کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: گواہی دینے والے کو لوگوں کے ڈر کی وجہ سے حق چھپانے سے ممانعت کا بیان اور (بغیر مطالبے کے) ثواب حاصل کرنے کے لیے شہادت دینے والے کی گواہی کا بیان
حدیث نمبر: 6430
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ فِي حَقٍّ وَفِي لَفْظٍ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا رَآهُ أَوْ شَهِدَهُ أَوْ سَمِعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی حق کو دیکھ لے یا اس پر موجود ہو یا اس کو سن لے تو لوگوں کی ہیبت اس کو اس چیز سے نہ روکنے پائے کہ وہ حق بات بیان کرے۔ ابو سعید نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث نہ سنی ہوتی۔
وضاحت:
فوائد: … ابو سعیدیہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس حدیث پر عمل کرنا بہت مشکل کام ہے، اس لیے اگر ان کو اس حدیث کا علم نہ ہوتا تو بہتر تھا۔
حدیث نمبر: 6431
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا أَوْ يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتلا نہ دوں کہ سب سے بہتر گواہ کون ہے، وہ وہ ہے جو مطالبہ کیے جانے سے پہلے گواہی دے دے۔
حدیث نمبر: 6432
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الشَّهَادَةِ مَا شَهِدَ بِهَا صَاحِبُهَا قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین گواہی وہ ہے جو گواہ مطالبے سے پہلے خود ہی پیش کردے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان احادیث میں جس شہادت کو بہتر قرار دیا ہے، اس کے دو محل ہیں: (۱) جب کسی کا حق غصب ہورہا ہو، جبکہ اس کے پاس کوئی اور گواہ نہ ہو تو جس آدمی کو معاملے کاعلم ہو، وہ از خود گواہی دے دے۔
(۲) اس شہادت کا تعلق طلاق، آزادی، وقف، عام وصیتوں اور حدود وغیرہ سے ہے، یعنی جس شخص کو امور کا علم ہو اور حاکم کے ہاں وضاحت کی ضرورت پڑ جائے تو وہ از خود حاکم کے پاس گواہی دے۔
جس شہادت کا تعلق محض کسی کے عیب کو ظاہر کرنے کے ساتھ ہو، وہاں خاموشی اختیار کرنی چاہیے، البتہ جہاں تک ممکن ہو، اس آدمی کو سمجھا دینا چاہیے۔
(۲) اس شہادت کا تعلق طلاق، آزادی، وقف، عام وصیتوں اور حدود وغیرہ سے ہے، یعنی جس شخص کو امور کا علم ہو اور حاکم کے ہاں وضاحت کی ضرورت پڑ جائے تو وہ از خود حاکم کے پاس گواہی دے۔
جس شہادت کا تعلق محض کسی کے عیب کو ظاہر کرنے کے ساتھ ہو، وہاں خاموشی اختیار کرنی چاہیے، البتہ جہاں تک ممکن ہو، اس آدمی کو سمجھا دینا چاہیے۔