ذکر کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القضاء والشهادات / حدیث: 6436
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن ابي ھريرة ولضعف خداش بن عياش العبدي البصري۔ أخرجه الطيالسي: 2594، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10617 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20665»
حدیث نمبر: 6437
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَبَائِرَ أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ فَقَالَ الشِّرْكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ قَالَ قَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ قَالَ شُعْبَةُ أَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کبیرہ گناہوں کاذکر کیایا کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ سے آگاہ نہ کر دوں اور وہ ہے جھوٹی بات کرنا یا جھوٹی گواہی دینا۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میرا زیادہ خیال یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھوٹی گواہی کی بات کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القضاء والشهادات / حدیث: 6437
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5977، ومسلم: 88، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12361»
حدیث نمبر: 6438
عَنْ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ إِشْرَاكًا بِاللَّهِ ثَلَاثًا ثُمَّ قَرَأَ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ [الحج 30] ¤
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایمن بن خریم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے سامنے خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو!جھوٹی گواہی کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ دہرایا اور پھریہ آیت تلاوت فرمائی: بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القضاء والشهادات / حدیث: 6438
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ايمن بن خريم مخلتف في صحبته، وفاتك بن فضالة مجھول۔ أخرجه الترمذي: 2299، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18044 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18208»
حدیث نمبر: 6439
عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ عَدَلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ الْإِشْرَاكَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ [الحج 30]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی، پس جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر فرمایا: جھوٹی گواہی کو اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: جھوٹی بات سے بچو، اللہ تعالیٰ کے لئے یکطرفہ ہوجاؤ اور اس کے ساتھ شرک کرنے والے نہ بن جاؤ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القضاء والشهادات / حدیث: 6439
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة والد سفيان العصفري وحبيب بن النعمان الاسدي۔ أخرجه ابوداود: 3599، والترمذي: 2300، وابن ماجه: 2372 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19105»